مجلس  یکم جنوری  ۲۰۲۱ عشاء : اللہ کا راستہ فنا کا راستہ ہے !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

 ۔ 31:00) حضرت شیخ کے والد صاحب کے پارٹنر کا واقعہ، کس طرح انہوں نے حضرت شیخ پر شفقتیں فرمائیں،

33:00) حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کیوں اپنے متعلقین کو کیوں ڈاٹنتے تھے، حضرت والا کے والد صاحب جب ڈاٹنتے تھے تو بتاتے تھے کہ میں نے تو تمہارے کام

35:00) اللہ کا راستہ فنا کا راستہ ہے، شیخ اصلاح کرے گا، خود سے اصلاح نہیں ہوتی۔

36:00) درس مثنوی سے پڑھ کر سنارہے تھے ، ایک بڑے عالم نے عرض کیا کہ حضرت میں ہروقت باوضو رہتا ہوں لیکن مشکل ہے، اس پر فرمایا کہ اس زمانے میں صحت اس قابل نہیں ہے، آنکھوں کے ہروقت باوضو رہے،

38:00) حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ نے فداکاری سے اپنے شیخ حضرت پھولپوری رحمہ اللہ کی خدمت، شیخ کی خدمت کی اہمیت

39:00) قرآن تدبر سے پڑھنے کی اہمیت، جہاں نعمتوں کا ذکر آئے تو اللہ سے نعمت مانگو، توبہ کا ذکر آئے تو وہاں توبہ کرلو، عذاب کا ذکر آئے تو عذاب سے پناہ مانگو! مفتی نعیم صاحب نے کسی کسان سے پوچھا کہ آپ بیچ ڈالتے ہو تو کیا سب پر فضل آجاتی ہے، ضائع بھی ہوتے ہیں لیکن پھر بھی محنت کرتے ہیں اسی طرح تقویٰ اورٍنیکی نظر نہیں آتی لیکن آخرت میں ملے گا،

41:00) عبرت ناک واقعہ ایک سیٹھ وہ شراب پر بسم اللہ پڑھ کر روزہ کھولتا تھا، اس پر عذاب آیا کہ دس ماہ میں روڈ پر آگیا، اللہ کے احکامات کا مذاق اڑانے سے ایمان چلا جاتا ہے۔

44:00) ایک چھوٹی بچی کا تذکرہ کہ ان کے گھر میں ایک ماڈرن خاتون آئی تو نو سال کی بچی نے اس خاتون کے سوال کرنے پر پورا جذب کا بیان کردیا وہ خاتون بہت متاثر ہوئی۔ اگر ہم اپنی اولاد پر محنت کریں تو یہی بچیاں بڑی ہوکر رابعہ بصریہ بنے گی۔

49:50) درس مثنوی سے پڑھ کر سنایا: مولانارومی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی ذات مقلب ابصار بھی ہے اور مقلب قلوب وافکار بھی ہے یعنی جو اللہ تمہاری نگاہوں میں تصرف کرنے پر قادرہے وہ تمہارے دل پر تصرف کرنے پر بھی قادر ہے۔ جو ابصار کو تبدیل کرسکتاہے وہ افکار کو بھی تبدیل کرسکتاہے، جو آنکھوں کو بدل سکتاہے وہ دل کو بھی بدل سکتاہے، جو نظر بدل سکتاہے وہ تمہاری قوت فکر یہ اور عقائد وافکار کو بھی بدل سکتاہے۔ لہذا اللہ تعالی کے تصرفات سے ڈرتے رہو اور استقامت کے لئے توبہ استغفار کرتے رہو ورنہ کہیں ایسا نہ ہوکہ کسی گناہ کے عذاب میں قعر چاہ یعنی کنویں کی گہرائی کا اندھیرا تمہیں باغ معلوم ہونے لگے اور چاند جیسا چہرہ تم کو ڈرائونی شکل دکھائی دینے لگے جس طرح سر کشی وکفر و عناد کی سز امیں ابو جہل کی اندھی بصیرت کو نبوت کا مقام نظر نہ آسکا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک نعوذ باللہ وہ اس خبیث کو برا لگتاتھا اور عشق ومحبت کی وجہ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بصیرت چونکہ صحیح تھی اس لئے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور پر آفتاب چلتا ہوا نظر آتا تھا۔ دونوں کی نظر کے فیصلوں میں کتنا زبردست فرق ہوگیا۔ لہذاکثرت سے یہ دعا مانگنی چاہئے: اَلّٰلھُمَّ اَرِنا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہٗ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہٗ اے اللہ ! ہم کو حق کا حق ہونا دکھااور اس کی اتباع کی توفیق عطافرما اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطافرما۔

51:00) درس مثنوی سے مزید پڑھ کر سنایا: اسی طرح کسی گناہ کے عذاب میں جب دل ونظر پر قہر خداوندی ہوتاہے تو قعر چاہ کی ظلمت یعنی فانی شکلیں اور گناہ کے مواقع اور گندے مقامات اس کو سلطنت سے بھی افضل معلوم ہوتے ہیں۔ قوت فکر یہ ہی مفلوج ہوجاتی ہے اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کررہاہوں۔ اسی تقلیب ابصار وقلوب کا نتیجہ ہے کہ بعض متقشف اور محروم القسمت عین دین کو غیر دین سمجھ کر پیری مریدی کو بے وقوفی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ خود پر لے درجے کے بے وقوف ہیں کیونکہ اگر ان کی بات کوصحیح مانا جائے تو لازم آتا ہے کہ چاروں سلسلوں کے بڑے بڑے علماء کو تم نے بے وقوف سمجھا۔ جاہل پیروں اور قبر پوجنے والوں کی پیری مریدی سے تو بے شک احتیاط واجب ہے لیکن اہل حق سے مرید ہونے کو حماقت سمجھنا ایک ہزار سال کے تمام اولیاء اللہ اور علماء ربانین کی شان میں گستاخی ہے۔ یہ شخص گویا امام غزالی، مولانارومی، جنید بغدادی، حضرت عبدالقادر جیلانی، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا قاسم نانوتوی، حضرت مولاناحکیم الامت تھانوی اور ہمارے سارے اکابر رحمہم اللہ تعالی علیھم اجمعین کو بے وقوف سمجھتا ہے کیونکہ بیعت کا یہ سلسلہ چودہ سو سال سے چلا آرہاہے۔

53:39) حضرت شیخ دامت برکاتہم نے اپنے تلاشِ حق کا تذکرہ فرمایا اس دوران ایک جعلی آدمی کا بھی تذکرہ ہوا۔ کہ آج اس کو لوگ سجدہ کررہےہیں، حضرت نے فرمایا میں کیسے اللہ کا شکر ادا کروں کہ اللہ کے بچایا!

59:00) خدا کی قسم دل میں یہی آتا ہے کہ اگر حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات نہ ہوتی تو کیا حال ہوتا!

01:00:00) حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی تلاش حق کی مختصر داستان بیان فرمائی۔ کس طرح مشقتیں اٹھاتے ہوئے آپ ﷺ تک پہنچے۔۔۔ جس کو طلب ہوتی ہے اللہ اس کو ضرور ملتے ہیں۔۔

01:10:00) درس مثنوی سے مزید پڑھ کر سنایا: یہ سارے اکابر پیری مریدی کے راستہ سے اللہ والے ہوئے ہیں۔ جو تصوف کے مخالفین ہیں میں ان سے پوچھتاہوں کہ جب تم ان بزرگوں کے نقش قدم پر نہیں چلتے اور جب عملا تم ان کو حق پر نہیں سمجھتے اور ان کی طرح اہل اللہ سے نہیں جڑتے تو پھر جامعہ قاسمیہ، جامعہ رشیدیہ، جامعہ اشرفیہ وغیرہ نام کیوںرکھتے ہو۔ چندہ لینے کے لئے ان بزرگوں کی ہڈیاں بیچتے ہو، جن کے نام پر مال لیتے ہو اور اپنے مدرسے چلارہے ہو انہیں کے نقش قدم کی مخالفت کرتے ہو۔ لہذا جو شخص راہ اہل اللہ کی مخالفت کرتاہے یہ بھی کسی عذاب قہر میں مبتلا ہے کیونکہ صراط منعم علیہم یعنی اللہ کے عاشقوں کا راستہ ہی مستند ہے باقی تمام راستے گمراہی کی طرف جاتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کا شعر ہے اور کیا خوب ہے۔ فرماتے ہیں ؎ مستند رستے وہی مانے گئے جن سے ہوکر تیرے دیوانے گئے لوٹ آتے جتنے فرزانے گئے تابہ منزل صرف دیوانے گئے آہ کو نسبت ہے کچھ عشاق سے آہ نکلی اور پہچانے گئے

01:13:00) مشنری اسکولوں کا تذکرہ کہ کس طرح دین سے دور کررہے ہیں اور بیٹیوں کو گھروں سے نکال رہےہیں، گاؤں میں ایسے اسکول کھول رہےہیں ، ا ایک بیٹی کو اسکول میں پڑھانے پر ایک ہزار دیتے ہیں تاکہ بیٹیاں بے باک ہوجائیں بے حیا ہوجائیں۔ اور والدین کو پتہ ہی نہیں کہ کیا پڑھارہےہیں۔ اللہ حفاظت فرمائے

01:18:00) ماں باپ سے بدتمیزی کرنے والے کا علاج

01:20:00) لاہور سے حضرت قاری ارشد عبید صاحب(نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ) کا پیغام آیا کہ ایک نکاح پڑھانے گیا ہوا تھا وہاں پر دلہا صاحب اور دیگر افراد کے ساتھ بیان سن رہےتھےان کو نصیحت فرمائی اور خوب دعائیں دیں اور لطیفہ ہنی مون پر بھی سنایا۔