اتوارمجلس ۳ جنوری  ۲۰۲۱ :عزت کا طلبگار نہ ہو مٹ کر رہو !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

  ; 00:30) بیان کے آغاز میں جناب سید ثروت صاحب نے حضرت میر صاحب رحمہ اللہ اور جناب مولانا اثر صاحب کے اشعار پڑھ کر سنائے۔۔

15:07) حضرت شیخ دامت برکاتہم مجلس میں رونق افروز ہوئے۔ ماشاء اللہ! ثروت صاحب نے جناب مولانا اثر صاحب کے اشعار جاری رکھے۔۔تیری منزلیں بھی عجیب ہیں ترا راستہ بھی عجیب ہے،

16:47) حضرت شیخ نے فرمایا کہ جناب اثر صاحب کے یہ اشعار حضرت والا رحمہ اللہ کے لیے پڑھے ہیں، میں جب یہ اشعار سنتا ہوں تو حضرت والا رحمہ اللہ کا ہی خیال آتا ہے، اپنے لیے الحمدللہ نہیں سمجھتا!۔

18:00) مولانا منصور الحق ناصر صاحب دامت برکاتہم کا تذکرہ کہ کس طرح انہوں نے حضرت والا رحمہ اللہ کے سامنے اپنے کو مٹایا۔

18:56) مفتی نعیم صاحب نے سنایا کہ بڑے بڑے ائمہ کرام، محدثین نے دین کے لیے کتنی تکالیف اٹھائی، لیکن حق سے نہیں ہٹے، حضرت امام احمد بن حنبل کا کوڑے لگائے گئے، امام بخاری رحمہ اللہ بھی ستائے گئے،امام سخسری چودہ سال کنویں کی قید میں رہے وہیں شاگرد پڑھنے آتے تھے، ۳۲ جلدیں مبسوط کتاب کی لکھوائیں

21:07) مولانا منصور الحق ناصر صاحب دامت برکاتہم نے شیخ کے قدموں میں اپنی ڈگریاں نیلام کردی یعنی حضرت والا رحمہ اللہ کے ؎ مشورے سے یونیورسٹی میں نہیں پڑھایا، اور اپنی سب ڈگریاں پھاڑ دیں پھر اور یہ شعر بنا ڈگریاں شیخ کے قدموں میں نیلام ہوئیں نفس و شیطان کی سب سازشیں ناکام ہوئیں

23:12) دیکھا دیکھی بیعت ہونا چاہیے، اور ہمارے بزرگوں کا یہ طریقہ نہیں ہے، یہ دکانداری ہے

25:19) اللہ معاف کرے اسکولوں میں اسلامیات کی ٹیچر خاتون جینز پینٹ پہن کر اسلام پڑھارہی ہیں، اس پر ایک صاحب کی بچی کو اسکول میں جو نصاب پڑھایا جاتا ہے اس کا تذکرہ فرمایا کہ کیا پڑھایا جارہا ہے۔

26:49) ہمارے ایک دوست پروفیسر ہیں وہ جب پڑھانے آتے ہیں تو پہلے ہی لڑکوں کو بتادیتے ہیں کہ جو میں پڑھاؤ گا یہ سب غلط ہے ، پھر کلاس شروع کرتے ہیں۔

28:46) شیخ سے خاتون جو مرید ہوتی ہیں وہ روحانی بیٹیاں تو ہیں لیکن نامحرم ہیں اس لیے شیخ کو دیکھنا حرام ہے، تاکہ جڑ ہی کٹ جائے کیونکہ جعلی لوگ زیادہ ہیں جو عورتوں کو سامنے بیٹھاکر بیان کرتے ہیں۔

29:42) عاملوں کے چکروں کا تذکرہ ، یہ ایسا بزنس ہے جس میں نفع ہی نفع ہے لیکن دنیا ہے فائدہ ہے، آخرت کا خسارہ ہی خسارہ ہے۔

30:15) اشعارکے دوران ملفوظات کے بعد جناب سید ثروت صاحب نے دوبارہ مولانا شاہین اثر صاحب کے اشعار کا سلسلہ دوبارہ جوڑا۔

32:14) دنیا کی شراب کی حقیقت اور اللہ کے قرب کا نشہ کیسا عجیب ہے!۔

33:13) دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے، اپنی مرضی سے قیدی کچھ نہیں کرسکتا۔

33:46) وراثت تقسیم کرنا ضروری ہے ، اس پر تنبیہ! بہنوں کو حصہ نہیں دیتے! حدیث پاک پر وراثت تقسیم نہ کرنے پر کیسی وعیدیں ہیں۔

34:43) حضرت شیخ دامت برکاتہم نے اپنے بچپن کا پرلطف واقعہ سنایا کہ فجر کی نماز مسجد میں کتنی دیر سے ہوتی تھی، سب بہت پریشان تھے، پھر گاؤں کی پنچایت میں فجر کی نماز کا وقت طے کرنے پر فیصلہ ہورہا تھا کہ فجر کا ٹائم کیا رکھیں ، حضرت شیخ نے چھوٹے تھے، جلدی سے کہا کہ صبح کا 9 بجے کا وقت رکھ لیں یہ کہہ کر فوراً بھاگ گئے۔

38:25) اللہ کے راستے میں، دین میں مشقت اور تکلیف اٹھانے پر ’’وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا‘‘کی اس آیت سے مجاہدہ کی چار تفسیر بیان فرمائیں۔

40:27) جس کا شیخ نہیں ہوتا اس کا شیخ پھر نفس و شیطان ہوتا ہے، اس کو سمجھانے کےلیے جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ ہے ۔ یہ حکایت ہے کہ جس کا شیخ نہیں ہوگا وہ نفس و شیطان کے راستے پر چلے گا۔

41:34) اشعار کی تشریح کے بعد جناب سید ثروت صاحب نے دوبارہ مولانا شاہین اثر صاحب کے اشعار کا سلسلہ دوبارہ جوڑا اور یہ شعر پڑھا کہ تو کہ شاہباز ہے اصل میں تجھے گرگسی تو روا نہیں تری فضاء بھی ہے نت نئی ، تری غذا بھی عجیب ہے اس کی حضرت نے تشریح فرمائی کہ اللہ والوں کی غذا کیا ہے، گناہ چھوڑنے پر تکلیف اٹھانے کی غذا ہے

45:39) ایک صاحب کو تنبیہ فرمائی! کہ جاہ چھوڑو،جو اللہ کا عاشق بنتا ہے وہ سارے جہاں سے نہیں ڈرتا

۔ 48:21) ڈھول پر لطیفہ کہ شادی یکطرفہ۔ اسی طرح ہم اپنے طور پر عاشق بنے ہوئے ہیں ، لیکن اللہ کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔

50:21) صدیقین کے سروں کے آخر میں جاہ نکلتی ہے۔

50:48) اللہ والوں کے ساتھ حسین رفاقت رکھو!۔

51:08) یہ شعر دوبارہ پڑھا: جو کسی کے عشق کا دم بھرے زمانے بھر سے وہ کیوں ڈرے جو خدا کا راستہ طے کرے تو وہ حوصلہ بھی عجیب ہے اس کی تشریح فرمائیں اشعار کی تشریح کے بعد جناب سید ثروت صاحب نے مولانا شاہین اثر صاحب کے اشعار کا سلسلہ دوبارہ جوڑا ۔۔

52:51) شعر:تھی خوشی بھی نفس کے سامنے پر اثر نے آپ کا غم لیا کیا اہل عقل نے تبصرہ ترا فیصلہ بھی عجیب ہے تشریح فرمائی کہ دنیا والے کہتے ہیں کہ تم نیا سال نہیں بناتے ، لڑکیوں سے باتیں نہیں کرتے، اہل عقل کہتے ہیں کہ ترا فیصلہ بھی عجیب ہے۔

55:01) حقوق شیخ اور آداب شیخ پر نصیحت، جب شیخ کسی کو ڈاٹتا ہے تو اس لیے ڈانٹا ہے کہ مرید سنور جائے۔ اس پر حضرت ہردوئی نے مثال سمجھائی کہ ایک باغ میں ہریالی ہے، ایک باغ ویران ہے، ویران کیوں کہ اس پر مالی نہیں ، اسی طرح شیخ بھی مالی ہے، جو اپنے دل پر مالی شیخ کو بناتا ہے۔

57:43) شیخ تواس لیے ڈانٹ لگاتا ہے کہ مرید کچھ بن جائے، اس پر ایک مثال بیان فرمائی ایک صاحب اپنے جسم پرشیر کی تصویر گدوانے گیا ، جو کہ جائز نہیں ، جب ناک بنانے لگا سوئیاں لگیں تو چیخنے لگا کہ بغیر ناک کے شیر نہیں ہوتا الخہ۔۔

01:00:09) عزت کا طلب گار تباہ ہوگا! مٹ کر رہو! اللہ کے عشاق مٹے رہتے ہیں، اور ہمیں عزت چاہیے! اس پر ایک بزرگ کا واقعہ سنایا کہ جن پر ایک خاتون نے کچرا پھینک دیا لیکن کچھ نہ کہا۔ بلکہ کہا کہ میرے ساتھ رہنا ہے صبر کا پیالیہ پینا پڑے گا! عزت کا طلب گار خلافت کے قابل نہیں ، سخت تنبیہ!

01:03:21) حضرت والا رحمہ اللہ کے شیخ کی خاطر حاسدین کی طرف سے تکلیفیں اٹھانے کا تذکرہ! پھر ان تکالیف کا تذکرہ حضرت ہردوئی رحمہ اللہ سے کیا

01:07:26) حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ کا خط حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ کو خط تقریباً چالیس سال پہلے پڑھ کر سنایا تھا۔

01:09:01) جو عزت مجھے ملتی ہے کیا میں اس کا قابل ہوں!۔۔۔۔اسی لیے تعریف کا طلب ہونا، جاہ کا طلب گار ہونا حرام ہے۔ اللہ والے دلوں پر حکومت کرتے ہیں۔ مٹ کر رہو ، ہمارے اکابر تواضع سے رہتے تھے، آج ہم ان اکابر کے عاشق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ایسی جاہ کی باتیں کرتے ہیں۔ vipسے اللہ نہیں ملتے، مٹنے سے ہی کچھ ملتا ہے۔ مٹنے پر حضرت ہردوئی کی مثال کہ چائے میں چینی ہلائی نہیں تھی، چمچہ آیا ، اس سے چینی مٹی ، چمچہ میں کٹ کٹ کی آواز بھی آتی ہے، اس طرح شیخ بھی ایسا ہونا چاہیے کہ اصلاح کرے، ڈانٹ بھی لگے گی۔

01:13:03) خود سے کوئی نہیں مٹتا شیخ مٹاتا ہے۔۔۔ اس پر حضرت شیخ کی اصلاح کے لیے حضرت والا رحمہ اللہ اور حضرت میر صاحب رحمہ اللہ کی ڈانٹ کا دلفریب تذکرہ۔

01:16:19) حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ کا خط حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ کو خط دوبارہ سنانا شروع کیا جس مفہوم یہ تھا کہ اکابر کے طریق پر مضبوطی سے جمنا چاہیے، اکابر کے شریعت اور طریقت کےطریق ، اکابر دیوبند کے اخلاص، تقویٰ، انابت الی اللہ، خوف و خشیت، علوم و عمل کے مطابق ڈھالیں۔۔۔اکابر کی اولاد کو چاہیے کہ اپنے کو سدھاریں

01:18:53) شیطان کے تین عین تھے، عالم ، عارف، عبادت تھے لیکن عاشق نہیں تھے۔

01:20:23) جو عزت، جاہ ، ریا کا طالب ہے اس کو اصلاح کی ہوا بھی نہیں لگی۔

01:20:53) ادب پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ۔

01:22:03) جو مزہ ربنا طلمنا میں ہے وہ خلقنی من نار میں وہ نہیں ہے۔

(HazratFerozMemon.org )