اتوارمجلس ۱۷ جنوری  ۲۰۲۱  :  شخصیت پرستی کی حقیقت !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

  05:24) بیان کے آغاز میں جناب سید ثروت صاحب نے شیخ الحدیث ساوتھ افریقہ حضرت مولانا منصورالحق صاحب دامت برکاتہم کے اشعار پڑھ کر سنائے۔

12:13) پھر جناب مصطفی مکی صاحب نے حضرت مولانا تائب صاحب دامت برکاتہم کے اشعار شیخ کی محبت میں پڑھ کر سنائے۔

15:36) اللہ والی محبت ایلفی کا کام دیتی ہے۔

15:53) آج ایسے اشعار سن کر کہتے ہیں کہ یہ شخصیت پرستی ہے ان اشعار کا فائدہ کیا۔

19:21) علماء کا جڑنا اور بیانات میں آنا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شیخ سچا ہے اللہ والا ہے حضرت والا رحمہ اللہ کی مجالس میں کتنے کتنے علماء ہر مجلس میں ہوتے تھے۔

20:35) شخصیت پرستی کا نام لیتے ہیں آخر پتا تو کریں کہ شخصیت پرستی کس چیز کا نام ہے۔

23:25) کہتے ہیں کہ سختی زیادہ ہے جہاں سختی ہے تو سختی اور جہاں نرمی تو وہاں نرمی۔

23:59) بچی کا کھانا سنت سے ثابت نہیں اب اگر کوئی منع کرتا ہے اور وہ وہاں چلا گیا اور ہم نے تعلق ختم کردیا کہ وہاں کیوں گئے تو یہ سختی ہے ہم نے تو مسئلہ بتادیا اب اُس کی مرضی عمل کرے یا نہ کرے ہم تھوڑی ناراض ہونگے کہ کیوں گئے۔

25:12) نظر کی حفاظت کا کہو تو یہ بھی سختی معلوم ہوتی ہے۔

25:28) آج کہتے ہیں کہ میں فتوی کو نہیں مانتا نعوذباللہ توبہ کریں فتوے میں قرآن اور حدیث پاک لکھا ہوتا ہے۔

29:31) اللہ والوں کی سوچ کیا ہوتی ہے کہ بریانی ملے..نہیں نہیں! اُن کی سوچ یہ ہوتی ہے اور یہ لالچ ہوتی ہے کہ ہم سب اللہ والے بن جائیں۔

29:53) جہاں جاتے ہیں ہم تیرا فسانہ چھیڑ دیتے ہیں کوئی محفل ہو تیرا رنگ محفل دیکھ لیتے ہیں بن کر افسانہ

31:25) ایک صاحب نے کہا کہ میرے بچے ہیں میں دین کاکام نہیں کرسکتا نوکری کرتا ہوں تو ح حضرت شیخ نے نصیحت فرمائی کہ آپ نے شرعی داڑھی رکھی ہوئی ہے کیا یہ تبلیغ نہیں ہے،آپ نطر کی حفاظت کرتے ہیں نماز پڑھتے ہیں کیا یہ تبلیغ نہیں ہے۔۔

32:04) ہم اپنا ذہن صحیح کرلیں کہ شخصیت پرستی کیا ہے..جہاں عورتیں بیٹھی ہیں اور وہاں بیان کررہا ہے ہاتھوں میں ہاتھ لے کر بیعت کررہا ہے یہ ہے شخصیت پرستی...اللہ کے حکم سے ہٹ کر بات کرے یہ ہے دین میں سختی۔۔

34:43) گناہ کرتا ہے اور پھر بھی ہنس رہا ہے تو یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل ہے ۔

35:21) کامیاب ترین انسان کون؟۔

37:05) بھنگی کی مثال۔

37:18) نیک بننے میں فائدہ ہے یا نقصان..پھر فرمایا سب بتائیں کہ گناہ اچھی چیز ہے یا خراب؟سب نے جواب دیا کہ خراب تو فرمایا کہ خراب چیز کو جلد چھوڑدینا چاہیے یا دیر سے؟سب نے جواب دیا کہ جلد۔۔

40:15) حضرت شیخ کی والدہ کا جب انتقال ہوا تو کیسے رسومات کا خاتمہ ہوا اُس کا واقعہ ذکر فرمایا۔

42:13) آج رسومات سے بچیں..بیٹی بہن کو ناچنے نہ دیں پردہ کرائیں تو یہ سختی معلوم ہوتی ہے۔

43:59) جناب مصطفی صاحب نےدوبارہ اشعار پڑھنا شروع کیے۔

44:58) مُلّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے جب صالحین اور اللہ کے مقبول بندوں کا تذکرہ ہوتا ہے، اللہ والوں کے تذکرے سے رحمت برستی ہےاور (حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ) چہ جائیکہ وہاں خود اللہ والے موجود ہوں تو وہاں کتنی رحمت برسے گی۔

00:00) اعتدال سے رہنے پر نصیحت کہ بیان میں زور زور سے نعرے مت لگائیں۔

00:00) جو اپنے حال پر قابو پاتا ہے اُس کے نمبر زیادہ ہیں۔

50:25) کسی کو حقیر سمجھنا بھی گناہ ہے۔

51:16) حال تیرا جال ہے مقصود تیرا مال ہے کیا خوب تیر چال ہے لاکھوں کو اندھا کردیا۔

51:40) دو ٹیمے قوالوں کی۔

53:05) ایک قوال کی چکر بازی۔

53:56) آپ ﷺ کا طریقہ اسہل بھی ہے اکمل بھی ہے اور اجمل بھی ہے۔

54:15) بیویوں کی شفارش۔ 54:39) دیور تو بھابی کے لیے موت ہے دیکھ لیں حدیث پاک کیا ہے..۔ آج بس ہر وقت اعتراض... خاموش رہو الٹی سیدھی بول کر عذاب کو دعوت مت دو۔

56:24) چھ ماہ پہلے آئے ایک خط لکھ لیا اور پھر چھ مہینہ غائب اور پھر ایک بات سن لی اور اعتراض کررہے ہیں پہلے اپنی اصلاح کی فکر کرو۔

59:24) آپ سب کو پتا ہے کہ تکبر کتنا بڑا گناہ ہے اور تکبر کے دو جز ہیں حق بات کو نہ ماننا اور کسی انسان کو حقیر سمجھنا۔

01:00:00) اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے جذب فرمالیتے ہیں اب شیطان دیکھتا ہے کہ تکبر کتنا خطرناک مرض ہے تو وہ تکبر کراکر اللہ سے محروم کرتا ہے۔

01:01:0) اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا ہم گناہ کرتے کرتے تھک سکتے ہیں لیکن اللہ تعالی معاف کرتے کرتے نہیں تھکتے۔

01:02:24) توبہ کی چار شرائط۔

01:02:24) اب جو توبہ کرچکا اُس کے پیچھے لگے ہیں اُس کے عیبوں کا ظاہر کررہے ہیں اس لیے کہا جاتا ہے کہ آخری سانس تک اصلاح کرانی ہے۔

03:54) توبہ کیے بغیر مر گئے تو خسارہ ہی خسارہ ہوگا۔

01:04:20) یہ جذب والی آیت پڑھی کہ اللہ تعالی جس کو چاہتے ہیں جذب فرمالیتے ہیں... حضرت عمر رضی اللہ کتنے خطرناک ارادے سے جارہے تھے سب سے بڑا گناہ کہ نعوذباللہ آپ ﷺ کو شہید کرنے کے ارادے سے

00:00) اللہ تعالیٰ سے جذب کی دولت کو مانگنا چاہیے۔

01:08:30) پیر چنگی کے جذب کا قصہ.. حضرت جلال الدین رومی رحمتہ اﷲ علیہ نے اپنی مثنوی میں ایک چنگ یعنی سارنگی بجانے والے کا قصہ لکھا ہے کہ یہ سارنگی بجایا کرتے تھے، بہترین آواز تھی، ہر وقت گانا گارہے ہیں، سارنگی بجا رہے ہیں ، آواز ایسی کہ بچے اور جوان، مرد اور عورت ہر وقت گھیرے رہتے ہیں۔ کوئی حلوہ لا رہا ہے ، کوئی بریانی لا رہا ہے، کوئی کباب لا رہا ہے، پیسے برس رہے ہیں۔ لیکن جب بڈھے ہو گئے اور آواز خراب ہو گئی تو ساری دنیا ہٹ گئی، سب لوگ بھاگ گئے کہ اب یہ پھوٹا ربانہ، کوّے کی سی آواز کون سنتا ہے۔ اب کوئی پوچھتا نہیں یہاں تک کہ فاقہ کی توبت آگئی ، بھوکوں مرنے لگے تب مدینہ پاک کے قبرستان میں جا کر ایک ٹوٹی ہوئی قبر میں لیٹ گئے اور اﷲ تعالیٰ کو اپنا بھجن سنا نا شروع کیا۔ سا رنگی بھی بج رہی ہے اور بھجن بھی سنارہے ہیں اور کیا سنارہے ہیں کہ اے اﷲ جب میری آواز اچھی تھی تو آپ کے بندے مجھے حلوہ دیتے تھے، سب گھیر لیتے تھے اب میری آواز خراب ہوگئی تو آپ کی مخلوق نے مجھ سے بے وفائی کی۔ میں ساری دنیا سے مایوس ہو کر اب آپ کے دروازہ پر آپڑا ہوں اس قبرستان میں اب میں آپ کو اپنی آواز سنائوں گا۔ اگر بچہ پر فالج گر جائے، لنگڑا لولا ہو یا اندھا ہو لیکن ماں باپ اس کو رد نہیں کرتے ہم نے کبھی نہیں سُناکہ کسی ماں باپ نے لنگڑے لولے بچہ کو پھینک دیا ہو۔ آپ نے مجھے پیدا کیا ہے میری آواز کے خریدار آپ ہی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا آج آپ ہی کو سنائوں گا۔ آپ کی مرضی چاہے تو جِلا دیجئے یا قبر میں سُلا دیجئے، میں تو پہلے ہی لیٹا ہوا ہوں اگر آپ چاہیں تو بھوک سے روح نکال لیں، میں تو قبرستان ہی میں ہوں میرے لیے تو کسی قبر بنانے کی بھی ضرورت نہیں۔ حضرت عُمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کوخواب میں دکھایا کہ اے عمر! میرا ایک بندہ قبرستان میں لیٹا ہوا ہے۔ گنہگار زندگی ہے، سارنگی لیے ہوئے ہے اور مجھے رو رو کے یاد کر رہا ہے۔ اس کو جا کر میرا سلام کہیے اور بیت المال سے اس کا ماہانہ مقرر کر دیجئے اور س سے کہہ دیجئے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہاری خراب آواز کو قبول کر لیا ہے اور آیندہ سے تم کو بھیک مانگنے کی ، گانے بجانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مولانا رومی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ہر قبر کو جھانکا جس قبر میں یہ لیٹے ہوئے تھے اس میں جھانکا تو یہ کانپنے لگے کیوں کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا رُعب بہت تھا۔ میرے شیخ رحمۃ اﷲ علیہ نے سنایا تھا کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جا رہے تھے اور پیچھے صحابہ چل رہے تھے کہ اچانک پیچھے مڑ کر دیکھا تو سارے صحابہ گھٹنوں کے بل گر پڑے۔ ایسی ہیبت تھی۔ لہٰذا پیر چنگی کانپنے لگا۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم ڈرو مت ۔ میں تمہارے لیے اﷲ تعالیٰ کا سلام اور پیغام لایا ہوں۔ تمہیں خُدائے تعالیٰ نے سلام کہلایا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ میں تمہارے لیے وظیفہ مقرر کردوں۔ ہر مہینے تم کو سرکاری خزانہ سے وظیفہ ملتا رہے گا۔ اب تم کوئی فکر مت کرو۔ پیر چنگی نے فوراً پتھر اُٹھایا اور سب سے پہلے سارنگی توڑی اور حضرت عمر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور کہا اے عمر گواہ رہنا میں آج کی تاریخ سے کوئی نافرمانی نہیں کروں گا جو اﷲ مجھ جیسے ناپاک، رو سیاہ، بدکار اور گانا بجانے والے پر اتنی رحمت کر رہا ہے کہ آپ جیسے خلیفۃ المسلمین کو، ایسی مقدس شخصیت کو جس کے اسلام پر فرشتوں نے خوشیاں منائی تھیں، مجھ جیسے نالائق کے پاس بھیج رہا ہے اور سلام کہلوارہا ہے اور بیت المال سے میرے لیے وظیفہ بھی مقرر کرادیا میں ایسے اﷲ کو کیسے ناراض کروں؟ پیر چنگی کے بود خاص خُدا سُنئے جب حضرت والا رحمہ اللہ پڑھتے تھے تو اس طرحسے ہاتھ پھیلا لیتے تھے پیر چنگی کے بود خاص خُدا یہ چنگ بجانے والا کب خُدا کا خاص بندہ ہو سکتا تھا حبذا اے جذب پنہاں حبذا اے خدا! تیرے جذب کی صفت کی کروڑہاکروڑہا تعریف کہ آپ نے پوشیدہ طور پر اس کی روح کو جذب کیا ۔ جب ہی تو اس نے قبرستان میں آپ کو یاد کیا ورنہ آپ کو کہاں یاد کرسکتا تھا۔یہ شعر میرے شیخ بڑے مست ہوکر پڑھتے تھے۔ کیسے پڑھتے تھے پھر سنئے پیر چنگی کے بود خاص خُدا حبذا اے جذب پنہاں حبذا سارنگی بجانے والا کب خدا کا خاص ولی ہوسکتا تھا لیکن اے خدا بے شمار تعریفیں ہوں تیری صفت جذب کی، عجیب شان ہے تیری صفت جذب کی کہ جس نے پوشیدہ طور پر اس کو آپ تک پہنچایا۔ جس کو تو چاہے تو سو برس کے کافر کو جذب کر کے فخر اولیاء بنا سکتا ہے۔۔ جذب کے یہ سب واقعات کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔ یہ میں اردو ڈائجسٹ سے نہیں بیان کر رہا ہوں۔۔

01:16:37) ایک شرابی رئیس زادہ کے جذب کا واقعہ... ایک شرابی رئیس زادہ، خوب صورت جوان دریائے نیل کے کنارے اتنی شراب پی لی کہ قے ہوگئی، وہین زمین پر لیٹ گیا۔ دریائے نیل کے دوسرے کنارے پرحضرت ذو النون مصری رحمتہ اﷲ علیہ کپڑے دھو رہے تھے دیکھا کہ ایک کچھو اآیا اور دریا کے کنارے لگ گیا۔ذوالنون مصری نے دیکھا کہ یہ کچھوا دریائے نیل کے ساحل پر کیوں آیا ہے ،دیکھا کہ ایک بچھو جنگل سے تیزی سے آرہاہے، اتنا بڑا کالا بچھو اور وہ کچھوے کی پیٹھ پر بیٹھ گیا اور پھر وہ کچھوا واپس چلنے لگا اس پار۔ذوالنون مصری رحمتہ اﷲ علیہ نے کپڑا دھونا چھوڑدیا۔ سوچا کہ عالم غیب سے کوئی عظیم الشان واقعہ رونما ہونے والا ہے ۔ آپ بھی کشتی پر بیٹھ کر اسی کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ کچھوے صاحب جارہے ہیں اوربچھو صاحب اس کی پیٹھ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور بچھو کتنی دور سے آیا عین وقت پر اس کے لیے سواری بھیجی گئی۔یہ سب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہورہا ہے.. اب جناب دریائے نیل کے اس ساحل پرکچھوا لگ گیا، بچھو صاحب بھی پہنچ گئے۔ دیکھا کہ ایک کالا سانپ اس رئیس زادہ کو ڈسنے کے لیے آرہا ہے جو شراب پی کر بے ہوش لیٹا ہوا تھا تقریباً ایک گز کا فاصلہ رہ گیا تھا کہ اتنے میں بچھو نے کود کر اس کے پھن میں اپنا ڈنک مارا جس سے سانپ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ سانپ مرا پڑا ہوا ہے۔بچھو اپنے کچھوے پر تھوڑا سا آرام کر رہا ہے کیونہ بڑی محنت سے اس نے ڈنک مارا، بہت دور سے آیا تھا ۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اﷲ علیہ نے اس جوان کو دیکھا اور اس کا نشہ ختم ہوچکا تھا۔ آنکھ کھولی تو دیکھا کہ حضرت ذوالنون مصری کھڑے ہیں، کہا کہ حضرت آپ اتنے بڑے ولی اﷲہیں مصر کے اکابر اولیاء اﷲ میںسے ہیں ، آپ یہاں کہا ںآگئے مجھ جیسے بدکار اور شرابی کے پاس۔ فرمایا صاحبزادے سنو! تم شراب پی کر مست اور بے ہوشی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے لیکن تمہاری جان بچانے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے غیب سے کتنے اسباب پیدا کیے ذرا س کی رحمت کو سُن ۔ کہا کیا بات ہے؟تو اﷲ کو بھولا ہوا تھا لیکن اﷲ نے تجھے نظر انداز نہیں کیا۔حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ یہ سانپ جو مرا ہوا ہے تجھے ڈسنے کے لیے ایک گز کے فاصلے تک آچکا تھا، یہ بچھو دریائے نیل کے اس پارسے آیا ہے اور کچھوے کو اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا وہ اپنی پیٹھ لگا کر اس کے لیے کشتی بنا اتنی دور سے یہ بچھو آیا تیرے دشمن کے مقابلہ کے لیے اور تیرے سانپ کو مار دیا اور تیری جان اﷲ نے بچالی۔ تو تو اﷲ سے بے ہوش ہے مگر اﷲ تعالیٰ تجھ سے بے پروا بے خبر نہیں ہے۔ تم اﷲکو بھولے ہوئے ہو حق تعالیٰ تمہیں یاد فرمارہے ہیں۔ اتنا سارا انتظام دیکھ کر وہ رئیس زادہ رونے لگا اور کہا حضرت بس ہاتھ بڑھائیے میں توبہ کرتا ہوں اب کبھی شراب نہیں پیوں گا اور اسی وقت اﷲ تعالیٰ نے اس کو بہت بڑا ولی اﷲ بنادیا۔

01:17:37) ماں باپ سے بدتمیزی اگر کررہے ہیں تو عذاب خرید رہے ہیں۔

01:19:37) اللہ تعالی سے جذب مانگنا چاہیے کہ یااللہ مجھے ہم سب کو اور قیامت تک کی ذریات کو جذب فرمالیں

01:20:21) حضرت عبدالحفیظ شاعر کی توبہ کا واقعہ۔۔ عبدالحفیظ، جونپور کے بہت بڑے شاعر تھے، حضرت ڈاکٹر عبدالحیٔ صاحبh کے ملنے والوںمیں سے تھے، ایک دن کہنے لگے کہ حضرت! میں شراب پیتا ہوں، داڑھی منڈاتا ہوں، نماز بھی نہیں پڑھتا، مگر نیک بننا چاہتا ہوں، آپ بتائیے کہ آپ کیسے ولی اللہ بن گئے؟ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ میں تھانہ بھون جاتا ہوں، میں نے حضرت تھانویh سے بیعت کی ہوئی ہے،اللہ اللہ کرتا ہوں، اللہ کے نام کے صدقے میں اور بزرگوں کی دعائوں سے مجھے اللہ نے ایسا بنادیا۔کہا کہ کیا میں بھی نیک بن سکتا ہوں؟ شراب چھوڑ سکتا ہوں؟ فرمایا کہ ہاںہاں جائو ! تھانہ بھون جا کے دیکھو۔ اب عبدالحفیظ، دیوان ِحفیظ کا مصنف، شاعر ِبے بدل، یوپی کا آل انڈیا شاعر تھانہ بھون جاتا ہے ۔ راستے میں ذرا ذرا سی داڑھی آگئی تو عبدالحفیظ شاعر نے تھانہ بھون میں داڑھی منڈائی اور پھر حکیم الامت کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ حضرت! بیعت کرلیجیے۔حضرت نے فرمایا کہ عبدالحفیظ! تم اتنے بڑے آل انڈیا معزز شاعر ہو،مجھ سے بیعت کی درخواست کررہے ہو تو جب بیعت ہی ہونا تھا تو داڑھی کیوں منڈائی؟جو داڑھی کا ذرا ذرا سا نور نکل آیا تھا، اس کو کیوں صاف کیا کیونکہ داڑھی رکھنا واجب ہے، جیسے وتر، جیسے عید اور بقر عید کی نماز واجب ہے،اور جس حالت میں انتقال ہوگا اسی حالت میں اٹھایا جائے گا۔

01:22:28) اہل اللہ سے تعلق حسن ِخاتمہ کی ضمانت ہے۔۔ تو عبدالحفیظ شاعر صاحب نے کہا کہ حضرت! آپ حکیم الامت ہیں، میں مریض الامت ہوں ، میں نے چاہا کہ سارا مرض آپ پر ظاہر کردوں، اب ان شاء اللہ داڑھی پر کبھی اُسترا نہیں لگے گا۔ ایک سال کے بعد حکیم الامتh جونپور تشریف لائے، میرے شیخ حضرت پھولپوریh بھی اعظم گڑھ سے پہنچے، عبدالحفیظ صاحب کی پوری ایک مشت داڑھی آچکی تھی،انہوں نے حضرت سے مصافحہ کیا تو حضرت نے پوچھا کہ یہ بڑے میاں کون ہیں؟میرے شیخ نے تعارف کرایا کہ یہ وہی عبدالحفیظ شاعر ہیں جنہوں نے خانقاہ میں داڑھی منڈائی تھی اور آپ سے وعدہ کیا تھا کہ اب اُسترا نہیں لگائیں گے تو حضرت بہت خوش ہوئے۔ آخر میں ان کا انتقال کتنا مبارک ہوا،اہل اللہ کے ساتھ جڑنے والوں کا خاتمہ بھی عجیب ہوتا ہے،انتقال ایسا ہوا کہ اپنے گھر کے کمرے میں شمال سے جنوب اور جنوب سے شمال،دیوار تک تڑپ تڑپ کر جاتے تھے،استغفار کرتے اور روتے روتے جان دے دی،اتنا اللہ کا خوف غالب ہوا کہ شمال سے جنوب اور جنوب سے شمال تڑپتے رہتے تھے، تین دن تک تڑپ تڑپ کر اللہ سے جاملے، اور اپنے دیوان میں تین شعر کا اضافہ کیا، وہ شعر بھی سن لیجیے؎ مری کھل کر سیہ کاری تو دیکھو اور ان کی شانِ ستاری تو دیکھو گڑا جاتا ہوں جیتے جی زمیں میں گناہوں کی گراں باری تو دیکھو کرے بیعت حفیظؔ اشرف علی سے بہ ایں غفلت یہ ہشیاری تو دیکھو۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries