مجلس۷دسمبر ۲۰۱۵ء:اللہ کے راستے میں مایوسی نہیں ہے !!

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

مجلس کے آغاز میں  جناب مصطفیٰ صاحب  نے حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ  کےاشعار سنائے، اشعار کے بعد حضرت نے ’’خزائن معرفت و محبت‘‘ سے ’’ولایت کے اعلیٰ ترین مقام سے روکنے کا شیطانی حربہ‘‘ کے عنوان سے درج ذیل  بہت اہم مضمون پڑھ کر سنایا:

ولایت کے اعلیٰ ترین مقام سے روکنے کا شیطانی حربہ

احقر راقم الحروف پر حالت قبض طاری تھی اور مایوسی کی کیفیت تھی کہ میرے اعمال تو بڑے خراب ہیں میں اللہ سے قرب اور ولایت خاصہ کیسے مانگوں؟ فرمایا کہ اﷲ سے ولایت کا اعلیٰ ترین مقام صدیقیت مانگو کہ اے اﷲ حضرت صدیق اکبر کی صدیقیت سے ایک ذرہ مجھے بھی عطا فرمادیجئے۔ اپنی صلاحیت پر نظر نہ کرو اﷲ کے فضل و رحمت پر نظر رکھو کہ وہ فضل فرماتے ہیں تو خود صلاحیت پیدا فرما دیتے ہیں، وہ صلاحیت کے محتاج نہیں۔شیطان ایسے وقت میں جب یہ دیکھتا ہے کہ اس مانگنے کی بدولت کہیں یہ کسی اعلیٰ مقام ولایت پر فائز نہ ہو جائے تو وہ دعاکے وقت عمل کو سامنے کر دیتا ہے کہ تیرے اعمال تو ایسے ایسے ہیں تو نے گناہوں سے اپنے قلب کی صلاحیت ہی تباہ کر دی اب تو کسی مقام ولایت پر فائز نہیں ہو سکتا تو سمجھ لو کہ یہ وسوسہ شیطانی ہے وہ جب دیکھتا ہے کہ اس بندہ کو حق تعالیٰ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور اس کی ولایت کو میں روک نہیں سکتاتو چاہتا ہے کہ ولایت مل جائے لیکن گھٹیا درجہ کی ملے اعلیٰ درجہ کی ولایت سے یہ محروم رہے جیسے کسی کو نوکری مل رہی ہو تو حاسد چاہتا ہے کہ چلو اگر نوکری مل ہی رہی ہے ۵۰۰؍ روپے کی ملے ۱۰۰۰؍ روپے ماہانہ کی نہ ملے ،اس کی تدبیر کرتا ہے۔ ایسے ہی شیطان اعلیٰ درجہ کی ولایت سے محروم کرنے کے لیے یہ تدبیر کرتا ہے کہ بوقت دعا اس کے اعمال سامنے کر دیتا ہے کہ تو نے ایسے برے کام کئے ہیں کس منہ سے اتنی اعلیٰ بات مانگ رہا ہے تیرا دل تو تباہ ہو چکا ہے اب اس مقام صدیقیت کے قابل ہی نہیں رہا اس لیے ایسی دعا مانگنے سے کیا فائدہ ۔ چھوٹا منہ بڑی بات۔ تو سمجھنا چاہیے کہ یہ مثال دنیا کی ہے۔ دنیا کے معاملات میں ہمارا منہ چھوٹا اور بات بڑی ہو سکتی ہے لیکن اﷲ کے لیے بڑی سے بڑی بات بھی چھوٹی سے چھوٹی ہے اور یہ خیال کہ گناہوں سے ہماری صلاحیت ختم ہو گئی اور دل تباہ ہو چکا ہے یہ و سوسہ بھی غلط ہے کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ نعوذبا ﷲ اﷲ تعالیٰ ہمارے تباہ شدہ دل کی تشکیل و تعمیر پر قادر نہیں ہیں۔ بے شک گناہوں سے دل بالکل تباہ ہو گیا ہے لیکن حق تعالیٰ اس کی از سر نو تشکیل پر قادر ہیں کہ وہ اس کو اپنے اعلیٰ ترین قرب کے قابل بنانے پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی ایک صفت جباریت ہے جس کے معنی ہیں ٹوٹے ہوئے کو جوڑنا۔ ہم لوگ ٹوٹی ہوئی چیز کو جوڑتے ہیں تو گرہ رہ جاتی ہے وہ ایسا جوڑتے ہیں کہ گرہ بھی نہیں رہتی ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کبھی شکستہ ہی نہ تھا اس لئے گناہوں سے ختم شدہ صلاحیت اور تباہ شدہ دل کو وہ ایسا جوڑ سکتے ہیں کہ جیسے یہ کبھی تباہ ہی نہ ہوا تھا اور کبھی گناہ ہی نہ کیا تھا۔ اگر نجاست یہ کہنے لگے کہ میرے اندر تو کوئی صلاحیت ہی نہیں میں کیا مانگوں تو یہ اس کی حماقت ہے، حق تعالیٰ کا آفتاب کرم اپنی شعاعوں کو اس نجاست سے نہیں ہٹاتا اس کی شعاعیں نجاست سے پلید نہیں ہوتیں، وہ نجاست سے اعراض نہیں کرتا۔ کہ میری شعاعیں پاک چیزوں پر پڑیں ناپاک پر نہ پڑیں۔ آفتاب کی شعاعیں اسی نجاست کو سبزہ اورنور بنادیتی ہیں( اپلا تنور میں نور ہو جاتا ہے اور کھاد سے سبزہ اگ جاتا ہے) اب کوئی اس سبزہ و گلزار کو یہ کہہ سکتا ہے کہ تو پہلے پاخانہ تھا یا اس نجاست میں کوئی صلاحیت تھی۔ بس حق تعالیٰ سے مایوسی کی کوئی صورت نہیں ہے ،ان کا کرم عام ہے۔ بس مانگتا رہے کہ اے آفتاب کرم! اپنی کرم کی ایک شعاع اس عبد عاصی پر بھی ڈال دیجئے، اے بحر کرم اپنے کرم کا ایک قطرہ اس گنہگار کو بھی عطا فرمادیجئے اے خالق بہار کائنات ہمارے خزاں رسیدہ دل یعنی گناہوں سے خزاں رسیدہ دل کو اپنی نسیمِ بہارِ قرب سے زندہ فرمادیجئے اور اپنی صفت جباریت کا ایک پرتو میرے قلب کی تباہ شدہ صلاحیت پر بھی ڈال دیجئے اے اﷲ اس دل کو اپنی محبت کے قابل بنا دیجئے یعنی تمام اخلاق رذیلہ سے پاک فرمادیجئے ،وہی دل اﷲ کے پیار کے قابل ہوتا ہے جس میں کوئی خلق رذیلہ نہیں رہتا۔ تو ہم ایک ایک خلق کا نام کہاں تک لیں اس ایک جملہ میں تمام اخلاق رذیلہ سے نجات کی دعا ہو گئی۔ اور یوں بھی مانگے کہ اے اﷲ آپ نے فرمایا ہے کہ:

﴿اَللّٰہُ یَجْتَبِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآءُ﴾

(سورۃُ الشورٰی، آیت:۱۳)

کہ آپ جس کو چاہتے ہیں اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اے اﷲ آپ کی اس آیت پاک کا صدقہ کہ مجھے اس مَنْ میں شامل فرما لیجئے آپ کا یہ من تو دونوں عالم اور جو کچھ ان میں ہے سب کے لیے کافی ہے اے اﷲ اپنے کرم سے مجھے بھی اپنی طرف جذب فرمالیجئے اور جس کو آپ جذب فرماتے ہیں وہ کبھی مردود نہیں ہو سکتا اور آپ کے دست و بازو جس کو اپنی طرف کھینچیں گے پھر شیطان و نفس اور ساری دنیا بھی اس کو اپنی طرف کھینچنا چاہے تو آپ کے دست و بازو کے مقابلہ میں کوئی اپنی طرف نہیں کھینچ سکتا ۔ مولانا تھانوی نے لکھا ہے کہ مجذوب مردود نہیں ہوتا شیطان صرف سالکِ محض تھا ،اﷲ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف جذب نہ فرمایا تھا اس وجہ سے مردود ہو گیا اس لیے سلوک کے ساتھ جذب ہونا ضروری ہے ۔

بعد تقریر کے احقر سے فرمایا کہ حوصلہ پیدا ہوا مایوسی دور ہوئی ؟فرمایا کہ اس تقریر کے بعد جس کو حق تعالیٰ اپنا بنانا چاہیں گے تو اسے اپنے قرب کا اعلیٰ ترین مقام مانگنے کی توفیق عطا فرما دیں گے اور جس کو یہ توفیق نہیں ہو گی تو میں سمجھوں گا کہ اس کو میاں اپنا بنانا نہیں چاہتے اور مقام صدیقیت نہیں دینا چاہتے۔شیطان اعمال دکھا کر دعا مانگنے سے روکتا ہے اور مایوس کر تا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ باد شاہ کی طرف سے تخت و تاج تقسیم ہو رہا ہو کہ جس کا جی چاہے لے لے تو کوئی چمار اس وقت شاہ کی خدمت میں اپنی چماریت پیش کردے کہ کیونکہ میں چمار ہوں اس وجہ سے تخت و تاج نہیں لے سکتا، میں تخت و تاج کے قابل نہیں ہوں تو شاہ یہی کہے گا کہ اچھا جا چمار ہی بنا رہ ،ہم نے تو ہر خاص و عام کے لیے اعلان کر دیا تھا کہ جس کا جی جاہے لوٹ لے ہماری نعمت عام ہو رہی ہے تو ایسے وقت اپنی صلاحیت پر نظر کرنا نعمت کی نا قدری ہے اور بادشاہ کی قدرت کاملہ پر خفیف ہونے کا گمان لازم آتا ہے کہ وہ اس پر قادر نہیں کہ بروں کو بھی اپنا بنا لے۔ پس حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کسی کی صلاحیت کی محتاج نہیں ہے مانگنے والا چاہیے، انہوں نے اپنی نعمت کو ہر خاص و عام کے لیے عام کر دیا؎

بہ لطف آں کہ وقفِ عام کردی
جہاں را دعوت اسلام کردی

اس تقریر کے بعد نعمت کے عام ہونے کا یقین آجانا چاہیے ورنہ محروم رہو گے اور فورا دعا مانگنی شروع کر دینی چاہیے کیونکہ جب نعمت تقسیم ہو رہی ہو اس وقت اس کے حصول میں سستی کرنا نعمت کی بے قدری ہے بلکہ نعمت کی جھلک دیکھتے ہی دوڑ کر لے لینا چا ہیے جس سے حق تعالیٰ خوش ہوں کہ بندہ ہماری نعمتوں کا حریص ہے جیسے بھوکے کو کوئی ٹکڑا دکھاوے تو کیسادوڑ کر جائے گا اﷲ کی نعمتوں کو سن کر بندہ کا یہی حال ہونا چاہیے ورنہ لازم آئے گا کہ وہ نعمت کا حریص نہیں ہے ۔ اس لیے خوب گڑ گڑا کر یہ دعا مانگا کرو کہ اے اﷲ حضرت صدیق اکبر کی صدیقیت سے ایک ذرّہ ہمیں بھی عطا فرما دیجئے۔ معلوم ہے وہ ذرہ کیا ہوگا؟ اس کی وسعت کی تھاہ نہیں وہ ایسا ذرّہ ہے ۔ اس دعا کا معمول بنا لینا چاہیے ۔(خزائن معرفت و محبت)

اس ضمن میں حضرت شیخ دامت برکاتہم نے ارشادات بھی فرمائے۔

>مجلس کے آخر میں بچوں کو نہایت اہم نصائح فرمائیں!

> بیویوں کو طنز کرنے پر بہت اہم نصیحت بھی فرمائیں!

>آخر میں کچھ دیر مزاح کی مجلس بھی ہوئی!

  آج کی پرنورمجلس کا دورانیہ ایک گھنٹہ ۳۸منٹ رہا۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries