مجلس ۴   جولائی  ۲۰۲۱فجر  :اک مرنے کے بعد کا بھی جاہ ہے اور وہ حرام ہے               !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:30) حضرت مولانا رومی رحمہ اللہ کی حضرت حسام الدین رحمہ اللہ سے ملاقات۔۔

لہذا مولانا رومی نے دعا مانگی تو حضرت حسام الدین مل گئے، پھر آخر تک ان کے ساتھ رہے، مولانا رومی کو حضرت حسام الدین سے بہت محبت تھی۔

02:35) حب جاہ بھی حرام ہے اور مرنے کے بعد کا بھی جاہ ہے اور وہ کیا ہے؟اور اللہ تعالی بھی جاہ کو طلب کرنا کہ یااللہ مجھے لوگوں میں مشہور کردیں۔۔۔

03:41) مفتی امجد صاحب نے فرمایا کہ ایک جاہ مرنے کے بعد کا بھی ہے۔۔۔

05:19) مثنوی مولانا روم کے ساڑھے اٹھائیس ہزار اشعار جو مولانا روم کی زبان سے جاری ہوئے اس کو حضرت حسام الدین ہی لکھتے تھے۔ ان کی درخواست پر ہی مثنوی شروع ہوئی جس کے چھ دفتر اور ساڑھے اٹھائیس ہزار اشعار ہیں ورنہ حضرت رومی کا کوئی ارادہ نہیں تھا، انہی نے مولانا رومی سے درخواست کی تھی کہ حضرت آپ نثر میں جو آگ برساتے ہیں ان انگاروں کو ترتیب دے کر اشعار میںپیش کردیجئے پھر جب مولانا رومی نے اشعار کہنا شروع کئے تو حسام الدین ہی نوٹ کرتے تھے، اور جب لکھتے لکھتے پانچ دفتر ہوگئے تو حضرت رومی نے فرمایا اے حسام الدین، اب کنویں کا دروازہ بند کردے، کیونکہ اب پانی میں مٹی آرہی ہے، اگر کنویں سے مسلسل پانی نکالوگے تو مٹی آنے لگے گی، لہٰذا اسے تھوڑا سا وقت دو تاکہ اس میں نیچے سے پھر صاف پانی جمع ہوجائے اور فرماتے ہیں کہ ماں کو بھی مہلت چاہئے، ماں اگر مسلسل دودھ پلائے گی تو دودھ کے بجائے خون آنے لگے گا۔۔۔

06:23) مولانا رومی رحمہ اللہ نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا کہ اپنے بیانات اور علم پر ناز مت کرو ۔۔۔

10:26) پرانے غرفۃ السالکین کا تذکرہ کہ کیسے غرفۃ السالکین کو کرائے پر لیا اور پھر اللہ پاک نے یہ کتنی بڑی نعمت عطافرمائی۔۔۔ایک بہت راز کی بات۔۔۔

14:12) فرماتے ہیں کہ کچھ دن کے لئے میں نے مثنوی بند کردی ہے، کیونکہ کچھ مہلت ملنی چاہیے، تاکہ خون دودھ بن جائے۔ پھر چند دنوں کے بعد جب سوتے سے پانی دوبارہ ابلنے لگا، خوب انوار جمع ہوگئے اور دل سے چھلکنے لگے تو پھر حسام الدین کو بلایا اے حسام الدیں، ضیاء الدیں، بسے میل می جوشد بقسمِ سادِسے حسام الدین ، ضیاء الدین، دونوں نام مولانا رومی لیتے تھے، کبھی حسام الدین کہتے تھے، کبھی ضیاء الدین کہتے تھے، اے حسام الدین ، دیکھو، اب چھٹے دفتر کی طرف میلان ہورہا ہے اور دوبارہ لکھنے کا جوش پیدا ہو رہا ہے، اب مضامین دوبارہ سے چھلک رہے ہیں، لہٰذا جلدی سے نوٹ کرنا شروع کردو، اب مثنوی کا چھٹادفتر شروع ہو رہا ہے۔۔

15:47) مولانا رومی کا اپنے مرید حسام الدین سے والہانہ تعلق شیخ اپنے مرید کو کہہ رہا ہے کہ؎ اے حسام الدیں، ضیائے ذوالجلال میل می جوشد مرا سوئے مقال اے حسام الدین، تم اللہ کی روشنی ہو، پیر مرید کو کہہ رہا۔ اللہ نے ان کو مرید بھی کیسے دیئے، کبھی شاگرد ایسا مل جاتا ہے جس پر استاد ناز کرتا ہے۔ سبحان اللہ، اے جلال الدین تم اللہ کی روشنی ہو، اب مجھے دوبارہ بولنے کا میلان ہورہا ہے، اب میں دوبارہ گفتگو کررہا ہوں، مثنوی کو لکھوانے والا ہوں، اب کاغذ قلم لے کر ہوشیار ہو جاؤ، دفترِ ششم، چھٹا دفتر شروع ہونے والا ہے۔

20:20) ذکر۔۔۔