اتوار مجلس  ۲۸  مارچ  ۲۰۲۱     :رائی برابر تکبر کا عذاب  !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:49) بیان کے آغاز میں جناب سید ثروت صاحب نے شیخ الحدیث ساوتھ افریقہ حضرت مولانا منصور الحق ناصر صاحب کے اشعار پڑھ کر سنائے۔۔ یہ اشعار پڑھ کر سنائے...عشقِ مولی میں جو مبتلا ہوگیا اور کبھی شیخ کامل کی صحبت نہ چھوڑو

03:18) پھر جناب مولانا محمد کریم صاحب سے حضرت شیخ نے اشعار پڑھنے کا فرمایا حضرت کامل الہ آباد ی چائلی صاحب دامت برکاتہم جو حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب کے داماد بھی ہیں اور خلیفہ بھی ہیں کے اشعار محفل ہے اہل دل کی پڑھ کر سنائے۔۔

10:09) حضرت شیخ نے اشعار کی تشریح بھی فرمائی۔

10:23) حرام عشق کا وبال۔

11:50) حرام عشق میں انسان کیا کیا نہیں کرتا۔ 12:59) گدھا نمبر آٹھ۔۔

13:07) حرام عشق میں کیا زندگی گذرے گی۔

14:30) اگر توبہ کرلی پھر مایوس نہیں ہونا توبہ ہوتے ہی اللہ پاک سب گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں۔

17:26) رزاق کون ہے..یہ لڑکیاں رزاق نہیں ہیں کہ لڑکیوں کو دوکان پر رکھ رہے ہیں کہ سیلز زیادہ ہوگی۔۔رزاق اللہ تعالی ہیں۔

18:57) اتقو اللہ...یہ ڈر ہی اپنے گناہوں سے بچائے گا..یہ ڈر ہی سود سے بچائے گا...یہ ڈر ہی حرام کام سے بچائے گا۔۔۔

19:45) چارنصیحتیں یاد کرلیں۔ ہونٹوں پر تبسم لہجہ نرم چہرے پر شفتگی مخلوق ِ خدا پر شفقت و رحمت۔۔

21:51) حدیث سن کر بھی اکڑ میں رہتے ہیں پھر بھی محبت سے بات نہیں کرتے۔

22:24) دس سال خانقاہ میں رہے لیکن اصلاح نہیں کرائے گا تو کیا خود اصلاح ہوجائے گی۔

23:01) حضرت شیخ نے دوبارہ اشعار مکمل کرنے کا فرمایا۔۔

23:53) پی جائیے سمند ر لیکن نہ چال بدلے فرمایا مطلب کہ چاہے جتنے بیانات ہوجائیں،تعریف ہوجائے نیک اعمال ہوجائیں تو چال نہ بدلے ایسا نہ ہو کہ اپنی واہ میں برباد ہوجائے کہ میں نے یہ کیا۔۔۔

33:05) جس کو اللہ والا بننا ہے وہ کونو مع الصدقین پر عمل کرے گا۔

33:23) جس دین کے شعبے میں ہوں اُس کو چھوڑیں مت..اس شعبے سے نیکیاں ملیں گی بس اُس نیکیوں کی حفاظت کے لیے کونو مع الصدقین ہے۔

36:03) اصلاح فرض ہے،پردہ فرض ہے اُس کی فکر نہیں۔۔

37:29) تکبر کے بارے میں حدیث پاک۔ یہ تکبر کا مرض اتنا خطرناک مرض ہے کہ ایک شخص تہجد پڑھتا ہے، اشراق پڑھتا ہے، تبلیغ میں چلّے لگاتا ہے، بخاری شریف پڑھاتا ہے مگر جب مرا تو دل میں تکبر لے کر گیا۔ قیامت کے دن اس کا کیا حال ہوگا۔ وہ حدیث سن لیجئے۔ مسلم شریف کی روایت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِّنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ اِنَّ الرَّجُلَ یُحِبُّ اَنْ یَّکُوْنَ ثَوْبُہٗ حَسَنًا وَّنَعْلُہٗ حَسَنًا قَالَ اِنَّ اللہَ جَمِیْلٌ یُّحِبُّ الْجَمَالَ اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَ غَمْطُ النَّاسِ۱ ترجمہ:و ہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ایک ذرہ برابر بڑائی ہو گی، ایک صحابی نے عرض کیا کہ ایک شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کے جوتے اچھے ہوں(کیا یہ بھی کبر ہے؟) تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اﷲ تعالیٰ جمیل ہیں اور جمال کو پسند کرتے ہیں۔ کبر (کی حقیقت) حق بات کو قبول نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔

41:50) رشتے کے لیے کن چیزوں کا دیکھنا ہے؟

45:08) ایک خاتون کا خط کسی اللہ والے کے پاس اتنے رشتے آئے لیکن والدین نے شادی نہیں کی۔۔ہوتے ہوتے عمر زیادہ ہوگئی۔واقعہ۔۔

46:52) بیوہ کی شادی جلدی کرانا چاہیے۔۔

47:14) بیوہ کی شادی کو برا سمجھنا اس کے بارے میں کیا حدیث پاک ہے دیکھ لیں بڑی سخت وعید ہے۔۔

50:34) بیوہ والدہ کے نکاح پرحضرت والا رحمہ اللہ کے خاندان والوں کی ملامت۔۔ ہندوستان میں بیوہ کی شادی کوہندوؤں کے اثر کی وجہ سے بہت معیوب اور برا سمجھا جاتاتھا،وہاںہندو عورتیں جو بیوہ ہوجاتیں تو شادی نہیں کرسکتی تھیں خصوصاً دیہاتوں میں مسلمانوں کا بھی یہی حال تھا ۔ حضرت پھولپوریh سے والدہ کا نکاح کرانے کے بعد جب حضرت والااپنے وطن واپس آئےتو حضرت والا کے بھانجے نے بتایا کہ حضرت کے سب خاندان والوں نے حضرت والاکوبہت ستایا، برا بھلا کہا۔ حضرت نے کوئی جواب نہیں دیا،بس سیدھے مسجد میں تشریف لے گئے، وضو کرکے دو نفل پڑھ کرسجدے میں گرگئے۔ایک گھنٹہ بھی نہیں ہواتھا کہ کسی کی بیوی گرپڑی، کسی کے بچے کو بخار چڑھ گیا، کسی کے والدین مرنے لگے، پورے خاندان کے اندرہاہا کار مچ گئی، پھر و ہ سب کے سب بھاگے ہوئےحضرت والاکے پاس آئے اور پاؤں پر گرگئے، یہ حضرت والا کی کرامت کا ظہور ہوا۔

53:40) کسی شرعی عذر کی وجہ سے حضرت کہیں تشریف لے گئے تو یہاں سے حافظ ڈاکٹر شفقت صاحب سے حضرت شیخ نے بیان کرنے کا فرمایا۔۔

دورانیہ 1:29:37