مجلس ۲۵۔اکتوبر ۲۰۱۴ءاللہ والوں کی اصل جنت دیدارِ الٰہی ہے ! | ||
اصلاحی مجلس کی جھلکیاں آج الحمدللہ حضرت والا مجلس میں رونق افروز تھے مجلس کے شروع میں جناب مصطفیٰ صاحب نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار سنائے ، ہر ہر شعر کی تشریح کی حضرت نے الہامی تشریح فرمائی ، تقریباً ۳۲ منٹ یہی سلسلہ رہا۔اشعار کے بعد حضرت نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب’’ ارشاداتِ دردِ دل ‘‘ پڑھ کر سنائے ، اور تسہیل فرمائی اور اس ضمن میں بہت قیمتی ارشادات فرمائے۔ ملفوظات اشعار کی تشریح میں فرمایا دل کے تباہ ہونے کے معنی بیان فرمائے۔ نفس کی خواہشات کو جو پورا نہیں کرتا شیطان کے دھوکے میں نہیں آتا تو دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں،گناہوں کے تقاضوں کو دبانے سے ہی تقویٰ پیدا ہوتا ہے،تقویٰ نام ہے اپنے نفس کو گناہ کی خواہشات سے روکنا،یہ اللہ کا راستہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ تھوڑی آزمائش دیتے ہیں لیکن اس کی برکت سے وہ اللہ کا دوست ہوجاتا ہے، اس تباہی کا انجام ایسی تعمیر ہے جس کی کوئی مثل نہیں! جس کو اللہ مل اُس کو حرام خواہشات کی تباہی کا کیا غم ہوگا، کیونکہ اس کو ایسی لذت ملتی ہے کہ جس کا کوئی مثل نہیں،اُن کی راہ کی محبت کا بھی کوئی مثل نہیں ، اُن کے راہ کے کانٹے بھی بے مثل ہے، اللہ کے راستے میں جو ہر وقت خون ِ تمنا کرتا ہے ، خصوصاً سب سے زیادہ مجاہد ہ اہل محبت ،صوفی اور اللہ والوں کو مجاہدہ حسن سے ہوتا ہے اس لئے مشاہدہ بقدرِ مجاہد ہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے قرب کا مشاہدہ اُسی قدر ہوتا ہے جس قدر مجاہدہ ہوتاہے۔پھراللہ تعالیٰ کی راہ میں مجاہدہ کرنے والوں کا درجہ بیان فرمایا ۔ اللہ والوں کی اصل جنت دیدارِ الٰہی ہے۔ اہل عقل صرف اپنی عقل پر چلتے ہیں تو اُن کے سامنے سینکڑوں غم ہیں ، یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے، ہر وقت اسی دنیا کے غم میں پریشان رہتے ہیں ، حالانکہ ملتی تو اِتنی ہی ہے جتنی قسمت میں ہے لیکن پھر بھی پریشان رہتے ہیں مشغول رہتے ہیں اللہ سے غافل رہتے ہیں ، اور جو اللہ کے عاشق ہیں وہ اللہ تعالی کی مرضی پر راضی رہتے ہیں کسی قسم کا غم اُن کے دل پر نہیں رہتا ، ہمہ وقت وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کی سرشاری طاری رہتی ہے۔ اللہ والوں کی نگاہ میں سب ایک ہی عالم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش رہیں ! دُعا فرمائی : ’’اے اللہ ہم آپ کو جنت سےزیادہ چاہیں اور دوزخ سے زیادہ آپ سے ڈریں !! حدیث پاک میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کر کے جنت کو موخر فرمایا ہے، درجہ اولیں میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہے،اہل اللہ، اللہ تعالیٰ کی ذات کے عاشق ہوتےہیں ! جنت کو چاہنا بھی ایک درجہ ہے لیکن اس سے بڑھ ایک درجہ اور ہے کہ خالقِ جنت کو چاہے!! ذاتِ عشقِ حق یہی ہے!! اور سب سے بڑی عاشقوں کے لئے ناراضگی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ناراض ہوجائیں !! اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے پناہ مانگی اور دورخ کو درجہ ثانوی میں رکھا۔ جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوجائیں تو وہ بند ہ ہر وقت خوش رہتا ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ خوش نہیں ہیں تو بندہ اسباب ِ مسرت میں بھی غمگین رہتا ہے!!اسباب ِ مسرت اور چیز ہے اور مسرت اور چیز ہے! اللہ والوں پر بھی مصیبت آتی ہیں لیکن اُن کے دل تک یہ مصیبت نہیں پہنچ سکتی کیونکہ جس کو اللہ تعالیٰ خوش رکھتا چاہتا ہے وہ عالمِ غم میں بھی خوش و مست رہتا ہے، راضی برضا رہتا ہے۔ بندے کے دل کو آرزوئیں ہوتی ہیں اُس کے کچلنے میں اُس کو سخت مجاہد ہ ہوتا ہے ایک عرصے یہی ہوتا ہے خون ِ تمنا کرتا رہتا ہے ، لیکن جب اللہ تعالیٰ کو اُس کو اپنا قربِ خاص عطا فرماتے ہیں تو اُس وقت اُس کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ آرزوئیں کہاں چلیں گئیں۔ یہ آخری شعر تو حضرت والا کے مقام کو ظاہر کرتا ہے ہم تواِس کو صرف ظاہری الفاظ میں بیان کرسکتے ہیں حضرت والا فرماتے ہیں جب اللہ کا قرب نصیب ہوگیا تو اِس عالم سے ماورا ہمارے روح پہنچ گئی ، اللہ تعالیٰ کے قرب سے ہماری روح اس عالم سے بلند ہوگئی اِس لئے ہم غیر اللہ سے آزاد ہوگئے۔ حسینوں کا انجام قبر ہے ! حسن پرستی کاعبرت ناک زوال و انجام بیان فرمایا۔ حضرت والا مختلف طریقے سے حسن پرستی کا رد فرماتے رہے! ایک بد نظری سے شیخ کی صحبت کا نور، تہجد اور اشراق کا نورسب نکل جائے گا۔ محنت کی کمائی مفت میں گنوائی!! آہ حضرت والاؒنے کیسے دردِ دل سے فرمایا ’’جو میرے خاص لوگ ہیں، جو کہتے ہیں کہ جب آپ کی جان نکلے تو ہماری جان بھی نکل جائے، اُن سے تو یہ کہنے کا حق رکھتا ہوں کہ اﷲ کے لیے تم اپنی جان پر غم اُٹھالو تو تم ولی اﷲ بن جائو گے‘‘۔ | ||