مجلس ۶ جنوری  ۲۰۲۱ عشاء : درسِ مثنوی معرفت و محبت سلسلہ ۳۸  !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

  ; 02:36) بیان کے آغاز میں کتاب سے تعلیم ہوئی۔۔

05:23) ہر  گناہ کی وجہ کیا ہے؟

05:36) غیبت کتنا بڑا گناہ ہے پتا ہے لیکن کرتے ہیں۔

05:55) سب سے زیادہ مفلس کون ہوگا قیامت کے دن۔

30:42) درسِ مثنوئی بیان ہوئی.. گر ز صورت بگذری اے دوستاں گلستان است گلستان است گلستاں ارشاد فرمایا کہ مولانارومی فرماتے ہیں اے سالکین کرام , اگر صورت پرستی کے عذاب سے تم نجات پاجائو تو تمہاری روح کے اندر ہر وقت اللہ تعالی کے قرب کا باغ ہی باغ نظرآئے گا۔گناہ سے بھاگنا یہ ففروالی اللہ ہے جس کی تفسیر علامہ آلوسی ؒنے تفسیر روح المعانی میں کی ہے : اَیْ فَفِرُّوْا عَمَّا سِوَی اللّٰہِ اِلیَ اللّٰہِ غیراللہ سے بھاگواللہ کی طرف۔ ففروالی اللہ نازل فرماکر اللہ نے اپنے عاشقوں کو دو لذتیںبخشی ہیں، ایک لذت فرار الی اللہ اور دوسری لذت قرار مع اللہ یعنی غیر اللہ سے بھاگنے کی لذت فرار اور اللہ کے پاس آنے کی لذت قرار اور فرار الی اللہ میں بھی اللہ نے ایک خاص لذت رکھی ہے جیسے جب بچہ غیروں اور دشمنوں سے جان چھڑاکر باپ کی طرف بھاگتاہے تو اس فرار میں اس کو ایک مزہ آتا ہے کہ میں باپ سے قریب ہورہاہوں اور جب باپ کی گود میں آجاتاہے تو اس کو ایک دوسری لذت ملتی ہے یعنی باپ کو گود کی لذتِ قرار۔ اللہ کی ہر نافرمانی سے بچنا، گناہوں سے بھاگنا، حسینوں سے نظر بچانایہ فرار الی اللہ ہے جس کے نقطۂ آغاز اور زیر و پوائنٹ سے ہی قلب میں سکون اور چین کا آغاز ہوجاتاہے کیونکہ اللہ دیکھ رہاہے کہ میرا بندہ غیر اللہ سے بھاگ رہاہے تو اسی وقت اللہ کی رحمت کی بارش شروع ہوجاتی ہے۔ اسی کانام ہے غیر اللہ سے بھاگنے کی لذتِ فرار اور جب غیر اللہ سے بھاگ گیا تو اللہ کے پاس پہنچ گیا چاہے کوئی نفلی عبادت بھی نہ کرے لیکن یہ اللہ سے قریب ہوگیا کیونکہ غیر اللہ سے فرار کے بعد لذتِ قرار خود بخود ملتی ہے اور حلوۂ ایمانی قلب میں اتر جاتاہے۔۔

41:39) درسِ مثنوئی بیان ہوئی.. اور حلوۂ ایمانی قلب میں اتر جاتاہے اور یہ اللہ کے عاشقوں کی عید ہے جو ان کو ہر زمانہ میں نصیب ہے۔ دنیا داروں کی عید تو سال میں ایک بار ہوتی ہے جب ان کو حلوہ ملتاہے اور ان کا حلوۂ باطنی معدہ میں جاتاہے جس سے جسم میں طاقت تو آتی ہے لیکن اس حلوہ کا کچھ حصہ جسم میں غلاظت بھی بن جاتاہے اور اہل اللہ کے حلوۂ باطنی سے رگ رگ میں انوار کے دریا بہتے ہیں اس لئے اہل اللہ کے حلوۂ باطنی کی عید کو دنیا داروں کے حلوۂ بطنی کی عید نہیں پاسکتی، دونوں کی لذت میں کوئی نسبت اور تقابل نہیں۔ اس کا نام ہے غیراللہ سے بھاگ کر اللہ سے قریب ہونے کی لذتِ قرار پس اللہ تعالی اپنے عاشقوں کو لذتِ فرار بھی دیتاہے اور لذتِ قرار بھی دیتاہے۔

59:11) درسِ مثنوئی بیان ہوئی.. اور ابھی ابھی ایک علم عظیم عطاہوا کہ فرار کی دو قسمیں ہیں، ایک فرار طبعی اور دوسرا فرار شرعی۔ جب حسین محبوب بڈھا ہوگیا اس وقت جو اس سے بھاگتاہے تو یہ فرار طبعی ہے اس میں کافر بھی شامل ہے، کوئی عیسائی اور یہودی بھی کسی بڈھی بڈھے کو نہیں دیکھتا۔ اسی پر میرا شعر ہے ؎ میر کا معشوق جب بڈھا ہوا بھاگ نکلے میر بڈھے حسن سے

01:00:14) درسِ مثنوئی بیان ہوئی.. لیکن اللہ کے دوستوں کا یہ مقام نہیں ہے کہ جب معشوق یا معشوقہ بڈھی ہو گئی، تو اس سے بھاگے، یہ بھاگنا کیا کمال ہے، اب تو ہندو اور یہودی بھی بھاگے گا۔ جو چیز کافر اور مومن میں مشترک ہو وہ مومن کی امتیازی شان نہیں ہو سکتی۔ مومن کی امتیازی شان یہ ہے کہ حسن کا عالم شباب ہو، اور طبیعت کا شدید میلان اور ہیجان ہوکہ اس حسین کو دیکھ لو، اس کا بوسہ لے لو، گناہ کرلو مومن اس وقت اللہ کے خوف سے بھاگتاہے، شباب حسن سے صرف نظر کرتاہے اس کا نام فرار شرعی ہے اور ففروا الی اللہ میں اسی فرار کاحکم ہے۔