دینی و اصلاحی سفر(کراچی)خانقاہ غرفۃ السالکین گلستانِ جوہر بلاک۱۲

لسانِ اختر، اخترِ ثانی،شیخ الحدیث، شیخ العلماء ،ترجمانِ اکابر،امیرِ محبت، قلندرِ وقت، عارف باللہ

حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم

----(بروز ہفتہ۳۰ نومبر تا  منگل۱۰ دسمبر ۲۰۱۹ء)----

----(کراچی آمد،استقبال،ملاقاتیں،رات گئے تک ملفوظاتِ دردِ محبت)----

۳۰ نومبر ۲۰۱۹ء بروز ہفتہ

الحمدللہ! آج بروز ہفتہ ۳۰ نومبر  کی رات لسانِ اختر، اخترِ ثانی،ترجمانِ اکابر، شیخ الحدیث، شیخ العلماء حضرت مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم کی کراچی آمد تھی، تقریباً ایک ہفتے سے ہمارے شیخ عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم نے مسجد اختر اور غرفۃ السالکین کے ایک ایک کونے کی  صفائی کروائی، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی تشریف آوری کا پینافلیکس مسجد اختر کے مرکزی دروازے پر لگوایا اور اپنے بیانات کی ترتیب کا پینافلیکس ہٹوادیا کہ بے ادبی ہے، سب جگہ رنگ کروایا، یہاں تک کہ پردے، دریاں، چادریں وغیرہ سب کو دھلوایا اور فرمایا کہ ہم سے اللہ والوں کی خدمت کا حق ادا نہیں ہوسکتا لیکن جتنا  ہمارے بس میں ہوسکےگا ہم کریں گے ہماری کوشش ہوگی کہ حضرت کو  کسی بھی بات سے تکدر  نہ ہو، ہر کوئی بس اِسی دھن میں مصروفِ تھا کہ جس جس کونے پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی نظر مبارک پڑے تو حضرت کا دل خوش ہوجائے، دعا مل جائے، غرفۃ السالکین میں گویا عید کا سماں تھا اور الحمدللہ  ۳۰ نومبر  کو ڈھاکہ بنگلہ دیش سے بذریعہ بنکاک تھائی ائیرلائن تقریباً آٹھ گھنٹے کا سفر کرکے  رات دس بج کر تیس منٹ پر کراچی ائیرپورٹ پر رونق افروز ہوئے،  بہت بڑی تعداد میں حضرت والا کے متعلقین زیارت و استقبال کے لیے ائیرپورٹ پر جمع تھے، جن میں مرشدی و مولائی عارف باللہ حضرت شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم، حضرت مولانا شاہین اقبال اثر صاحب دامت برکاتہم، حضرت صوفی ممتاز صاحب دامت برکاتہم، حضرت حافظ ضیاء الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم، جناب حافظ محمد احمدصاحب دامت برکاتہم،جناب عامر کمال صاحب مدظلہ اپنے متعلقین کے ہمراہ جوکہ تقریباً 250 احباب ہوچکے تھے، حضرت والا دامت برکاتہم کا شدت سے انتظار کررہے تھے، اور کئی لوگ ایسے تھے جنہیں انتظامیہ نے ائیرپورٹ کے اندر آنے کی اجازت نہیں دی تھی وہ  باہر ایک جگہ پر جہاں سے حضرت دادا شیخ کی گاڑی گذرنی تھی وہاں منتظر تھے،  حضرت دادا شیخ ساڑھے گیارہ بجے  ائیرپورٹ لاؤنچ سے باہر تشریف لائے، چہرہ پر نور ہی نور تھا ، ہجومِ عاشقاں نے حضرت کو گھیر لیا، استقبال کے لیے اتنے احبابِ محبت کو دیکھ کر حضرت کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا، حضرت کی زیارت سے  سب لوگ بزبان حال یہ شعر پڑھ رہے تھے ؂

صحنِ چمن  کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا..........وہ آگئے تو ساری بہاروں پہ چھاگئے

حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے کمالِ شفقت اور محبت سے کئی احباب سے معانقہ اور کئی احباب سے مصافحہ فرمایا! ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ امرد لڑکے مصافحہ نہ کریں، ہجوم بہت تھا اس لیے مصافحہ، معانقہ میں بہت دیر لگی، پھر انتظام والے ساتھیوں نے حضرت دادا شیخ کو گھیرے میں لے کر گاڑی تک پہنچایا، حضرت گاڑی میں تشریف فرما ہوئے، حضرت کے ساتھ بڑی تعداد میں گاڑیاں اور موٹر سائیکلوں کا قافلہ تھا جن میں ائیرپورٹ سے باہر منتظر احباب کے شامل ہوجانے سے  مزید اضافہ ہوگیا تھا

(۱) حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے بہت آرام دہ گاڑی کا انتخاب کیا گیا تھا،جو ہمارے پیر بھائی ریحان فصاحت بھائی چلا رہے تھے اور حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم آگے سیٹ پر تشریف فرما تھے اور  پچھلی نشست پر ہمارے شیخ دامت برکاتہم اور جناب عامر کمال مدظلہ بیٹھے ہوئے تھے،گاڑی غرفۃ السالکین خانقاہ کی طرف روانہ  ہوئی،  گاڑی میں حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے ہمارےحضرت شیخ دامت برکاتہم اور حضرت عامر کمال مدظلہ سے محبت بھری باتیں فرمائیں! حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا ارادہ تھا کہ مسجد اختر میں احباب سے مل کر تیار ہوکر پھر حضرت شیخ العرب والعجم مجددِ زمانہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خاندانی قبرستان میں حضرت والا کے مزار مبارک پر حاضری دیں گے،   اس کے علاوہ بھی کچھ باتیں ہوتی رہیں، یہاں تک کہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم تقریباً سوا بارہ بجے مسجد اختر پہنچ گئے، یہاں تک کی  آڈیو منسلک ہے:

(۱) کراچی ائیرپورٹ سے  مسجد اختر گلستانِ جوہر تک گاڑی میں 

(۲)حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کی گاڑی مسجد اختر کے مرکزی دروازے پر پہنچی!کئی سو احباب حضرت کے استقبال کے لیے مسجد اختر میں مرکزی دروازے کے اندر جمع تھے۔حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم گاڑی سے باہر تشریف لائے، اور باہر موجود محبین کو سلام کیا،  سب احباب نے جواب دیا،  ماشاء اللہ! ماشاء اللہ! کا نعرہ لگایا، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کو مسجد اختر سے ہوتے ہوئے غرفۃ السالکین لے جایا گیا، راستے میں احباب سے ملاقاتیں ہوئیں، جناب عامر کمال صاحب حضرت کو خاص احباب کا تعارف  کرواتے رہے، اور ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم اپنے گھر کے افراد کا تعارف اور ملاقات کرواتے رہے،  یہاں تک کہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اپنے حجرہ مبارک میں پہنچ گئے، حضرت کی راحت کے خیال حجرہ ٔ مبارک کے پردے کھینچ دئیے گئے! یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۲) مسجد اختر میں استقبال اورخاص احباب سے تعارف، غرفۃ السالکین حجرۂ مبارک میں آمد

 (۳)حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم جب غرفۃ السالکین میں اپنے قیام کی جگہ پر پہنچ گئے جو دراصل ہمارے شیخ و مرشد عارف باللہ حضرت شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کا حجرۂ مبارک تھا جس کو حضرت نے اپنے شیخ کی راحت کےلیے خالی کرکے خود ایک چھوٹے کمرے میں منتقل ہوگئے اور حضرت دادا شیخ کے لیے ہر طرح کی راحت کا انتظام اسی کمرہ میں کیا  گیا غرفۃ السالکین میں ہونے والی تمام مجالس اسی کمرے میں ہوتی رہیں، اس کمرے کے سامنے شیشے کا دروازہ ہے جس پر پردے ڈلے رہتے ہیں جو حضرت کی اجازت سے کھول دیے جاتے تھے اور زیارت کے مشاق حضرات باہر تشریف رکھتے تھے اور کچھ کو اندر کمرے میں جگہ بھی مل جاتی تھی، حضرت کا کمرہ جب بھر جاتا تو پھر احباب باہر بیٹھ کر حضرت دادا شیخ کی زیارت سے مستفید ہوتے اور بذریعہ مائیک ملفوظات بھی سنتے رہتے، خیر جب حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  حجرہ ٔ مبارک میں پہنچ گئے اور کمرے کے پردے کھینچ دئیے گئے! جناب عامر کمال صاحب نے  چند خاص احباب کا تعارف کروایا، حضرت دادا شیخ  مدظلہ نے قبلہ رُخ ہوکر زم زم پیا اِسی دوران بنگلہ دیش کے دیگر مہمان   حضرت کے صاحبزادے مفتی محمد حسن مدظلہ،تین اور خدام بھی کمرے میں تشریف لے آئے،  چونکہ  حضرت دادا شیخ کو نماز عشاء ادا فرمانی تھی جس کے بعد پھر قبرستان حضرت والا ؒ کی قبر پر حاضری کا ارادہ تھا، اس لیے تیار ہونے لگے، سب احباب کمرے سے نکل  گئے،دیگر احباب بھی اپنا سامان اپنے اپنے مہمان خانوں میں منتقل کرکے تیار ہونے لگے۔ تیار ہوکر حضرت دادا شیخ کے حجرۂ مبارک  میں مسافر حضرات نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی، یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۳) غرفۃ السالکین حجرۂ مبارک میں آمد! کچھ احباب سے تعارف، مختصر قیام کے بعد قبرستان حاضری کی تیاری

(۴)نماز عشاء باجماعت ادا کرنے کے بعد حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم بمع احباب حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے خاندانی قبرستان واقع متصل مدرسہ و جامع مسجد  امداد سندھ بلوچ سوسائٹی روانہ ہوگئے، سب سے پہلے حضرت والاؒ کی قبر پر حاضری دی اور دیر تک زیر لب ایصال ثواب فرماتے رہے جس میں وقفے وقفے سے رونے کی آواز بھی سنائی تھی، رخسارِ مبارک پر آنسو رواں تھے، اپنے محبوب مرشد کی محبتوں،شفقتوں، نوازشوں، صحبتوں میں گذرے ہوئے دن یاد آآکر آنسوؤں کو مزید رواں کررہے تھے، عجیب پُرنور منظر تھا، کچھ دیر بعد حضرت  والا کے قدموں کی طرف حضرت پیرانی صاحبہؒ کی قبر پر حاضری دی اس کے بعد صدیق زمانہ حضرت والا میر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر حاضری ہوئی، پھر دریافت فرمایا کہ مفتی ارشاد صاحب کی قبر کہاں ہے، عرض کیا گیا تو حضرت مفتی ارشاد اعظم رحمہ اللہ کی قبر مبارک پر بھی ایصال ثواب کیا۔ اس کے بعد فرمایا "بہت بہترین طریقے سے قبرستان کا انتظام کیا گیا ہے، سب قبریں سیدھی سیدھی" واپسی پر ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم کے بعض رشتے داروں سے تعارف ہوا، مصافحہ ہوا، قبرستان حاضری کے بعد   غرفۃ السالکین واپسی پر ملاقات سے رہ جانے والے کچھ احباب سے تعارف ہوا، ان کو دعائیں دیں۔ حجرہ میں پہنچ کر حضرت کو کھانا تناول فرمانا تھا۔ یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے:

(۴)حضرت والا ؒ کے خاندانی قبرستان میں حاضری، ایصال ثواب اور غرفۃ السالکین واپسی

(۵)رات تقریباً سوا ایک بجے قبرستان سے واپسی ہوئی پھر رات کھانے کا نظم تھا،حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے ساتھ سب بنگلہ دیشی مہمانوں نے اور ہمارے شیخ دامت برکاتہم  اور دیگر خدام  نے کھانا تناول فرمایا، کھانے کے اختتام کے قریب حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے بہت ہی مفید  ارشادات  فرمانا شروع کیے، اس مجلس میں ہمارے حضرت شیخ دامت برکاتہم، حضرت مولانا شاہین اقبال اثر صاحب مدظلہ، حضرت صوفی ممتاز صاحب دامت برکاتہم، حضرت عامر کمال صاحب مدظلہ، حضرت مفتی نعیم صاحب دامت برکاتہم، حضرت حافظ ضیاء الرحمٰن صاحب مدظلہ، حضرت حافظ محمد احمد صاحب مدظلہ  اور دیگر بہت سے احباب شامل تھے، یہ مجلس دو حصّوں میں ہوئی ، ایک دستر خوان پر  شروع ہوئی اس حالت میں کہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کے کھانے کے بعد ہاتھ بھی نہیں دھوئے تھے کہ دین کی باتیں بیان کرنا شروع کردیں سبحان اللہ! تقریباً پون گھنٹے بعد حضرت ہاتھ دھونے کےلیے اُٹھے، دسترخوان اُٹھادیا گیا  اور پھر حضرت دادا شیخ اُسی خاص صوفے پر تشریف فرماہوئے جس پر حضرت والا رحمہ اللہ اور حضرت میر صاحب رحمہ اللہ تشریف فرماہوتے تھے، حضرت دادا شیخ نے مزید ملفوظات بیان فرمائے، حضرت کا کمرہ خدام سے بھرا ہوا تھا، معلوم ہوا کہ کمرے سے باہر  بھی بہت رش ہے اور سب حضرت کے ملفوظات سننے کے مشتاق اور زیارت کے منتظر ہیں تو ڈھائی بجے رات حضرت کی اجازت سے حجرۂ مبارک کھول دیا گیا،حجرہ کے سامنے ہال میں لوگ ہی لوگ تھے،احباب کی اتنی  تعداد کو دیکھ کر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم حیرت سے بہت خوشی کا اظہار فرماتے رہے دوسری مجلس کے یہ ملفوظاتِ دردِ محبت تقریباً پونے چار بجے تہجد کے وقت تک جاری رہے، ملفوظات بہت ہی عالمانہ شان کے تھے، سب احباب مست و سرشار تھے، پھر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے خدام سے فرمایا کہ اب آرام کرنا چاہیے، فجر کی نماز بھی ہے! یوں مجلس اختتام پذیر ہوئی! یہاں تک کی آڈیو منسلک ہے، شروع کا کچھ حصہ ریکارڈ نہ ہوا:

(۵)قبرستان سے واپسی غرفۃ السالکین میں کھانے پر اور فراغت کے بعدرات پونے چار بجے تک ملفوظاتِ دردِ محبت: دسترخوان پر متفرق باتیں، دعوت اور اپنے گھر پر کھانا کھانے کی سنت دعاؤں کے حوالے سے اہم نصیحت فرمائیں،  دونوں دعائیں پڑھنی چاہییں، ایک دعا سے حق تعالی کا شکر ادا ہوگا اور دوسری دعا سے میزبان کو دعا دے دیں گے، اس پر ایک حدیث بیان فرمائی، جس میں دعوت کے کھانے کے موقع پر حضورﷺ نے خوب اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء فرمائی  اس حدیث کا حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے   عاشقانہ ترجمہ و تشریح دیر تک  فرماتے رہے:جس کے ذیل میں ارشادات فرمائے: دعاؤں و اذکار کی احادیث سے سرسری نہیں گذرنا چاہیے،حالانکہ اس میں بہت گہرے مضامین ہیں ، بقسم بخدا! ان احادیث میں تعلق مع اللہ کے اعلیٰ مضامین ہیں!۔ان احادیث کو پوری تشریحات کے ساتھ پڑھانا چاہیے۔۔۔بندے کا مزاج حق تعالیٰ نے ایسا بنایا ہے کہ جیسے ہی کوئی تکلیف پہنچتی ہے دل کا رُخ اللہ کی طرف ہوجاتا ہے۔۔۔مصائب میں یہ خاص بات ہوتی ہےکہ جستجؤ رب کی توفیق ہوتی ہے۔۔۔۔قلب حق تعالیٰ کی طرف راغب ہوتا ہے،انابت عنایت ہوتی ہے۔۔دعاؤں کا ظاہری ترجمہ تو ہم لوگ پڑھ لیتے ہیں اس کی گہرائی کیسے معلوم ہو؟ کوئی عارفِ کامل ہو جس کی روح حق تعالیٰ سے چپکی ہوئی ہو تو عالمِ بالا سے اُس کے قلب میں علوم نازل ہوتے ہیں،سینہ چاہیے ایسا کہ عشق الٰہی کی آگ والا پھر میں بتاؤں محبت کی شرح!۔ "الحمدللہ " ہم کہتے تو ہیں لیکن الحمدللہ میں بہت گہرے مضمون ہیں!روح کو مست کرنے والے جب ہی تو حق تعالیٰ نے قرآن پاک کے بالکل شروع میں  فرمایا "کہو الحمدللہ!" بندگی کا پہلا سبق عطافرمایا اور کہا کہ کہو الحمدللہ! بقسم بخدا! "الحمدللہ رب العالمین" میں بحرِ رخار موجود ہے!۔۔۔عذر کی وجہ سے کرسی پر نماز پڑھنا اور زمین پر نماز پڑھنے سے متعلق اپنا معمول بیان فرمایا اور پھر مفتیان کرام کی بہت تعریف فرمائی کہ اس ضمن میں اُمت کے لیے آسانی کا راستہ نکالا۔۔۔حضورﷺ نے فرمایا کہ شریعت کی شرح اس طرح سے کرو کہ آسانی معلوم ہو۔آئمہ دین نے یہی کام کیا ہے۔احکام ِ فقہ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کتنا آسان ہے!فقہائے اُمت کے احسانات کا تذکرہ فرمایا کہ سمندر کی گہرائیوں سے یہ سارے جوہرات نکال کر ہمیں عطا فرماگئے۔۔۔حضرت مفتی نعیم مدظلہ کی تعریف فرمائی ۔۔۔پھر حضرت والا ؒ کے محبت کے تذکرہ اور واقعات فرمائے۔۔کہ ایک دفعہ حضرت والا لیٹے ہوئے تڑپ کر شیخ کی یاد میں فارسی اشعار پڑھ رہے تھے۔۔۔حضرت والا ؒ دین کے ہر اعتبار سے اتنے کامل تھے کہ عجیب و غریب تھے۔اطاعتِ الٰہی ، اطاعتِ رسول ﷺ میں کمال رکھتے تھے اور اپنے اکابر کی محبت اور عظمت اور اُن پر فدا ہونے میں کمال درجہ رکھتے تھے، اپنے شیخ پر فدا ہونے میں کمال رکھتے تھے، ایسا تو بہت ہی کم نظر آیا۔۔۔۔ شیخ کے صحبت یافتہ اور فیض یافتہ  ہونے میں فرق۔۔۔شیخ کی محبت مل گئی تو دونوں جہاں کی سعادات اور کامیابی  کے سارے دروازے ان کے لیے کھل گئے!۔۔۔ حضرت والا نے فرمایا کہ اللہ کی محبت بقدرِ حُبِّ شیخ عطا ہوتی ہے!۔۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جس کو دو باتیں حاصل ہوں (۱) حُبِّ شیخ(۲) اتباع سنت ، تو اُن کی زندگی کے  ظلمات بھی سب انوار ہیں اور جن کو اِن دو باتوں میں بھی ایک بھی حاصل نہ ہو تو اُن کے انوار بھی ظلمات ہیں۔۔۔۔بعض بندوں سے حق تعالیٰ ، لوگوں کو اللہ  سے جوڑنے کا کام لیتے ہیں!۔۔ اپنے طالب علمی کے زمانے میں  اساتذہ کی شفقتوں اور محبتوں کا تذکرہ فرمایا اور شدید بیماری کے ایام میں امتحانات دینے کا محبت بھرا واقعہ سنایا!۔۔ اور  حضرت دادا شیخ نے اپنے مصلح اول حضرت مولانا صلاح الدین صاحب ؒ کو اصلاحی خط لکھا تھا جس میں اپنی کمزوری، بیماری ، بےبسی، بے کسی کاذکر فرمایا تھا کہ ایسی حالت میں کیسے دین کا کام ہوگا تو جواب آیا جس کا ایک جملہ یاد رہا "مولائے کریم چاہتے ہیں تو تنکے سے بھی پہاڑ کا کام لے لیتے ہیں" اس بات پر حضرت دادا شیخ نے یہ نصیحت فرمائی " اس لیے اپنی ذات پر ، اپنے محنتوں پر، اپنے مجاہدات  پر، اپنی صلاحیتوں اور ملکہ پر بالکل نگاہ نہیں ہونی چاہیےاللہ تعالیٰ کی ذات پر نگاہ رہے پھر حق تعالیٰ کرم فرماہی دیتے ہیں، اُن کی شان بہت عجیب ہے!۔۔خود حق تعالیٰ فرماتے ہیں  جس نام سے اُن کو پکارو! تمہارے محبوب کے تو بہت اچھے اچھے نام ہیں۔ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم اتنی رات گئے کثیر تعداد میں احبابِ محبت کو دیکھ کر بہت مسرور ہوئے اس پر فرمایا کہ عشاق کا عشق جب جاگ اُٹھتا ہےاور حق تعالیٰ جس کو بیان کا شرف عنایت فرماتے ہیں اُس کو جوش آجاتا ہے، اِس سے اور تقویت ہوجاتی ہے کہ قدردان مل گئے۔۔۔اس پر حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم  نے ایک لطیفہ سنایا، جس پر مفتی نعیم صاحب نے بھی ایک صاحب کی پرلطف بات پیش فرمائی سب خوب لطف اندوز ہوئے۔۔۔ حضرت دادا شیخ نے اذکار کی اہمیت  بہت جامع نصیحت فرمائی کہ گناہ چھوڑنے کے ساتھ اوراد و  ذکر اللہ کے جو معمولات ہیں اُن کو کرنا چاہیے، اس میں غفلت نہیں چاہیے۔۔ذکر اللہ کے ساتھ دوام اطاعت لازمی ہے! ۔۔۔ ایمان  کیا چیز ہے ؟ اللہ تعالیٰ سے محبت کا رشتہ!محبت کی قید میں ایسا پھنسے کہ پھر رہائی نہ ہو۔۔ حضرت تھانویؒ کا ملفوظ:"تعلق مع اللہ دولتِ عظیم ہے اور طریق اس کے حصول کا دوامِ طاعت اور کثرتِ ذکر ہے"۔۔۔۔مقامِ نبوت اور مقامِ ولایت  کاذکر فرمایا!۔۔۔ حضورﷺ کا حق تعالیٰ سے خاص تعلق کا ذکر فرمایا!۔۔۔ خلوت میں حق تعالیٰ سے خوب محبت کا معاملہ کروپھر جلوت میں خلوت کے انوارات برسیں گے۔۔۔ تقریباً ایک گھنٹے کی  مجلس کے بعد حضرت دادا شیخ  نےاپنے طویل سفر کے حالات بیان فرمانے لگے اور فرمایا کہ یہاں مجلس میں بیان کا بالکل ہی ارادہ نہیں تھا اچانک یہ مضمون چل پڑا اللہ تعالیٰ کی فضل سے اور میرے شیخ کی برکت سے، عشاقِ حق کی برکت سے حق تعالیٰ کی محبت کے پیغامات پہنچانے کی توفیقات سےحق تعالیٰ نوازش فرماتے ہیں کوئی اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھےیہ ہلاکت ہے! بربادی ہے!۔۔ جب محبوبِ پاک سے تعلق کسی عارف کے واسطے سے ہوجاتا ہے ہمیشہ وہ شکر گذار رہتا ہے ناشکری نہیں کرسکتا اورتوفیق ِ شکر بھی حق تعالیٰ ہی عطا فرماتے ہیں عجیب معاملہ ہے!۔۔۔ سجدہ  کے انوارات اور برکات کا تذکرہ فرمایاایک ہی سجدے میں بندہ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔۔دم بھر میں سارے عالم سے الگ ہوکر محبوبِ پاک تک پہنچ جاتا ہےیعنی معراجِ قربِ الٰہی کی بلندی پر عروج ہوجاتا ہے ایک ہی سجدہ میں !بشرطیکہ گناہوں سے الگ رہے۔پھر اُس کو اس کا احساس بھی عطا فرماجائے گا!۔۔۔ وہ چاہتے ہیں تو اُن کے چاہنے کی برکت سے اُن کے قدم پر کوئی سربسجود ہوسکتا ہے! سر جھکتا ہے جب کہ وہ سر جھکادیتے ہیں!۔۔۔ ایمان کی دولت، عظمت اور شان بیان فرمائی۔۔۔ حضرت والاؒ کا ایک زبردست شعرسنایا : تیری عطائے خواجگی میری ادائے بندگی۔۔لیکن میرا قصور بھی میری ادا سے کم نہیں! اللہ اکبر!اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت والا کس مقام کے عارف تھے!۔ حضرت والا کے اشعار کیا ہیں انوار ہی انوار ہیں!۔۔۔عجیب دعا: اے اللہ اپنے تعلقِ خاص کی مضبوط ترین  رسی کے ساتھ ہمیں اپنی ذاتِ پاک کے ساتھ باندھ  لیجیے اور مقید فرمالیجیے! میرے شیخ آسان راستہ فرماتے تھے  کہ اُن سے مانگتے تو رہو جب اُن کی عنایت ہوجائے اور اپنا بنانے کا فیصلہ فرمالیں گے تو جناب تمام ادائیں بھی عنایت فرمادیں گے اور یہ بھی ہے جو اللہ کے ہیں اُن کے پاس جا کر اللہ سے مانگو ! کیونکہ وہاں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت برستی ہے۔۔۔۔اللہ والوں کے تذکرے سے بھی رحمتِ خاص نازل ہوتی ہے اور جس پر رحمتِ خاص نازل ہوتی ہے وہ ظالم اللہ کا بن ہی جاتا ہے۔۔اللہ کے محبوبین کی قدردانی کرنے والوں پر حق تعالیٰ بہت زیادہ کرم کے ساتھ متوجہ ہوجاتے ہیں۔۔۔محبوبین کے قدردانوں کی خود حق تعالیٰ قدر فرماتے ہیں۔۔۔مجلس سے اُٹھنے کی دعا کا اہتمام کرنے کی نصیحت فرمائی حدیث کی اِس دُعا کے ۲ جز ہیں ایک یہ کہ  اچھی مجلس چاہے نماز ہو، تلاوت ہو، نیک کام ہو  پر مہر  لگ جاتی ہے اور لغو مجلس کا  کفارہ بن جاتا ہے، جب اس حدیث میں (۲) جز ہیں تو پھر صرف کفارۂ مجلس کی دعا نہیں بلکہ دونوں بات ہیں۔۔حضرت بڑے پیر صاحب جیلانی رحمہ اللہ  کا واقعہ بیان فرمایا کہ ۴۰ برس تک اللہ کی رحمت و مغفرت کا مضمون بیان فرماتے رہےایک دن انہوں نے عقل سے سوچا کہ کچھ عذاب کا بیان بھی کیا جائے کہیں رحمت و مغفرت کے مضامین کی وجہ سے کوئی گناہوں پر جری نہ ہوجائیں !۔۔۔اس پر حق تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی  کہ کیا ۴۰ برس میں ہمارے رحمت کے خزانے ختم ہوگئے جو تم نے عذب کا مضمون بیان کیا! اس پر حضرت جیلانیؒ نے خوب معافی مانگی۔۔دعا  کرنے کے بارے میں حضرت والا ؒ کی شان بیان فرمائی کہ حضرت کا دل اتنا وسیع تھا  ، کیا شان تھی! اللہ تعالیٰ کی محبت کا کیا بحرِ دخار تھا قلب اطہرِ شیخ !فرماتے تھے کہ یااللہ جو مجھے دیکھ لے اس کو آپ جذب فرمالیجیے! سبحان اللہ! پھرمجلس سے اُٹھنے کی دعا پڑھی !احباب نے عر ض کیا کہ عظیم الشان نفع ہوا!  اس وقت رات کےساڑھے تین بجے ہورہے تھے تہجد کا وقت تھا ،چونکہ حضرت دادا شیخ بیمار ہیں! اس لیے  فرمایا کہ ہم فجر یہیں حجرہ میں ادا کریں گے ، کچھ خاص احباب ملنے آئے ان سے  کچھ مزاح بھی ہوا! پھر یہ پُرنور مجلس اختتام پذیر ہوئی!

مجلس کے بعد حضرت دادا شیخ چار بجے بستر پر آرام فرماہوئے، ، حضرت کے آرام فرمانے کے بعد ہمارے حضرت شیخ عارف باللہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم نے حضرت کے متعلقین اور اپنے پیر بھائیوں کی راحت کے لیے انتظامات کا دوبارہ جائزہ لیا، جب تک حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم کا قیام غرفہ میں رہا روزانہ حضرت شیخ کا یہ معمول رہا  کہ خود بھی   اپنے پیر بھائیوں، احباب کی راحت و سہولت کا خیال فرماتے رہے اور متعلقین کو بھی خاص طور  پر ہدایت فرمائی کہ حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم سے تعلق رکھنے والے ہر ایک کا خوب خیال رکھنے میں جان لڑانی ہے، ماشاء اللہ! احباب بھی خوب چوکس رہے، رات گئے تک مختلف خدمتوں میں مصروف رہتے تھے، تو  حضرت شیخ دامت برکاتہم باوجود تھکن کے انتظام کا خود جائزہ لیا بستر، تکیہ ،کمبل وغیرہ کو دیکھا کہ سب کو مل گئے اور اس بات کا  خاص خیال فرمایا کہ حضرت دادا شیخ  کے ہجرۂ مبارک کے قریب کوئی ایسا شخص نہ سوئے جس کو خراٹوں کی عادت ہو جس سے  حضرت کی نیند متاثر ہو، سب انتظامات سے تسلی فرما کر حضرت شیخ اپنے عارضی کمرہ جو دراصل مفتی نعیم صاحب کا کمرہ تھا، اس میں آرام فرماہوئے،( ۱۱ روز تک روزانہ  حضرت شیخ کا مستقل قیام غرفۃ السالکین میں  رہا اور روزانہ  یہی معمول رہا کہ جب تک حضرت دادا شیخ آرام  نہیں فرماتے سو نہ جاتے ، حضرت شیخ   خود آرام نہیں فرماتے تھے، حاضرِ خدمت رہتے اور تقریباً روزانہ رات کے تین بج جاتے)  رات سونے سے پہلے کمرہ میں موجود احباب سے نہایت خوشی کے ساتھ باتیں فرماتے رہے اور کل صبح ناشتے، کھانے کے انتظامات  کی ترتیب معلوم کرتے رہے اور خاص طور پر احباب کو نصیحت فرمائی کہ حضرت کے کمرے کے باہر شور اور آواز بلند نہ ہونے پائے، تقریباً پونے پانچ بجے حضرت شیخ دامت برکاتہم سوگئے تھے، صرف ایک گھنٹہ کی نیند کے بعد پونے چھ بجے بیدار ہوئے اور فجر سے پندرہ منٹ پہلے مسجد میں حاضر ہوگئے، حضرت دادا شیخ دامت برکاتہم نے ضعف کی وجہ سے اپنے کمرہ میں جماعت سے نمازِ فجر ادا فرمائی، ہمارے شیخ دامت برکاتہم نے فجر مجلس میں رات گئے تک حضرت دادا شیخ کی عظیم الشان مجلس کا تذکرہ فرمایاکہ "حضرت والارحمۃ اللہ علیہ اور حضرت میر صاحبؒ کے بعد آج دیکھا کہ روحانیت کیا ہوتی ہےاتنا لمبا سفر حضرت والا  مولانا شاہ عبد المتین صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا اور پھر بھی آکر آرام نہیں فرمایابلکہ رات  پونے چار بجےتہجد کے وقت تک اللہ تعالیٰ کی محبت کی  باتیں فرماتے رہے" سبحان اللہ

پہلے دن کی تمام آڈیوز کو محفوظ کرنے کے لیے کلک کیجیے

بقیہ دنوں کی رُوداد کےلیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے

یکم دسمبر بروز اتوار.......۲ دسمبر برو ز پیر.......۳ دسمبر بروز منگل.......۴ دسمبر بروز بدھ........۵ دسمبر بروز جمعرات

۶ دسمبر بروز جمعہ.......۷ دسمبر برو ز ہفتہ.........۸ دسمبر بروز اتوار.........۹ دسمبر بروز پیر.........۱۰ دسمبر بروز منگل