مجلس ۲۹ مارچ   ۲۰۲۱      عشاء :شبِ برأت  برکت والی رات ہے اس کی قدر کر لیں       !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:43) بیان کے آغاز میں جناب سید ثروت صاحب نے شیخ العرب والعجم حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعار (رنگ لائیں گی کب میری آہیں)پڑھ کر سنائے۔۔

14:51) گناہ میں سکون چین اطمینان نہیں جب تک ہم توبہ نہیں کریں گے ہمیں سکون نہیں ملے گا۔

15:03) ہم دوسرے کوخوش کرتے رہیں گے گناہ کرکے اور اللہ کو ناراض کرتے رہیں گے۔

15:26) دین آزمانے کے لیے نہیں ہے۔

15:51) نیک بننا فرض لیکن اپنے کو نیک سمجھنا حرام ہے۔

15:57) ماہ رمضان ہے عہد وفا کی تجدید ناصر رو رو کے اُن کو منالینے دو۔

16:08) ایک ہے توبہ کرنا..توبہ آسمان سے آتی ہے۔

17:25) محبت دونوں عالم میں یہی جاکر پکار آئی جسے خود یار نے چاہا اسی کو یادِ یار آئی۔۔

19:22) حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو وقت ضائع کرتے ہیں فیس بک میں یوٹیو میں لڑکیوں سے باتیں کرنے میں وقت ضائع کرتے ہیں۔۔

20:16) مالداری کو غنیمت سمجھ لو مفلس ہونے سے پہلے جوانی کو غنیمت سمجھ لو

21:10) ایک مزدور کے بیٹے کے پاس 36ہزار کا موبائل اور ہر وات بس گیم گیم گیم۔۔۔اب بتائیں کیا اِس کی نحوست کا اثر نہیں ہوگا۔۔

21:47) برکت والی ذات ہے اللہ تعالی کی ۔۔

24:40) حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو غیبت کرتیں ہیں دو دو گھنٹہ باتیں کرتے ہیں وقت کا ضائع کرتے ہیں اگر اللہ تعالی نے قیامت کے دن پوچھ لیا کہ تم نے مجھ سے باتیں کیوں نہیں کہا تو کہا کہ اللہ پاک آپ سے باتیں کرنا کیسا..قرآن پاک کیوں نہیں پڑھا قرآن پاک پڑھنا مجھ سے باتیں کرنا تھا۔۔

26:33) دل کا کپڑا توبہ کرکے اجلا رکھو پھر موٹر مکینک کے کپڑے کی مثال بیان فرمائی۔

27:51) اتقو اللہ...اللہ سے ڈرو اب اسی میں فلمیں چھوڑنا آگیا ،لڑکیوں سے حرام دوستی نہ کرنا آگیا اگر ہم مبتلا ہیں تو اللہ کا ڈر کہاں؟

28:38) لسان اختر شیخ الحدیث حضرت مولانا شاہ عبدالمتین صاحب رحمہ اللہ کا تذکرہ۔۔

29:33) کسی اہلِ دل کی صحبت جو ملی کسی کو اخترؔ اسے گیا ہے جینا اسے آگیا ہے مرنا جینا کیا ہے اطاعت اور مرنا کیا ہے کہ گناہ نہ کرکے نفس کو مار دیا۔۔

30:55) یہ رات بہت برکت والی ہے فرمایا کہ اس میں مغفرت مانگیں۔

31:13) اس رات میں گناہ نہ کرنے سے بہتر ہے کہ عشاء کی نماز جماعت سے مسجد میں پڑھیں اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھیں اور رات کو نیت کرکے سوگئے تو ساری رات عبادت میں لکھا جائے۔۔

32:06) صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کو صحبت کا فیضان کیا ملا...{یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اﷲِ وَرِضْوَاناً}ہر وقت اﷲ تعالیٰ کے فضل اور رِضامندی کو ڈھونڈتے رہتے ہیں۔حضرت والا شیخ العرب والعجم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے شیخ اوّل حضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اﷲ علیہ اِس کا ترجمہ یوں فرماتے تھے کہ صحابہ ہر وقت اﷲ تعالیٰ کی رِضا و خوشنودی کو سونگھتے پھرتے ہیں کہ کیا کرلوں کہ میرا رب خوش ہوجائے۔اُن کے اخلاص کا یہ اثر ہے کہ : {سِیْمَاھُمْ فِیْ وُجُوْھِھِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ} اُن کی عبدیت کے آثار بوجہ تاثیرِ سجدہ کے اُن کے چہروں سے نمایاںہورہے ہیں۔

34:47) ایک صاحب کہ میں جہاں جانا چاہتا ہوں چلا جاتا ہوں یہ بات علامہ بنوری رحمہ اللہ کے والد صاحب کو کسی نے کہا تھا پھر کیا ہوا واقعہ سن لیں۔۔کہ بیت الخلاء میں اس سے توبہ کرائی۔۔

37:36) کسی نے لکھا کہ والد صاحب دو گناہوں میں بہت زیادہ ہیں میں کیسے والد صاحب کو کہوں؟۔

37:59) جتنا علماءسے دور اللہ سے دور، جتنا اللہ والوں سے دور اتنا اللہ سے دور۔۔۔ خاصانِ خدا خدا نہ باشند لیکن زخدا جدا نہ باشند۔۔ اللہ والے خدا نہیں ہیں لیکن وہ خدا سے جدا بھی نہیں ہیں۔ دیکھ لو دھوپ نظر آرہی ہے جہاں سورج کی شعاعیں پڑ رہی ہیں وہی دھوپ ہے، آپ اُس کو سورج نہیں کہہ سکتے لیکن یہ سورج سے الگ بھی نہیں۔ ابھی سورج ہٹ جائے تو دھوپ بھی ختم ہوجائے گی۔ تو اللہ والے اللہ نہیں ہیں، اُن کو اللہ کہنا کفر ہے، شرک ہے لیکن وہ اللہ سے جدا بھی نہیں ہیں۔ دھوپ اور سورج میں جو نسبت ہے وہی اللہ تعالیٰ میں اور اللہ والوں میں ہے کہ وہ اللہ کے نور سے روشن ہیں، اُن کی روشنی ذاتی نہیں ہے۔ دھوپ کی گرمی سے سورج کی گرمی مل جاتی ہے، اللہ والوں کے پاس بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی رحمت مل جاتی ہے۔

38:55) دو وجہ سے لوگ اصلاح نہیں کراتے ۔۔۔ نمبر ایک کہ شیخ ہم کو حقیر سمجھے گا۔۔

39:31) ہر شخص جو بڑا ہے چاہے گھر کا بڑا ہو،کمپنی کا بڑا ہو تو اس سے اُس کی رعایا کا سوال ہوگا۔۔

42:10) جب کسی مبتلائے مصیبت کو دیکھیں تو یہ دعا پڑھ لیں۔۔ جس کو نافرمانی میں مبتلا دیکھے تو دعا کرلے کہ یااللہ! ان کے فعل سے ہم کو محفوظ فرما اور یہ دعا بھی پڑھ لے: ’’الحمدللہ الذی عافانی مما ابتلاک بہ وفضلنی علی کثیر ممن خلق تفضیلا‘‘ شکر ہے کہ اے خدا! آپ نے مجھے اس گناہ میں مبتلا نہیں فرمایا۔

43:44) بغیر توبہ کے کبھی نہیں رہنا۔۔اور توبہ کے وقت مایوس بھی نہیں ہونا ہے۔۔

46:05) بتادیا کہ دو وجہ سے لوگ اصلاح نہیں کراتے کہ شیخ نفرت کرے گا ۔۔۔

46:59) دوسرا کیوں اصلاح نہیں کراتے۔۔۔

47:16) غالب کے شعر پر عمل مت کرو۔۔ کعبہ کس منہ سے جائو گے غالبؔ شرم تم کو مگر نہیں آتی اگر اس شعر پر عمل کرتے تو آج اہلِ ایمان کعبہ سے محروم ہوجاتے لہٰذا یہ شعر واجب الاصلاح تھا۔ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب فرمایا کہ اخترمیاں! میں نے اس شعر کی اصلاح کردی ورنہ غالب کا یہ شعر اللہ کی رحمت سے نااُمید کرکے کعبہ سے محروم کردیتا۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت سنادیجئے، کیا اصلاح فرمائی۔ فرمایا کہ یہ اصلاح کردی ؎ میں اسی منہ سے کعبہ جائوں گا شرم کو خاک میں ملائوں گا ان کو رو رو کے میں منائوں گا اپنی بگڑی کو یوں بنائوں گا۔۔

49:27) ہر شخص دوسرے کو نیک سمجھے۔

50:01) جو لڑکیوں کے لیے روتا ہے اُس کے آنسو گدھے کے پیشاب سے بھی بدتر ہیں۔۔

50:27) ترنم میں بہت درد دل سے حضرت والا نے یہ اشعار پڑھے۔۔ نہ گُلوں سے مجھ کو مطلب نہ گلوں کے رنگ و بو سے کسی اور سمت کو ہے مری زندگی کا دھارا جو گرے اِدھر زمیں پر میرے اشک کے ستارے تو چمک اُٹھا فلک پر میری بندگی کا تارا

51:46) کھولیں وہ یا نہ کھولیں در اس پہ ہو کیوں تری نظر تُو تو بس اپنا کام کر یعنی صدا لگائے جا

52:04) یاکریم معاف فرمادیں۔یااللہ معاف فرمادیں،یا رحمن معاف فرمادیں فرمایا کہ نام بدل بدل کر اللہ سے معافی مانگیں۔۔

52:37) تین نام اﷲ کے لیجئے یا اللہ یا رحمن یا رحیم۔ بسم اﷲ شریف میں یہ تین نام ہی نازل ہوئے ہیں اللہ، رحمن، رحیم، چلتے پھرتے یا اللہ یا رحمن یا رحیم پڑھتے رہیے اور اٹھ دس دفعہ کے بعد رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمین پڑھ لیجئے۔استغفار و توبہ کی برکت سے انشا ء اﷲ تعالی اﷲ ہم کو عافیت میں رکھیں گے۔۔۔

53:14) گناہ ہونا تعجب کی بات نہیں معافی نہ مانگنا تعجب کی بات ہے۔۔

54:33) دوسرا کیوں اصلاح نہیں کراتے کہ شیخ میرا راز کھول دے گا۔۔

55:59) ایک شرابی رئیس زادہ کے جذب کا واقعہ:۔ حضرت ذو النون مصری رحمتہ اﷲ علیہ کپڑے دھو رہے تھے دیکھا کہ ایک کچھو اایا اور دریا کے کنارے لگ گیا۔

57:43) ایک شرابی رئیس زادہ، خوب صورت جوان دریائے نیل کے کنارے اتنی شراب پی لی کہ قے ہوگئی، وہین زمین پر لیٹ گیا۔ دریائے نیل کے دوسرے کنارے پرحضرت ذو النون مصری رحمتہ اﷲ علیہ کپڑے دھو رہے تھے دیکھا کہ ایک کچھو اآیا اور دریا کے کنارے لگ گیا۔ذوالنون مصری نے دیکھا کہ یہ کچھوا دریائے نیل کے ساحل پر کیوں آیا ہے ،دیکھا کہ ایک بچھو جنگل سے تیزی سے آرہاہے، اتنا بڑا کالا بچھو اور وہ کچھوے کی پیٹھ پر بیٹھ گیا اور پھر وہ کچھوا واپس چلنے لگا اس پار۔ذوالنون مصری رحمتہ اﷲ علیہ نے کپڑا دھونا چھوڑدیا۔ سوچا کہ عالم غیب سے کوئی عظیم الشان واقعہ رونما ہونے والا ہے ۔ آپ بھی کشتی پر بیٹھ کر اسی کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ کچھوے صاحب جارہے ہیں اوربچھو صاحب اس کی پیٹھ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور بچھو کتنی دور سے آیا عین وقت پر اس کے لیے سواری بھیجی گئی۔یہ سب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہورہا ہے اب جناب دریائے نیل کے اس ساحل پرکچھوا لگ گیا، بچھو صاحب بھی پہنچ گئے۔ دیکھا کہ ایک کالا سانپ اس رئیس زادہ کو ڈسنے کے لیے آرہا ہے جو شراب پی کر بے ہوش لیٹا ہوا تھا تقریباً ایک گز کا فاصلہ رہ گیا تھا کہ اتنے میں بچھو نے کود کر اس کے پھن میں اپنا ڈنک مارا جس سے سانپ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ سانپ مرا پڑا ہوا ہے۔بچھو اپنے کچھوے پر تھوڑا سا آرام کر رہا ہے کیونہ بڑی محنت سے اس نے ڈنک مارا، بہت دور سے آیا تھا ۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اﷲ علیہ نے اس جوان کو دیکھا اور اس کا نشہ ختم ہوچکا تھا۔ آنکھ کھولی تو دیکھا کہ حضرت ذوالنون مصری کھڑے ہیں، کہا کہ حضرت آپ اتنے بڑے ولی اﷲہیں مصر کے اکابر اولیاء اﷲ میںسے ہیں ، آپ یہاں کہا ںآگئے مجھ جیسے بدکار اور شرابی کے پاس۔ فرمایا صاحبزادے سنو! تم شراب پی کر مست اور بے ہوشی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے لیکن تمہاری جان بچانے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے غیب سے کتنے اسباب پیدا کیے ذرا س کی رحمت کو سُن ۔ کہا کیا بات ہے؟تو اﷲ کو بھولا ہوا تھا لیکن اﷲ نے تجھے نظر انداز نہیں کیا۔حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ یہ سانپ جو مرا ہوا ہے تجھے ڈسنے کے لیے ایک گز کے فاصلے تک آچکا تھا، یہ بچھو دریائے نیل کے اس پارسے آیا ہے اور کچھوے کو اﷲ تعالیٰ نے حکم دیا وہ اپنی پیٹھ لگا کر اس کے لیے کشتی بنا اتنی دور سے یہ بچھو آیا تیرے دشمن کے مقابلہ کے لیے اور تیرے سانپ کو مار دیا اور تیری جان اﷲ نے بچالی۔ تو تو اﷲ سے بے ہوش ہے مگر اﷲ تعالیٰ تجھ سے بے پروا بے خبر نہیں ہے۔ تم اﷲکو بھولے ہوئے ہو حق تعالیٰ تمہیں یاد فرمارہے ہیں۔ اتنا سارا انتظام دیکھ کر وہ رئیس زادہ رونے لگا اور کہا حضرت بس ہاتھ بڑھائیے میں توبہ کرتا ہوں اب کبھی شراب نہیں پیوں گا اور اسی وقت اﷲ تعالیٰ نے اس کو بہت بڑا ولی اﷲ بنادیا۔

59:41) وقت گذرا جارہا ہے اس رات کو قیمتی بنائیں۔۔۔

01:00:05) اس رات میں قبرستان جانا آپ ﷺ سے ایک بار ثابت ہے۔۔

01:01:51) حضرت سیّدنا ذوالبجادین رضی اللہ عنہ کا واقعہ ۔۔

01:05:01) کرنے والے کام کہ اپنے جانے والوں کے لیے اور والدین کے لیے ایصال ثواب کریں دوسرا صدقہ جاریہ کریں اور والدین کے لیے دعا کریں رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمین۔۔

01:06:23) اللہ والوں کو دیکھنے سے کیا ملتا ہے؟۔

01:06:39) آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم احد پہاڑ سے محبت کرتے ہیں سارے پہاڑ ہی آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں لیکن احد پہاڑ کا ذکر خاص وجہ ہے۔۔

01:08:20) ایک بادشاہ تبع کا ہزار سال پہلے وہ بھی آپ ﷺ کی پیدائش سے بھی ہزار سال پہلے کا یہ واقعہ جو حضرت شیخ نے پڑھ کر سنایا۔۔

01:15:39) گناہ پر چار گواہ بنتے ہیں:۔ پہلا گواہ۔ زمین خبریں اگلے گی۔ نمبر دو گواہ:۔ کراما کاتبین نمبر تین:اعضاء گواہی دیں گے۔ نمبر چار:۔

01:17:30) گناہوں سے رزق میں تنگی آجاتی ہے اور برکت نہیں رہتی۔۔ وارحمنا کے چار معانی بیان فرمائے۔۔ توفیق طاعت فراخی معیشت بے حساب مغفرت ور دخولِ جنت ۔۔

01:18:09) کریم کی چار تعریفیں ہیں۔ جو نالائقوں پر بھی مہربانی کردے جو ہم پر مہربانی کردے بدون سوال اور وسیلہ کے۔ جو ہم پر مہربانی کردے اور اپنے خزانے کے ختم ہونے کا اس کو اندیشہ ہی نہ ہو کیونکہ اللہ غیر محدود خزانے والا ہے۔ جو ہم پر اتنی مہربانی کردے کہ جو ہماری تمنائوں سے بھی زیادہ ہوں۔ مانگو ایک بوتل، دے دے ایک مشک۔ ایک بوتل شہد کوئی مانگے اور کریم دے دے ایک مشک۔ اللہ تعالیٰ اس طرح سے دیتا ہے۔

01:25:39) مارکیٹوں میں آج کیا کیا بے حیائی ہورہی ہے اور ہماری ماں بہن بہو بیٹیاں رمضان کا وقت وہاں ضائع کررہی ہیں۔۔

01:28:51) بادشاہ تبع کا واقعہ مکمل فرمایا۔۔

01:35:32) شبِ برأت کی حقیقت۔