مجلس ۳   جولائی  ۲۰۲۱  عشاء  :کفار کے  اعمال کی چار  مثال              !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:55) مولانا انور صاحب نے خصائل نبوی ﷺ سے حضورﷺ کے پھل کھانے سے متعلق احادیث مبارکہ پڑھ کر سنائی۔۔۔۔۔۔

01:57) حضرت والا رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو اللہ کا پیارا بننے کی فکر کرتا ہے وہ کامیاب ہے۔۔۔۔۔

06:17) کُفّار کی تعریف کرنے سے عرشِ اعظم ہل جاتا ہے۔۔۔۔۔

08:03) کفّار کے نیک اعمال کی مثال سے متعلق حضرت مفتی محمد نعیم صاحب دامت برکاتہم کا مضمون پڑھ کر سنایا۔۔۔۔۔چار مثالیں۔۔۔۔۔ایک اشکال کا جواب۔۔۔۔۔حضرت والا رحمہ اللہ کی مثال۔۔۔۔۔۔۔

25:45) مصطفیٰ بھائی نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعار پڑھ کر سنائے۔۔۔ تباہ ہو کے جو دل تیرا محرمِ غم ہے اُسے پھر اپنی تباہی کے غم کا کیا غم ہے ہزار خونِ تمنّا ہزارہا غم سے دلِ تباہ میں فرماں روائے عالَم ہے مجھے اس عالَمِ رنگ و بو سے کیا مطلب مری حیات تو بس آپ ہی کا اِک غم ہے خرد کے سامنے گرچہ ہیں صد ہزار عالَم نگاہِ عشق میں تیرا ہی ایک عالَم ہے جو آپ خوش ہیں تو ہر سُو بہار کا عالَم وگرنہ سارا یہ عالَم ہی عالَمِ غم ہے جو خوش ہیں آپ تو عالَم ہمارا عالَم ہے نہیں تو اپنا بھی عالَم تباہ و برہم ہے یہ پوچھتا ہے مرے دل میں اب ترا جلوہ کہاں ہے اور کدھر آرزو کا عالَم ہے نظامِ ہوش کا اخترؔ ہے اب خدا حافظ ہماری روح کہیں ماورائے عالَم ہے

31:52) مولانا انوار صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعار پڑھ کر سنائے۔۔۔ ان کی جانب رفتہ رفتہ لے چلا مری کشتی کا مرا غم ناخدا خون حسرت پی کے وہ عشرت ملی عیش دو عالم ہوا جس پر فدا میری حسرت کی بہاروں کو نہ پوچھ اہل عشرت بن گئے میرے گدا سب کی عشرت دل سے باہر ہو گئی میری حسرت میرے دل میں ہے سدا بے وفا عشرت ہے یا حسرت ہے میر سوچ کر خود فیصلہ کر لو ذرا ان کی رحمت میر پر سایہ فگن گو بظاہر میر ہے غم میں پڑا خواجگی ان کی ہماری بندگی جس طرح پالے تو ان پر رہ فدا خنجر تسلیم سے اے دوستو ہو رہی ہے غیب سے صد جاں عطا اہل ظاہر کو خبر اس کی نہیں جان حسرت کو ہے جو عشرت عطا عشرتیں تو دشمنوں کو بھی ملیں عاشقوں کو اپنا غم بخشا سدا ساری دنیا کے مزے فانی ملے غیر فانی مجھ کو تیرا غم ملا قبر کی جانب ہیں جن کی منزلیں مستند ان کو نہ تو اپنا بنا دشمنوں کو عیشِ آب و ِگل دیا دوستوں کو اپنا دردِ دل دیا ان کو ساحل پر بھی طغیانی ملی مجھ کو طوفانوں میں بھی ساحل دیا

43:03) مصطفیٰ بھائی نے حضرت تائب صاحب کے اشعار پڑھ کر سنائے۔۔۔

45:12) سیلمان سیف بھائی نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعار پڑھ کر سنائے۔۔۔ رہوں روز و شب گرچہ باغِ ارم میں وہ دونوں جہاں دیں عمومِ کرم میں کروں عیش گو ہر طرح کی نِعم میں عطا ہفت اقلیم ہو ہر قدم میں بہت خوش نما ہیں یہ بنگلے تمہارے یہ گملوں کے جھرمٹ یہ رنگیں نظارے ارے جی رہے ہو یہ کس کے سہارے کہ مرنے سے ہوجائیں گے سب کنارے اگر قربِ جان بہاراں نہیں ہے یہ ننگ خزا ہے گلستاں نہیں ہے جگہ ہے وہی ساری دنیا میں خوشتر جہاں آپ کے در پہ ہوگا مرا سر نہ ہر گز مرا سر ہو اور غیر کا در یہی ہے شب و روز فریادِ اخترؔ جو ہے آپ کا بس وہی ہے ہمارا ہمارا نہیں جو نہیں ہے تمہارا