مجلس۷ فروری ۲۰۱۵ء: شیخ کی رائے کے سامنے اپنی رائے کو فنا کرو!

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

مجلس کے آغاز میں جناب ثروت صاحب نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار سنائے، کچھ ہی دیر میں الحمدللہ حضرت والا میر صاحب دامت برکاتہم مجلس میں رونق افروز ہوئے ، سلام فرمایا اور نشست پر تشریف فرما ہوکر کتاب’’ درس ِ مثنوی مولانا رومؒ‘‘ پڑھ کر سنائے، یہ کتاب حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کےاُن دلپذیر دروسِ مثنوی شریف پر مشتمل  ہے جو چھ ممالک کے مختلف علماء کرام کی درخواست پر حضرت والا نے   ۱۹۹۷ ء میں اختتام پر ارشاد فرمایا تھا۔
حضرت والا میر صاحب دامت برکاتہم نے درد بھرے انداز میں مثنوی کے اشعار اور اُن کی الہامی تشریحات حاضرینِ مجلس  کو پڑھ کر سنائی ، اور تسہیل میں قیمتی ملفوظات سے بھی نوازا۔ آج کی مجلس کا دورانیہ تقریباً ۱ گھنٹہ رہا۔

اہم مضامین

·    شیخ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

·    شیخ کی غلامی و اتباع سے علم پر عمل نصیب ہوتا ہے۔

·    شیخ سے قوی تعلق سے اہل اللہ کے دل  کا تعلق مع اللہ مرید کے دل میں منتقل ہوجاتا ہے۔

·    بغیر تقویٰ کے ولایتِ خاصہ حاصل نہیں ہوسکتی۔

·    بغیر پیر کے کوئی اللہ والا نہیں بنا! ،    اللہ کا راستہ طے کرنےکے لئے شیخ کا تعلق ضروری ہے۔

·    اصلاح نفس شیخ ہی سے ہوگی۔زندگی کے ہر موڑ پر شیخ تصادم سے بچاتا ہے، کبھی جاہ کا موڑ آتا ہے، کبھی باہ کا موڑ آتا ہے۔اگر شیخ سے تعلق نہیں ہوگا تو تصادم ہوجائے گا۔

·    مرشد کے سائے میں جیو ، اُس کی روک ٹوک سے نہ گھبراؤ یہی تمہیں عجب و کبر کے ایکسیڈینٹ سے بچائے گی۔

·    شیخ سے خوب مضبوط تعلق ہو، اُس کی رائے میں اپنی رائے کو فنا کردو۔

·    شیخ کے مشورے  اگرعمل اگر نہیں کیا تو سمجھ لو تم نے تعلق ِ شیخ کا حق ادا نہیں کیا۔

·    شیخ کے سامنے اپنی رائے کو مٹاؤ ، اُس کی رائے میں فنا ہوجاؤ۔

·    اگر اللہ کا راستہ طے کرنا چاہتے تو کسی اللہ والے کا دامن پکڑ لو اور اُس کے پیچھے پیچھے چلو۔

·    شیخ  کی خصوصیات مرید میں مضبوط تعلق سے منتقل ہوتی  ہیں۔

·    شیخ کی رائے سے آگے نہ بڑھو! اُس کی رائے میں اپنی رائے کو فناکرو۔

·    اپنے نفس کی بری خواہشات کا قتل کردو!! اور ڈرو مت!! بظاہر تو یہ خواہشات کا خون ہے لیکن  جب نفس کی سلطنت میں بری خواہشات کا خون کردو گے تو تمہیں ایسی  حیاتِ ایمانی  عطا ہوگی کہ تمہیں اپنی جان میں ہزاروں جان محسوس ہوں گی۔

·    جس  دن اپنے نفس کو مار دیا اُس دن تم جی اُٹھوگے اور ایک عالَم تم سے زندہ ہوگا۔

·    اللہ پر مرنا اور جینا  کیا   ہے،گناہوں سے  بچنے کی تکلیف اُٹھانا یہ اللہ پر مرنا ہے اور عبادات کی لذت اللہ پر جینا ہے!

·    سالک کو چاہیے ہر وقت ہوشیار ہے۔ کیونکہ  جہاں غیراللہ آیا وہ دل اللہ کے قابل نہیں رہتا !