مجلس ۱۹جولائی ۲۰۱۴ء ۔صحبتِ شیخ سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں خلاصۂ مجلس: محبی و محبوبی مرشدی و مولائی حضرت والا میر صاحب دامت برکاتہم تشریف آوری میں تاخیر تھی،مجلس کے شروع میں جناب اثر صاحب دامت برکاتہم نے اپنے اشعار سنائے۔ اس کے بعد جناب تائب صاحب دامت برکاتہم نے اپنے عاشقانہ ، عارفانہ اشعار پیش فرمائے ، اس دوران حضرت والا مجلس میں حضر ت والا مجلس میں رونق افروز ہوچکے تھے، اشعار کے اختتام پر حضرت والا دامت برکاتہم نے خزائنِ شریعت و طریقت سے ملفوظات پڑھ کر سنانا شروع کئے ساتھ ساتھ اُن کی تسہیل بھی فرماتے رہے اور ملفوظات سے بھی نوازتے رہے۔ یوں یہ پرنور مجلس جو تقریباً ۵۱منٹ پر مشتمل تھی اختتام کو پہنچی ۔ ملفوظات خزائن شریعت و طریقت قیمت کا معیار نسبت سے ہے: جو بلاک شاہی محل میں لگ جا تے ہیں وہ محل کی نسبت سے قیمتی اور باعزت ہو جا تے ہیں اور شاہی محل کا جز کہلا تے ہیں اور جو بلاک کسی بھنگی کے مکان میں لگتے ہیں وہ ظاہری قیمت اور مادّی لحاظ سے اگر چہ مسا وی ہیں لیکن نسبت حاصل نہ ہونے سے ذلیل اور بے قیمت ہو تے ہیں۔ اسی طرح جو خواہشات حق تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کر دی گئیں وہ شاہی نسبت کی وجہ سے قیمتی ہوگئیں۔ اسی طرح جو جوانی عبادت میں لگ گئی وہ بھی قیمتی ہو گئی اور سایۂ عرش کی مستحق ہوگئی ۔ جاہل صوفیاء کی گمراہی کا سبب: جو صوفی علماء سے متنفر، متو حش اور کنارہ کش ہو گا وہ گمراہ اور زندیق ہوجائے گا۔ قاعدہ مسلمہ ہے کہ جو قانون دانوں سے نہ ملے گا وہ جہل کے سبب لاقانونیت میں مبتلا ہو جائے گا۔ علماء آخر ت کے قانون داں ہیں ۔ ان سے دور رہنے والا صو فی بوجہ جہل قانونِ خداوندی کی خلاف ورزیوں میں مبتلا ہو جائے گا۔ ہجر ت کا حاصل: ہجر ت کا حاصل دین کا تحفظ اور معاصی و منکرات سے بچنا ہے۔ اگر یہ حاصل نہیں تو صورتِ ہجرت ہے حقیقتِ ہجرت نہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے: (( اَلْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ الْخَطَایَا وَالذُّنُوْبَ )) مہاجر وہ ہے جو گناہوں کو ترک کر دے اور دوسری حدیث میں ہے: اَلْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ السُّوْءُ۔(مسند احمد) مہاجر وہ ہے جو برائیوں کو تر ک کر دے۔ پس معاصی و گناہ کا ترک کرنے والا افضل ہے اس سے جو ترکِ وطن تو کر ے مگر گناہ نہ ترک کر ے۔ قرآنِ پاک کے علوم کی جامعیت و بلا غت: قرآن پاک میں بعض مقام پر جہاں دو امر مذکور ہیں تو اول مامور اور مقصود ہے اور ثانی اس کا معین اور ذریعہ وصول و حصول ہے مثلاً: ﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَۃً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوْا اللّٰہَ کَثِیْرًا﴾ میں امر ثبات علی الجہاد کا مقصودہے اور کثرتِ ذکر اﷲ یہاں اس کے لیے معین اور ذریعۂ حصول ہے یعنی آیتِ شریفہ میں جہاد میں ثابت قدم رہنے کا حکم مقصود ہے اور اس کا ذریعۂ حصول کثرتِ ذکر ہے ۔مراد یہ ہے کہ استقامت بدونِ کثرتِ ذکرِ حق ممکن نہیں۔ اسی طرح دوسر ے مقام پر حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ﴾ تو یہاں بھی امرِ اوّل یعنی تقویٰ مقصود اور مامور بہ ہے اور امرِثانی یعنی معیتِ صالحین کاملین تقویٰ کا ذریعۂ حصول ہے۔ چنانچہ عادت اﷲ یہی ہے کہ بدون شیخِ کامل کسی کو بھی تقویٰ میسر نہیں ہوتا۔ علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ شیخ کی محبت ایک بے بہا شے ہے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا اس سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں چنانچہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس دعا کی تلقین کی: اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُّبَلِّغُنِیْٓ اِلٰی حُبِّکَ اے اﷲ! میں آپ سے آپ کی محبت کا طالب ہوں اور اس کی محبت کا بھی جو آپ کا محب ہو اور اس عمل کی محبت کا بھی جو آپ کی محبت سے قریب تر کر دے۔ یہاں محب ربانی یعنی عاشقِ حق کی محبت کو ان اعمال پر مقدم کیا گیا جو حق تعالیٰ کی محبت سے قریب کر تے ہیں جس سے حب شیخ کی اہمیت ظاہر ہو تی ہے کیونکہ جس کو واصل باﷲ جان کر رہنما بنایا گیا ہو اس کی محبت جتنی بھی زیادہ ہو گی اسی قدر جلد وصول الی اﷲ کی ضامن ہو گی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اس عاشقِ حق کی محبت کی برکت سے اعمالِ تقرب کی محبت اور توفیق ہوگی جو ذریعہ ہوگا وصول الیٰ اﷲ کا۔ پس اہل اﷲ کی محبت اعمالِ تقرب کی بھی ضامن ہے اور اﷲ تعالیٰ کی محبت کی بھی ضامن ہے۔ پس حُبِّ شیخ سے بڑھ کر محبتِ حق کے حصول کے لیے کوئی عمل مو ٔثر نہیں۔ یہی راز ہے جو حکیم الامت مجدد الملت حضرت تھا نوی رحمۃ اﷲ علیہ نے کتبِ تصوف میں ذکر فرمایا کہ شیخ کی صحبت میں فرائض و واجبات و سنن مؤکّدہ پر اِکتفا کرے اور نوافل و اذکار ملتوی کردے۔ قرآنِ پاک کی آیت سے دلیل اِنّی کی مثال: اﷲ تعالیٰ ار شاد فرما تے ہیں: ﴿ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰ تِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِلَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ﴾ اور اہل عقل کو آگے اَ لَّذِیْن سے رفع ابہام فرما کر واضح فرمایا کہ یہاں مراد مفکرین سائنس وماہرین ارضیات و فلکیات نہیں بلکہ وہ لو گ ہیں جو قیام و قعود و علیٰ جنوب ہمارا نام لیتے ہیں۔ یہاں مراد کثرتِ ذکر ہے اور یہ بدون محبتِ خاص کے ممکن نہیں۔ پس عاشقینِ حق حقیقی اُولُوالْاَلْبَابِ یعنی اہلِ عقل ہیں اور یہ قسم دلیل انی کہلاتی ہے کیونکہ معلول ظاہر (کثرتِ ذکر) سے علتِ مخفیہ (محبت قلبیہ) پر اِستدلال فرمایا گیا ہے۔ حدیثِ پاک سے دلیل لِمّی کی مثال: اسی طرح دلیل لمی کی مثال بھی حق تعالیٰ نے اس حدیث سے دل میں عطا فرمائی : مَنْ اَحَبَّ شَیْئًا اَکْثَرَ ذِکْرَہٗ یہاں علت مخفیہ سے معلول ظاہر پر استدلال فرمایا گیا ہے۔ محبت علت اور تکثیرِ ذکر معلول ہے یہ دلیلِ لمی کہلاتی ہے۔ ایک معقولی دلیل کی مثال قرآن و حدیث سے: عقل اور عشق میں نسبت تساوی ہے۔ یہ کلیان متساویان ہیں۔ معقولی دلیل جو حق تعالیٰ نے اس فقیر کے قلب میں عطافرمائی ۔ اُولُو الْاَ لْبَابِ کون ہیں ؟ اَ لَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ …الٰخ اہلِ عقل کثرتِ ذکر اﷲ والے ہیں ۔ دلیلِ صغریٰ آیت اَ لَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِھِمْ اور ہر کثرتِ ذکر والا اپنے مذکور کا محب ہوتا ہے۔ دلیل کبریٰ مَنْ اَحَبَّ شَیْئًا اَکْثَرَ ذِکْرَہٗ (الحدیث) نتیجہ بعد حذفِ حدِّ اوسط ہر عقل والا محب ہے اپنے مذکور کا یعنی اﷲ کا ۔ پس جو عاقل ہے عاشقِ حق ہے اور جو عاشق نہیں غیر عاقل ہے۔ عاقل کا ہر فرد عاشقِ حق ہے اور عاشقِ حق کا ہر فرد عاقل ہے۔ مثنوی کے ایک شعر سے عام مخصوص منہ البعض کی مثال: مولانا رو می ار شاد فرما تے ہیں ؎ یا کریم العفو ستار العیوب کرم صفتِ عام ہے، عفو پر بھی اور اس کے غیر پر بھی اس کا اطلا ق ہو تا ہے۔ یہاں مولانا نے عفو کو مضاف الیہ مخصص بنا کر اس کرمِ عام کو عام مخصوص منہ البعض بنا دیا کہ قرینۂ مقام صفتِ عفو کے ظہور کو مقتضی ہے۔ ذکرِ قلیل کی مثال اور اس کا نقصان : بعض لو گ تھوڑے ذکر پر قناعت کرتے ہیں لیکن یہ منا فقین کی علامت ہے: ﴿وَلَا یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ اِلَّا قَلِیْلًا﴾(سورۃ النساۗء، آیت:۱۴۲) وہ اﷲ کو بہت کم یا د کر تے ہیں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اﷲ علیہ نے فضائلِ ذکر میں لکھا ہے کہ زیادہ ذکر کرنے والا نفاق سے بری لکھا جاتا ہے۔ قلیل ذکر کرنے والوں کی مثال تھو ڑ ے پانی میں رہنے والی مچھلیوں کی سی ہے جو گرمی کے زمانے میں پانی کے شدید گرم ہوجانے سے بے ہو ش ہوجا تی ہیں اور شکاری ان کا شکار کر لیتے ہیں کیونکہ قلیل ذکر سے نور بھی قلیل پیدا ہو تا ہے اور قلیل نور میں رہنے والی ارواح آ فاتِ خارجیہ سے متأثر ہو جا تی ہیں اور معاشرہ کے زہریلے اثرات ان کو ہلاک کر دیتے ہیں اور کثیر ذکر کرنے والے یعنی دل و جان سے اﷲ تعالیٰ پر فدا ہونے والوں کی مثال گہر ے دریا میں رہنے والی مچھلیوں کی سی ہے کہ سورج کی شعاعوں سے سطحِ آب جب گرم ہو جا تی ہے تو وہ غو طہ لگا کر دریا کی گہرائی میں چلی جا تی ہیں اور ٹھنڈ ے پانی میں پناہ لے لیتی ہیں۔ یہی حال ان لوگوں کا ہے جو کثرت سے اﷲ کا ذکر کر تے ہیں یعنی قلباً اور قالباً خدائے تعالیٰ پر فدا ہیں، ہمہ وقت طا عت میں غرق اور معاصی سے کنارہ کش ہیں اور خطائوں پہ اشکبار اور نالہ زن ہیں، ان کا دریائے نور اتنا گہرا ہو تا ہے کہ معاشرہ کے زہریلے اثرات ان پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ کثرتِ ذکر سے مراد صرف ذکرِ لسانی نہیں ہے بلکہ ذکر سے مراد یہ ہے کہ قلب و قالب، اعضاء و جوارح، ظاہر و باطن سب تابع فرمانِ الٰہی ہوں۔ اسی پر اطمینانِ قلب موعود ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا ار شاد ہے: ﴿ اَ لَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ﴾ خوب کان کھول کر سن لو کہ دلوں کا اطمینان صرف اﷲ کی یاد میں ہے۔ صاحبِ تفسیرِ مظہری نے بِذِکْرِ اللّٰہِ کی تفسیر فِیْ ذِکْرِ اللّٰہِ کی ہے یعنی اتنا کثرت سے اﷲ کو یا د کرے کہ ذکر کے نور میں غر ق ہو جائے کَمَا تَطْمَئِنُّ السَّمَکَۃُ فِی الْمَاۗءِ لَابِالْمَاۗءِ جیسا کہ مچھلیاں بالماء نہیں فی الماء سکون پا تی ہیں یعنی پانی کے ساتھ نہیں بلکہ پانی میں غرق ہو کر سکون پاتی ہیں مثلا ً اگر کسی مچھلی کا پورا جسم پانی میں ڈوبا ہو لیکن سر یا جسم کا کوئی تھو ڑا سا حصہ پانی سے باہر ہو تو وہ بے چین ہو گی اور اس کی حیات خطرہ میں ہوگی۔ اسی طرح مو من جب سر سے پیر تک نورِ ذکر میں غرق ہو تا ہے تو اطمینانِ کامل پا تا ہے اور اگر کوئی عضو بھی ذکر سے غافل یا اﷲ کی نا فرمانی میں مبتلا ہے تو اس کا قلب بے چین اور حیاتِ ایمانی خطرہ میں ہوگی۔ پس بِذِکْرِاللّٰہِ سے مراد فِیْ ذِکْرِ اللّٰہِ ہے جس کا حاصل غر ق فی النور ہو تا ہے یعنی اﷲ کو اتنا کثرت سے یاد کر ے کہ ذکر میں غر ق ہو جائے ؎ ہم ذکر میں ڈوبے جاتے ہیں ذکر سے غرق فی النور ہونا مطلوب ہے جس کی تائید مندرجہ ذیل حدیث سے بھی ہو تی ہے جس میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا مانگی ہے: ((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا وَّعَنْ شِمَالِیْ نُوْرًا وَّمِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا وَّ مِنْ اَمَامِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا وَّ فِیْ عَصَبِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ لَحْمِیْ نُوْرًا وَّفِیْ دَمِیْ نُوْرًا وَّفِیْ شَعْرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَشَرِیْ نُوْرًا وَفِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا وَاَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْنِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ مِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا وَّمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا اَللّٰھُمَّاَعْطِنِیْ نُوْرًا)) ترجمہ: اے اﷲ! عطا فرما میرے دل میں نو ر اور میری بینائی میں نور اور میری شنوائی میں نور اور میری داہنی طرف نور اور میرے بائیں طرف نور اور میرے پیچھے نور اور میرے سامنے نور اور عطا فرما میرے لیے ایک خاص نور اور میرے اعصاب میں نور اور میرے گو شت میں نور اور میرے خون میں نور اور میرے بالوں میں نور اور میرے پو ست میں نور اور میری زبان میں نور اور مجھے نور عظیم عطا فرما اور مجھے سراپا نور بنا دے اور کر دے میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور ۔ یااﷲ! مجھے نور عطا فرما۔اسی کو مولانا رومی فرما تے ہیں ؎ نورِ او در یمن و یسر و تحت و فوق اﷲ کا نورمیرے دائیں بائیں نیچے اوپر ہے اور میرے سر اور گردن میں مانند طوق ہے۔ ملفوظات اللہ والوں کی محبت کی برکت سے نیک اعمال کی محبت ہوتی ہے۔شیخ سے جڑ جاو ، تویہ محبت تم کو نیک اعمال اور اللہ تعالیٰ سے جوڑ دے گی شیخ کی صحبت میں اگر کوئی نفلی اعمال نہ کرے تو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔لیکن شیخ کی غیر موجودگی میں ذکر اللہ کرے کیونکہ ذکر اللہ سے روح میں ایمان کی گرمی رہے گی۔ اہل اللہ کے دل ہر وقت اللہ تعالیٰ کی یاد سے مشرف ہیں۔ جو کسی سے محبت رکھتا ہے اکثر اُس کا ذکر بھی کرتا ہے۔ کثرتِ ذکر سے مراد صرف ذکرِ لسانی نہیں ہے بلکہ ذکر سے مراد یہ ہے کہ قلب و قالب، اعضاء و جوارح، ظاہر و باطن سب تابع فرمانِ الٰہی ہوں۔ذکر سے دو قسمیں ہیں : مثبت ذکر اور منفی ذکر ۔ مثبت ذکر یہ ہے کہ ذکر، تلاوت وغیرہ اور منفی ذکر تو ہر وقت ہے یعنی ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتا رہے۔ حضرت والا سے بارہا سنا کہ ایک شخص نے حضرت تھانوی ؒ کو لکھا کہ میں پابندی سے ذکر اللہ کررہا ہوں لیکن میرے دل میں سکون نہیں ۔ حضرت والا نے اُس کو لکھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں کسی گناہ کی عادت ہے،سکون سے نہ ہونے کی وجہ یہ ہےکہ تمہارا ذکر اللہ کامل نہیں ہے یہ گناہ کی عادت چھوڑ دو تو تمہارا دل کامل سکون پاجائے۔ ذکر ِ کامل پر کامل سکون کا وعدہ ہے۔ | ||