حیدرآبادآخری مجلس ۱۹۔اکتوبر ۲۰۱۴ءحضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا معیار اتباعِ سنت ہے !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

  حضرت والامجلس میں رونق افروز ہوئے اور سلام فرمایا، مولانا ابراہیم کشمیری صاحب کو اشعار سنانے کو فرمایا ،مولانا نے اپنی پرسوز آواز میں اشعار پیش کئے ،جس کی الہامی  تشریح حضرت والا درمیان درمیان میں فرماتے رہے،تقریباً ایک گھنٹے تک یہ سلسلہ رہا۔ بعد ازیں حضرت اقدس دامت برکاتہم نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب’’ درسِ مثنوی ‘‘   پڑھ کر سنائی۔زیں حضرت اقدس دامت برکاتہم نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب’’ درسِ مثنوی ‘‘   پڑھ کر سنائے،آخر تک یہی معمول رہا ۔حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب’’ درسِ مثنوی ‘‘   پڑھ کر سنائے،آخر تک یہی معمول رہا ۔

ملفوظات

جو اللہ والے ہوتے ہیں وہ مدینہ منورہ کی زیارت کو نعمتِ عظمی سمجھتے ہیں

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی محبت رکھتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں اور یہی کامل ایمان

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی علامت اتباع ہے۔

حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا معیار اتباعِ سنت ہے !

جو عاشق ہوتا ہے وہ محبوب کی ہر ادا پر عمل کرتا ہے۔

سنتوں پر عمل کرنا یہی علامت ہے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی!!

جو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلے گا وہ اللہ تعا لیٰ کا محبوب ہوجائے گا۔

جو حضور صلی اللہ علیہ سلم کے خلاف زندگی گذر گئی اب اس سے توبہ کرلو تو تم بھی مغفور ہوجاؤ گے۔ احد کے شہیدوں کے خون ِ وفا سے سبق لو !! اور تم بھی اِسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و شریعت پر عمل کرو۔ تو مدینہ منورہ میں حاضری کا سب سے بڑا فائدہ حاصل ہوجائے گا۔

 جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر چلتا ہے تو اگر وہ عجم میں بھی ہے تو اُس کا یہ وطن بھی گویا مدینہ منورہ بن جاتا ہے۔  یعنی اگرچہ مدینہ سے دور ہے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کی برکت سے یہ مدینہ سے قریب ہوگیا۔

حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ اپنا ذاتی ہدیہ بھی شعبہ نشر و اشاعت ، کتابو ں کی اشاعت میں لگاتے تھے۔

اہل اللہ سے محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کی علامت ہے، اور جس کو کسی بھی اللہ والے سے محبت نہیں ہوتی تو سمجھو لو کہ اللہ تعالیٰ کی محبت اُس کو حاصل نہیں ہے۔

خدا سے غافل ہوجانے کا نام ’’دنیا‘‘ ہے!!