اس زمانے کا سب سے بڑا اور مہلک ترین مرض بدنظری وعشقِ مجازی ہے!
::::::::::::::اتوارمجلس۱۵ فروری ۲۰۱۵ء:::::::::::::::

مجلس محفوظ کیجئے

تفصیلات

۱۵ فروری ۲۰۱۵ء صبح کی مجلس  میں حضرت دامت برکاتہم نے انتہائی درد  وغم سے اس زمانے کے سب سے مہلک مرض یعنی عشق مجازی، حسن پرستی، بدنظری سے متعلق حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کا تالیف کردہ رسالہ’’ بدنظری و عشقِ مجازی کی تباہ کاریاں اور اس کا علاج‘‘ پڑھ کر حاضرینِ مجلس کو سنایا اور درمیان درمیان میں قیمتی نصائح سے بھی نوازا۔

:::::::::::::قیمتی نصائح::::::::::::::

  اس زمانےکاسب سے بڑامرض،  سب سے مہلک مرض جو دین و دنیا  دونوں کو تباہ کردیتا ہےوہ بدنگاہی، حسن پرستی اور عشقِ مجازی ہے۔بدنگاہی کے کیا معنی ہیں نامحرم عورت نامحرم مرد کو دیکھے اور نامحرم مرد عورت کو دیکھے، ایک دفعہ دیکھنے سے دل میں آگ لگ جاتی ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ ( سورۃ النور: آیت ۳۰)کہ اے نبی ﷺ آپ مسلمانوں سے کہہ دیجئےکہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں ۔

اگر یہ معمولی حکم ہوتا  تو قرآن پاک میں نازل نہ ہوتا ، کیونکہ عشق مجازی اور بدنگاہی یہی اصل وجہ ہے تمام خرابیوں کی!!  اور عشق مجازی کیا ہے کسی مرد کو نامحرم عورت سے عشق ہوجائے، کسی نامحرم عورت کو مرد سے عشق ہوجائے، یہ حرام ہے ! اور اِس کی وجہ بدنگاہی ہے ، حسن پرستی اِسی دیکھنے سے پیدا ہوتی ہے، اگر دیکھے گا نہیں  کسی لڑکی کو  اور دیکھے گی نہیں کسی لڑکے کو ، تو عشق کیسے ہوگا!

جتنے بھی اللہ کے اولیاء اور اللہ کی ولیہ  گذری ہیں انہوں نے اپنی نگاہ کی حفاظت کی ہے، جتنے اولیاء اللہ گذرے ہیں وہ نگاہوں کی حفاظت سے اللہ والے بنے ہیں !

اس زمانے میں بے پردگی ، فحاشی اور عریانی عام ہوگئی اور لوگ اتنے بڑے حکم کو جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں نازل کیا قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ ( سورۃ النور: آیت ۳۰)۔اے نبی ﷺ آپ مسلمانوں سے کہہ دیجئےکہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں ۔اس بے پردگی کی وجہ سے لوگ اس حکم سے غافل ہوگئےاور  مرد وعورتوں میں اختلاط ہوااور نتیجہ یہ ہوا کہ آپس میں  عشق پیدا ہوگیا۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ دن رات کی بےچینی، ہروقت تو ضروری نہیں کہ وہ آپ کو مل جائے اِس لئے دن رات کی بےچینی رہتی ہے یہاں تک کہ نیندیں حرام ہوجاتی ہیں، ماں باپ سے لڑنے لگتے ہیں اُن کو بُرا بھلا کہنے لگتے ہیں۔ 

عشق مجازی کے بعد جو شادیاں اورتعلقات ہوتے ہیں اُس کا انجام سوائے خرابی کے اور کچھ نہیں ، اس لئے کہ جن لوگوں نے ایسی حرکت کی تو آخر میں پچھتائے، کیونکہ جذبات میں آکر شادی کرلی اور یہ نہیں دیکھا کہ لڑکی کا کیا کردار ہے، بس عشق کا بھوت سوار ہوگیااور اُس سے شادی کرلی اور نتیجہ آخر میں یہ ظاہر ہوا کہ یہ تو بہت بدکردار اور بےوفا ہےصرف اپنی غرض کے لئے اُس نے شادی کی تھی۔

لہٰذا جو اِس مرض میں مبتلا ہیں حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے اس زمانے میں  اِسی  شعبہ دین  یعنی بدنگاہی ، عشق مجازی اورحسن پرستی کی تردید کی ہے اُس کی برائی بیان کی ہے ! اس کا علاج لکھا ہے! پوری زندگی حضرت والا کی اِسی کی اصلاح میں گذری !! یہ اتنا اہم مرض ہے!! سینکڑوں جوانیاں محفوظ ہوگئیں۔ حضرت کی کتابیں اب بھی پڑھیں ہر سطر میں  عشق مجازی کا علاج اور اس کی مذمت اور اس کی  تباہ کاریاں لکھی ہیں!

اپنے آپ کو اگر تباہی سے بچانا ہے ،  تو اللہ   کے حکم پر عمل کرو!   اپنے دل کاخون کرلو!!   اپنی حرام خواہش کو مار لو! تو اللہ تعالیٰ کا ایسا قرب نصیب ہوگا اور ایسی عظیم الشان ولایت نصیب ہوگی کہ  عشق مجازی کی ساری لذت  کو بھول جاؤ گے۔ ( جوش سے فرمایا ) اللہ تعالیٰ تمام لذات کے حامل ہیں جب وہ دل میں آئیں گےتو دنیا کی تمام لذتیں بھی دل میں آئیں گی اور جنت کی لذتیں بھی دل میں آئیں گی ۔

اس لئے جو لوگ اِس میں مبتلا ہوگئے ہیں وہ اپنی ہمت کو استعمال کریں   اور چھوڑ دیں ورنہ نیندیں حرام ، بےچینی ، ہر ایک سے بداخلاقی اور آخر میں کیا ہوتا ہے جب نیند پوری نہیں ہوتی، دماغ خراب ہوجاتا ہے پاگل ہوجاتا ہے ، بہت سے لوگوں سے خودکشیاں کرلیں، حرام موت مر گئے اور ہمیشہ کے لئے تکلیف میں مبتلا ہوگئے۔اللہ محفوظ رکھے!! آمین

·     پاگل خانوں میں آج کل نوّے فیصد عشقِ مجازی کے مریض ہیں۔

·     جو اللہ کے حکم کو توڑے گا ، وہ چین سے نہیں رہ سکتا۔

·     اللہ تعالیٰ کے قرب کی ٹھنڈک دائمی ہے۔

ایک دھوکہ شیطا ن یہ دیتا ہے کہ ہمیں اُس سے محبت ہے شہوت کی وجہ سے نہیں ہے ، ہم تو اُس سے پاک محبت کرتے ہیں ، اُس کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ لیکن ذرا غور کرو اور فکر کرو!  تو پتہ چلے گا یہ  محبت کی تہہ میں کیا چیز چھپی ہوئی ہے، یہ حرام لذت چھپی ہوئی ہے۔جو اِس وقت پاک محبت کی شکل میں آرہی ہے ، محبت اس وقت بھی پاک نہیں ہے! نامحرم عورت سے باتیں کرو گے  تو مذی آجائے گی کہ نہیں !! تو  یہ محبت کیسے پاک ہوگئی!!   اس کا انجام بدفعلی ہے۔

اس  لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی حکم دے دیا کہ تم نگاہوں کی حفاظت کرلو ’’ یغضو من ابصارھم ویحفظو فروجھم‘‘ کہ نگاہوں کی حفاظت کرلو اور شرم گاہ کی حفاظت کرلو!! ۔  تو معلوم ہوا   جو نگاہوں کی حفاظت کرے گا اس کی شرم گاہ محفوظ رہے گی، جو دیکھےگا وہ یقینا ایک دن بدفعلی میں مبتلا ہوگا۔ عقل کے ناخن لو اور اس گندے فعل سےدور رہو۔۔۔ چین کی زندگی، آرام کی زندگی، راحت کی زندگی، اطمینان کی زندگی صرف اِسی پر موقوف ہے!! کہ آپ لوگ اس وقت اس کا خاص اہتمام کریں کہ نگاہوں کی  مکمل حفاظت  ہو!

عشق مجازی کی لذت میں بے اطمینانی اور تباہی چھپی ہوئی ہے۔آخر انجام یہی ہوتا ہے کہ خاندان سے چھپ کےلڑکی بھاگ گئی یا لڑکا اُس کو لے کر بھاگ گیا!! یہ عزت کی بات ہے؟؟؟  اس لئے جو اپنے بزرگوں کا اور چودہ برس سے مسلمانون کا طریقہ ہے اور سب سے اچھا وہی ہے کہ ماں باپ جو رشتہ تلاش کرتے ہیں وہ شادیاں کامیاب رہتی ہیں۔اور جو اِس طرح سے رومینٹک کرکے اپنی پسند کی کرتے ہیں اُن کو ہم نے یہاں دیکھا ہے  سخت پچھتاتے ہیں ، کیونکہ بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو بہت ہی بد مزاج ہے۔

سینکڑوں واقعات یہاں ایسے آئے ہیں کہ کسی نے کہا کہ ہم نے شادی کی تھی پہلے تو بہت محبت سے پیش آتی تھی کہ میں آپ کے بغیر رہ نہیں سکتی تو پھر اِس سے شادی کرلی، شادی کے بعد پندرہ بیس دن تو ٹھیک رہی اُس کے بعد اُس نے اپنے پَر نکالے ناخن نکالےاور شوہر کو ذلیل کرنا شروع کیااور کہا کہ تو کس قابل ہے میں تجھ سے زیادہ پڑھی لکھی ہوں۔ اِسی طرح بہت سے مرد ہیں دھوکہ دے کر شادی کرلی بعد اُس کو کہا کہ تمہارے ساتھ گزارہ نہیں ہوگاتم میں تو بہت خرابیاں ہیں!تمہارے اخلاق اچھے نہیں ہیں۔ اصل میں یہ تولذت پرستی ہوتی ہے ، ہوس پرستی ہے، شیطنت ہے، شیطان کی راہ جو چلتا ہے وہ چین سے نہیں رہ سکتا !!

     اللہ کی راہ یہ ہے کہ نگاہوں کی حفاظت کرو، مردوں سے عورتیں بچیں ، عورتوں سے مرد بچیں  یہ راستہ تو اللہ و رسول کا بتایا ہوا ہے اور یہ دوسرا راستہ یہ  شیطان کا ہے ۔ شیطان تو ہمارا ازلی دشمن ہے وہ ہمیں یہ دیکھاتا ہے کہ’’ ارے بھئی اللہ کے راستے کو چھوڑ ونعوذباللہ یہ تو بہت خشک راستہ ہے ، تم ذرا یہاں کی لذتیں اُٹھا کر دیکھو، اِن حسینوں سے محبت کرکے دیکھو‘‘!!! (جوش سے فرمایا )۔بس سمجھ  لو!! یہ راستہ شیطان  کا ہے !! جہنم میں لےجانے والا ہے !!بس اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جاسکتا !! اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے!!