مجلس  ۳۱   مارچ  ۲۰۲۱     عشاء    : اللہ والوں کے ذریعے سے  اللہ تعالیٰ کی محبت ملتی ہے         !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

00:55) بیان کے آغاز میں خصائل نبویﷺ کتاب سے تعلیم ہوئی۔

03:26) تعلیم کے بعد حضرت شیخ نے جناب مصطفی مکی صاحب سے اشعار پڑھنے کا فرمایا۔۔

06:22) شیخ کیسا ہونا چاہیے۔۔ طریق وصول الیٰ اﷲ کی تمثیل ہوائی جہاز سے ارشاد فرمایا کہ اﷲ کا راستہ جلد طے کرنے کے لیے اور اﷲ والا بننے کے لیے چند چیزیں ضروری ہیں جس طرح ہوائی جہاز اڑانے کے لیے چند چیزیں ضروری ہوتی ہیں(۱) رن وے ہو۔ اسی طرح ا ﷲ تک پہنچنے کے لیے شریعت وسنت کا راستہ ہو یہ اس کا رن وے ہے۔(۲) جہاز کا کوئی پائلٹ ہو۔ یہ پیر ہے کسی سچے مرشد سے تعلق قائم کیجئے۔(۳) پائلٹ مخلص ہو پیٹو اور چکر باز نہ ہو ورنہ بجائے جدہ لانے کے ماسکو لے جائے گا جعلی پیر جنت کے بجائے دوزخ پہنچا دے گا (۴) جہاز کے ٹیک آف کرنے کے لیے پٹرول بہت زیادہ چاہیے الخہ۔۔۔

09:04) جتنا شیخ سے مضبوط تعلق ہوگا اتنا ہی فائدہ ہوگا۔

09:23) اللہ کی محبت کی کرنٹ۔

09:35) اسی میں موت آجائے اطلاع اور اتباع۔۔

09:52) بغیر توبہ کے نہیں رہنا ہے۔۔

10:08) یعنی صدا لگائے جا بیٹھے گا چین سے اگر کام کے کیا رہیں گے پر گو نہ نکل سکے مگر پنجرے میں پھڑ پھڑائے

جا 10:52) اگر چہ پُر خطاء ہے تیرا بندہ

11:14) دیکھ تیرا گہرہ دوست کون ہے؟

13:21) احسانی کیفیت

19:37) جس جہاز کا پائلٹ بندر ہو وہ جہاز گرے گا نہیں تو کیا ہوگا تو فرمایا شیخ بھی قلندر ہو بندر نہ ہو اللہ کو ناراض نہ کرتا ہو۔۔

20:32) اپنی شکل پر ناز مت کریں دیکھیں کہ میں قلندر ہوں یا بندر ہوں۔۔

21:36) جو کرتا ہے تو چھپ کے اہلِ جہاں سے کوئی دیکھتا ہے تجھے آسماں سے

22:53) ’’من اعترض علی شیخہ ونظر الیہ احتقارا فلا یفلح ابدا‘‘ جس نے اپنے شیخ پر اعتراض کیا اور اس کو حقارت کی نظر سے دیکھا وہ کبھی فلاح نہیں پاسکتا۔

26:13) دیسی آم ہو لنگڑا آم کرنے کی مثال۔۔۔ اللہ والا بننے کی چودہ سو برس پہلے کی ٹیکنالوجی۔۔

28:11) جس کو جو کچھ ملا اللہ والوں کے ذریعے ہی ملا۔۔۔

31:24) حضرت شیخ نے دوبارہ اشعار پڑھنے کا فرمایا۔۔

31:37) دو کام کرلیں تو کبھی بھٹک نہیں سکتے ایک عقیدہ صحیح ہو اور گناہ کو گناہ سمجھ لیں یہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی نصیحت ہے۔۔

32:46) جو مقصود شیخ کو بنائے گا وہ مر جائے گا اللہ کو کبھی نہیں پا سکتا۔۔

35:49) شیخ تو بس بتادیا راہ۔۔۔

36:22) اللہ کی ربوبیت کی شان۔۔

39:07) حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی تقوی کی مثال کہ ٹرین میں وزن زیادہ نہیں لے کر گئے اور ٹرین ماسٹر لائٹ لایا لیکن نہیں استعمال فرمائی۔۔۔

42:31) دعا عبادت کا مغز ہے اللہ سے مانگ کر تو دیکھیں۔۔۔

43:28) سب سے زیادہ کامیابی اللہ تعالی کو راضی رکھنے میں ہے۔۔

43:53) اگر شیخ کے لیے اللہ کو چاہتے تو اللہ کی نافرمانی نہ کرتے اس کا مطلب شیخ کو بھی تم نہیں چاہتے کیو نکہ اللہ کو ناراض نہ کرتے۔۔

46:17) گناہ چھوڑنے کے لیے کون سی طاقت چاہیے۔۔

50:47) حضرت شیخ نے دوبارہ اشعار پڑھنے کا فرمایا۔۔ غرض اتنی ہے بس پیر مغاں کے جام و مینا سے کہ ہم مالک کو اپنے دیکھ لیتے قلبِ بینا سے یہ والے اشعار بھی پڑھنے کا فرمایا۔۔

54:03) وہ مالک ہے جہاں چاہے تجلّی اپنی دکھلائے نہیں مخصوص ہے اس کی تجلّی طورِ سینا سے

56:40) جوناداں ہیں وہ اہل اﷲکی عظمت کو کیا جانیں کوئی دیکھے مقامِ اہل دل کو چشم بینا سے خدا کے ذکر سے وہ کیف ہے ہر قلب عارف میں کہ یہ بِکتے نہیں دنیا کے فانی وجام و مینا سے

58:54) بہت روئیں گے کرکے یادِ اہل مے کدہ مجھ کو شرابِ دردِ دل پی کر ہمارے جام و مینا سے

01:00:03) یہ مانا کہ شکستِ آرزو ہے تلخ تر اخترؔ مگر اے دل خدا ملتا ہے بس خونِ تمنّا سے

01:01:17) غرض اتنی ہے بس پیر مغاں کے جام و مینا سے،فرمایا یہ شعر والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا کی تشریح ہے،حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ جس نے ہمیں ایک حرف سکھایا وہ ہمارا آقا ہم اس کے غلام،تکبر سے متعلق ارشاد۔۔۔۔،ولولافضل اللہ علیکم ورحمته مازکی منکم من احدا ابدا۔۔۔۔۔۔الایہ کے بارے میں ارشاد، بھروسہ کچھ نہیں اس نفس امارہ کا اے زاہد ۔۔۔۔۔فرشتہ بھی ہو جائے تو اس سے بدگمان رہنا۔