مجلس۱۰ فروری ۲۰۱۵ء: اہل اللہ کےدرجاتِ قرب!

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

مجلس کے آغاز میں جناب تائب صاحب دامت برکاتہم کےاپنے اشعارِ عارفانہ پیش فرمائے۔اشعار کے بعد حضرت والا دامت برکاتہم نے بوجہ ضعف اپنے کمرۂ مبارک میں حاضرینِ مجلس کو بلوالیا اور وہیں سے نیا وعظ، مواعظِ اختر نمبر ۴۱ بعنوان’’ غمِ راہِ مولیٰ کی عظمت ‘‘ جناب کمال صاحب سے پڑھوایا، اور درمیان درمیان میں ملفوظات بھی ارشاد فرمائے۔آج کی مجلس کا دورانیہ تقریباً ایک گھنٹہ رہا۔

اہم ملفوظات

    کیفیاتِ احسانیہ اہل اللہ کے سینوں سے ملتی ہے۔

گناہوں سے بچنے سے ہر شخص کو کیفیتِ احسانیہ حاصل ہوسکتی ہے۔

    سبحان اللہ العظیم ، سبحان ربی الاعلیٰ،   والا  مضمون   ہر نماز سے پہلے ایک پڑھ لیا کیجئے پھر دیکھیں کیسا مزہ آتا ہے نماز میں۔

****اہم مضمون: مواعظِ اختر نمبر ۴۱، ’’غمِ راہِ مولیٰ کی عظمت‘‘ صفحہ ۶ تا ۷****

’’اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ مدارس سے اور کتب بینی سے علومِ کمیاتِ شرعیہ ملتے ہیں اور اہل اللہ کے سینوں سے کیفیاتِ احسانیہ ملتی ہیں کہ کس درد ِ دل سے سجدہ کیا جائے اور کس دردِ دل سے رکوع ہو۔ اصل میں روح سجدہ کرتی ہے، عام لوگ تو سجدہ میں سر رکھتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ سجدہ میرے سر کا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کے عاشقین اور عارفین کو مشاہدہ ہوتا ہے کہ میری روح ساجد ہے کیونکہ اگر روح نہ ہوتی تو کیا آپ سجدہ کرسکتے تھے؟ اعتقادی طور پر یہ سمجھنا اور بات ہے کہ روح کی برکت سے سجدہ ہورہا ہے مگر اہل اﷲ کو اپنی روح حالتِ سجدہ میں نظر آتی ہے، رکوع میں ان کو اپنی روح عظمتِ الٰہیہ کے سامنے جھکی ہوئی نظر آتی ہے، جب  وہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہتے ہیں تو جانتے ہیں کہ اے عالی شان پالنے والے آپ کی ادائے تربیت تمام عیوب سے پاک ہے، جس کو جس وقت جیسے پالاوہی اس کے لئے بہتر ہے، کبھی غریب رکھا، کبھی امیر بنایا، اور جوانی میں اکثر مشایخ کو غریب رکھا جاتا ہے تاکہ ان کی جوانی مال و دولت کے نشہ میں غلط استعمال نہ ہو جائے۔
        تو اللہ تعالیٰ سجدہ میں  سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی  کہلا رہے ہیں کہ ہم نے تم کو جس طرح پالا، جس عمر میں جیسے پالا اور جن وسائل سے پالا اور تربیت کے جو اغذیاء اور اسباب دئیے وہ اس وقت تمہارے مناسبِ حال تھے، اس لیے کہو کہ آپ عالی شان پالنے والے ہیںاور پاک ہیں، آپ کے پالنے میں کوئی عیب نہیں تھا، آپ نے ہمیں جس طرح پالا  ہمارے لئے وہی مفید تھا اور سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کا عاشقانہ ترجمہ ہے کہ اے میرے عظیم الشان پالنے والے! آپ پاک ہیں۔
        اب میں ایک مراقبہ بتا تا ہوں کہ زمین چوبیس ہزار میل کا ایک گولہ ہے، اس گولہ میں سمندر بھی ہیں اور پہاڑ بھی، اسی گولہ میں ایشیا اور امریکہ اور افریقہ بھی ہیں اور ان سب کا کتنا وز ن ہے۔ اگر ہم آپ گولہ بنا کر ایک رومال چھوڑ دیتے ہیں اور اس کو حکم بھی دیتے ہیں، شانِ جلالی دکھاتے ہیں کہ خبردار گرنا مت، لیکن رومال گرتا ہے کہ نہیں؟ اور اللہ تعالیٰ کی دنیا کا یہ گولہ کبھی نہیں گرتا۔ تو فرض کرو کہ اللہ تعالیٰ نے خلا میں ہم کو ایک تخت دے دیا، مصلیٰ دے دیا اور ہمارے سامنے زمین کا چوبیس ہزار میل کا گولہ بغیر کسی ستون کے موجود ہے جس میں سمندر بھی ہے اور سورج اور چاند ستاروں کی روشنی بھی آرہی ہے اور ہم اتنے بڑے مالک کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ مراقبہ کرو پھر دیکھو کہ نماز میں کتنا مزہ آتا ہے۔
‘‘

 اپنی بیویوں سے بہت ہی نرمی اور محبت کا برتاؤ  رکھو!جائز باتوں میں سختی مت کرو اِس سے اُسے گھٹن ہوتی ہے۔

شیخ کی صحبت میں جاتے رہو نفع سے خالی نہیں ، چاہے ذکر کرنے کی ابھی ہمت نہیں ہورہی ۔ آتے جاتے رہو  انشاء اللہ تعالیٰ  ایک دن ذاکر و شاغل ہوجاؤ گے۔