حیدرآباداتوارمجلس ۱۹۔اکتوبر ۲۰۱۴ء۔صرف اللہ سے دل لگاؤ!

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

شروع  میں جناب فیروز میمن صاحب نے ضروری اعلان فرمایا    حضرت والامجلس میں رونق افروز ہوئے اور سلام فرمایا، ثروت صاحب کو اشعار سنانے کو فرمایا ،  حضرت والا نے حسنِ پرستی ، عشقِ مجازی کی رد کے بارےمیں مفید ارشادات فرمائے، ا س کے بعد  جناب ثروت صاحب نے اشعار سنائے،جس کی الہامی  تشریح حضرت والا درمیان درمیان میں فرماتے رہے، بعد ازیں حضرت اقدس دامت برکاتہم نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب’’ درسِ مثنوی ‘‘   پڑھ کر سنائے،آخر تک یہی معمول رہا ۔آج کی مجلس  کا دورانیہ بہت طویل تھا تقریباً ۲ گھنٹے تک مجلس جاری رہی اور آخر میں حضرت نےایک صاحب کے درخواست پر بیعت بھی فرمایا۔عد ازیں حضرت اقدس دامت برکاتہم نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب’’ درسِ مثنوی ‘‘   پڑھ کر سنائے،آخر تک یہی معمول رہا ۔حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب’’ درسِ مثنوی ‘‘   پڑھ کر سنائے،آخر تک یہی معمول رہا ۔

ملفوظات

حضرت والا کا سب سے بڑا کارنامہ حسن پرستی اور بدنظری  کے خلاف اعلانِ جہاد ہے،اس دور کا سب سے بڑا مرض خصوصاً حسن پرستی ، عشق مجازی ہے۔یہ اتنا بڑا دھوکہ تھا کہ لاکھوں کی زندگیاں اس سے تباہ ہوگئیں حضرت والا نے کسی کی پروا نہیں کی ہمیشہ اسی کا رد فرمایا،  حضرت فرماتے تھے کہ میں اپنی عزت کو داو ٔپر لگا کراس مضمون  کوبیان کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا،  پھر آپ نے دیکھا کہ اسی کی برکت سے لاکھوں کی زندگی بدل گئیں اور کیسا انقلاب آیا، اور یہ تو کچھ ہیں اور  جن کا معلوم نہیں ہوسکا  وہ  پتہ نہیں کتنے لاکھوں  ہیں۔

حسن پرستی کو چھوڑ دو پورے دین پر عمل کرنا آسان ہوجائے گے۔

حضرت والا کا فیض جاری و ساری ہے، لاکھوں روپے کی کتابیں ۲۰ سال سے مفت تقسیم ہورہی ہیں۔

حضرت کی مواعظ میں اللہ تعالیٰ نے صحبتِ شیخ کا اثر رکھا ہے۔

سمجھ لو کہ اگر اس بدنظری عشق مجازی کو نہ چھوڑا تو کتنی ہی عبادت کرلو لیکن تمہارا شمار فاسقین میں ہی ہوگا۔

جس کو مجدد سے مناسبت نہیں اُس میں کہیں کجی ہوتی ہے۔مجدد کا مقام بیان فرمایا۔

آنکھوں کا زنا ہے بدنظری۔ اور یہ حرام ہے۔

باطنی  امراض کا اگر علاج نہ کرایا تو ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔

عین عالمِ شباب میں حسن کو  اللہ کے لئے  چھوڑو پھر دیکھنا تم کو ایسا قرب اور مزہ نصیب ہوگا کہ دنیا کے تمام شرابوں اور لذتوں سے بڑھ کر مزہ ملے گا۔ کیونکہ حسینوں پر مرنا  بیووقوفی ہے۔اِن کالے بالوں سے دھوکہ نہ کھاؤ ،  چہرے پر جھڑیاں پڑنے والی ہیں ۔بوڑھی ہونے والی ہیں ! اس لیےجوانی میں ہی اگر تم نے ان مرنے والوں سے نجات حاصل کرلی تو ایسا قرب نصیب ہوگا کہ جس کا مزہ صرف آپ کو ہی معلوم ہوگا ۔

فرمایا : بوڑھوں کو حسن سے زیادہ بچنا ضروری ہے، کیونکہ جب بوڑھا ہو جاتا ہےتو خواہشات کو روکنے کی طاقت بھی کمزور ہوجاتی ہیں۔

اللہ سے دل لگاؤ، فانی حسینوں سےدل نہ لگاؤ،حسینوں سے دل بچاؤ ، پھراللہ  ملیں گے!!

اللہ والوں کے پاس بیٹھ کر دیکھ لو کہ ان کے پاس کیسا سکون ہے۔

حسینوں کا حسن بدلنے والا ہے،جو حسین شکل تھی ایک وقت آئے گا کہ  اُس کو دیکھ کر بھی گھن آئے گی۔

بدنظری سے بچنے میں تھوڑا سا مجاہدہ کرکے دیکھ لو پھر ایسا مزہ آئے گا کہ تمہارا دل ہی اس کو محسوس کرے گا۔ اس پر عظیم الشان مثال بیان فرمائی۔ جب خاک الود پانی تمہیں مست کررہا ہے توجب تم گناہوں سے بالکل پاک ہوجاؤں گے تو  پھر ایسا مزہ حاصل ہوگا کہ اس کا مزہ تم ہی لوٹو گے۔

جس وقت بھی اللہ کو دل دے دو ، وہ گھڑی بہت مبارک ہے۔ مایوسی کی ضرورت نہیں ہے اگر ماضی گناہوں میں گذر گئی تو  معافی مانگ لو  اور اگر حقوقِ مالی  ہیں تو اُس کو ادا کرو۔

حسن مجازی کے گناہ حقوقِ مخلوق نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ کا حق ہے، اس لئے اُنہیں سے معافی مانگ لو، مخلوق سے مانگنے کی ضرورت نہیں!!

اللہ والوں کے عشق ِ الٰہی کو زوال نہیں آتا، آخر تک مستی رہتی ہے۔

حسینوں کے پیچھے پھرنے سے سر پر جوتیاں پڑتی ہیں اور اللہ والوں کے جوتے اُٹھائے جاتے ہیں!!

مثنوی شریف الہامی اشعار ہیں۔