مجلس ۲۳۔اکتوبر ۲۰۱۴ءاللہ کے لئے ڈرو اور بدنظری نہ کرو!

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

مجلس کے شروع میں جناب مصطفیٰ صاحب نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار سنائے ، کچھ ہی دیر میں حضرت والا مجلس میں رونق افروز ہوئے اور  سلام فرمایا اور مصطفیٰ صاحب کو اشعار مکمل کرنے کا فرمایا اور چند اشعار کی تشریح فرمائی پھر  بعد ازیں حضرت اقدس دامت برکاتہم نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب’’ ارشاداتِ دردِ دل  ‘‘   پڑھ کر سنائی اور تسہیل فرمائی۔

ملفوظات

یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کی تمام کوششوں میں کیا چیز پوشیدہ ہے، اللہ تعالیٰ کی مرضیات پر راضی رہنا اور اپنی حرام تمنائے کا خون کرنے کی تکلیف برداشت کرنا،  دریائےخون بہا دینا۔

خون تمنا کرنا اور اللہ تعالیٰ کی مرضی پر راضی رہنا یہی طریقہ ہے اللہ کے عشق کو حاصل کرنے کا!!

جس کو دیکھو کہ اس کو عشقِ الٰہی  حاصل ہے تو  سمجھو یہ خونِ تمنا اس میں پوشیدہ ہے!

اللہ کی ذات کا قرب بھی لامحدود ہے اور لذت بھی لا محدود ہے،قرب کی بے انتہاء لذت کو زبان پر لانا محال ہے۔

بہت سے اشعار خالی  اشعار نہیں ہے بلکہ حضرت والا کا مقام ہے ، ہم لوگ صرف اندازہ کرسکتے ہیں لیکن اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ہیں ، بس دُعا کرسکتے ہیں کہ اللہ اپنے کرم سے ہمیں عطا فرمادے، بدون قابلیت ، بدون استحقاق ہمیں اولیاء صدیقین کی خطِ انتہاء تک پہنچا دے جیسا کہ حضرت والا ہمیں  دیکھنا چاہتے تھے

نظر کی حفاظت سے اپنی بیوی زیادہ حسین معلوم ہوتی ہے۔ آہ !حضرت والا نفسیات کے ماہر تھے۔

جو نظر کی حفاظت نہیں کرتا اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دُعا دی ہے ۔

آنکھوں کا زانی کبھی ولی اللہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ توبہ نہ کرلے!!اگر پھر ہوجائے تو پھر توبہ کرے اور کسی اللہ والے سے تعلق کرلے ان شاء اللہ شفا پا جائے گا۔

اللہ کے لئے ڈرو اور بدنظری نہ کرو!!

حسینوں کی محبت کا غم فانی اور منحوس ہے!!

اللہ کی  محبت کا غم یہی ہے کہ اللہ راضی بھی ہے یا نہیں !!

اصلی پاس انفاس یہ ہے کہ ہر سانس اس کا دھیان رہے کہ میری کوئی سانس اللہ کی مرضی کے خلاف تو نہیں !

ارشاد فرمایا :  علامہ آلوسی نے صدیق کی تین تعریف کی ہے
۱)جس کا قال اور حال ایک ہو
۲)ظاہری حالات اس کے باطن کو متأثر نہ کرسکیں چاہے
۳)اللہ تعالیٰ پر دونوں جہاں فدا کردے ،دنیا تو فدا کر دے مگر دین کو فدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو ہر کام پر اﷲ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھے، جنت پر مقدم رکھتا ہے اﷲ کی رضا کو!!

اللہ کی رضا جنت پر مقدم  ہے، اوراللہ کی ناراضگی جہنم سے اشد ہے،اﷲ کے عاشق گناہ اس لیے نہیں کرتے کہ ہمارا اﷲ ناراض ہوجائے گا۔ ناراضگی کا خوف ان پر غالب رہتا ہے۔ جہنم کاسبب تو اﷲ کی ناراضگی ہے۔ اگراللہ ناراض نہ ہو تو جہنم کیا کرے گی۔ اس لیے وہ جہنم سے ڈر کر گناہ نہیں چھوڑتے اﷲ سے ڈر کر چھوڑتے ہیں۔ اور اﷲ کی ناراضگی سے ڈر کر گناہ نہ کرنا یہ کمالِ عشق ہے۔

۴)تو صدیق کی تین تعریفیں آپ نے سنیں، اب چوتھی تعریف سنو جو اﷲ نے اس فقیر کو عطا فرمائی۔ اﷲ جس کو دیتا ہے مبدأ فیاض سے دیتا ہے۔ جو اﷲ علامہ آلوسی کو دے سکتا ہے وہ اختر کو نہیں دے سکتا؟ جس مبدأ فیاض سے علامہ آلوسی کو عطا ہوئی اسی مبدأ فیاض سے اگر کسی بندۂ حقیر کو بھی عطا کردے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ وہ تعریف یہ ہے کہ صدیق وہ ہے جس کی ہرسانس اﷲ کی مرضی کے مطابق گذرے اور ایک سانس بھی اﷲ کی ناراضگی میں مشغول نہ ہو۔