مجلس۷جولائی  ۲۰۲۱ فجر :       سالکین کا راستہ تباہ کرنے والی دو چیزیں     !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

00:53) اشعار کا حکم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ اشعار کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اشعار کا کیا حکم ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ شعر ایک کلام ہے، پس اچھا ہے تو اچھا ہے اور برا ہے تو برا ہے۔ بزرگوں نے لکھا ہے کہ اشعار کی مثال حوض کی سی ہے، اگر حوض میں ناپاک پانی ہے تو اگر کوئی اس میں غوطہ مارے گا تو ناپاک ہوجائے گا لیکن اگر حوض میںعرقِ گلاب ہے تو اس میں غوطہ مارنے سے سارا جسم مہک اٹھے گا۔ پس اگر دل میںاللہ پاک کی محبت ہے تو اچھے اشعار سن کر دل میں اللہ کی محبت کا جو ش اُٹھے گا اور اگر حسینوں کا عشق ہے، اَمردوں کا عشق ہے تو اس کا خیال اسی طرف جائے گا۔

03:28) تو میں عرض کر رہا تھا کہ ہمارے بزرگوں نے فرمایا ہے اور میرا مشورہ بھی یہی ہے کہ اساتذہ کو اور مہتمم حضرات کوبھی نوجوان بچوں سے اس وقت تک ہاتھ پاؤں نہیں دبوانے چاہئیں جب تک ان کے پوری ایک مشت ڈاڑھی نہ آجائے یعنی اتنی زیادہ عمر ہوجائے کہ جس کی وجہ سے پوری ایک مشت ڈاڑھی نکل آئے۔ یہ جو بات میں کہہ رہا ہوں، اس کا جگہ جگہ اعلان کر رہا ہوں کہ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اگر ہم نے ایسے لڑکوں سے ہاتھ پائوں دبوانا شروع کر دئے تو جتنے ہمارے مرید ہیں وہ اس کو حجت بنا لیں گے کہ شیخ نے دبوایا ہے، لہٰذا شاید یہ کوئی اچھا کام ہے۔ پھر جب وہ استاد بنیں گے تو امردوں سے ٹانگیں دبوائیں گے اور یہ اتنا بڑا فتنہ ہو گا جو دائرۂ تحریر میں نہیں آسکتا۔

10:16) اب رہ گیا ان بے ریش اور ہلکی ہلکی ڈاڑھی والے طلبہ و مریدین کا یہ سوال کہ اگر ہم اپنے بزرگوں کی خدمت نہیں کریں گے تو ہمیں فیض کیسے ملے گا؟ تو فیض حاصل کرنے کا نسخہ سن لو کہ ان سے کوئی بھی جسمانی خدمت نہ لی جائے، ہاں کپڑے دھلوالیں، چائے بنوا لیں، جھاڑو لگوا لیں لیکن جسم کو نہ چھونے دیں۔ جب تک کہ پوری ایک مٹھی ڈاڑھی نہ ہوجائے اور ان میں ذرہ بھر بھی کشش نہ رہے اس وقت تک جسمانی خدمت نہ لیں۔ یہ فیصلہ ڈاڑھی پر بھی موقوف نہیں ہے بلکہ اپنے قلب سے فیصلہ کرو کہ کسی لڑکے کی طرف ایک اعشاریہ بھی میلان تو نہیں ہے؟ اور اگر ذرہ برابر بھی میلان ہو تو پوری ڈاڑھی والے سے بھی سخت احتیاط رکھو۔ اس سے ان شاء اللہ سلوک آسان ہو جائے گا۔

11:59) اور وہ فیض جو خطرۂ حیض رکھتا ہو اس فیض سے توبہ کر لیجئے۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں؎ فَاتَّقُوْا اِنَّ الْھَوٰی حَیْضُ الرِّجَال اے دنیا والو، ڈرو، مردوں کو بھی حیض آتا ہے، اور ان کا حیض وہ خواہشاتِ نفسانیہ ہیں جن میں وہ مبتلا ہو گئے۔ جیسے حیض والی عورت نماز نہیں پڑھ سکتی، اللہ کے دربار میں حاضر ہونے کے قابل نہیں رہتی، ایسے ہی جو نفس کے غلام خواہشاتِ نفسانیہ کی اتباع میں لگ جاتے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے قرب سے محروم کر دیئے جاتے ہیں، اور وہ بھی اللہ کی عبادت کے قابل نہیں رہتے۔

12:55) سالکین کا راستہ مارنے والی دو چیزیں:۔ حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سالکوں کو دو ہی چیزیں مارتی ہیں، ان کا نفس بھی مٹ جاتا ہے، کبر بھی نکل جاتا ہے مگر شیطان سالک کو امرد کے عشق میں اور عورت کے عشق میں مبتلا کرا کے سارا سلوک ختم کرا دیتا ہے، کیونکہ وہ ان چیزوں کو جانتا ہے کہ عورت کے آگے بھی شیطان ہے، پیچھے بھی شیطان ہے، لہٰذا سالکوں کو ان چیزوں میں پھنسا دیتا ہے، پھر سالک کی روح اُڑ نہیں سکتی۔ جیسے کوئی چڑیا اڑنا چاہے اور کوئی اس کے پروں میں گوند لگا دے تو کیا وہ اڑ سکے گی؟ پس شیطان جب کسی کو دیکھتا ہے کہ وہ اللہ والا بننا چاہتا ہے، ذکر کر رہا ہے، اللہ سے رورہاہے تو اسے عورتوں اور لڑکوں کے عشق کا گوند لگا دیتا ہے، پھر اس کی روحانیت کے پر مفلوج ہوجاتے ہیں، اب روح کیسے اڑے گی؟ اللہ تک کیسے پہنچے گی؟ اسی لئے یہ سب چیزیں شریعت میں حرام ہیں۔

14:33) حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عشقِ مجازی عذابِ الٰہی ہے، دنیا میں بھی عاشقِ مجاز کو چین نہیں ملتا اور فرمایا کہ جو جہنم کا مزاج ہے وہی عشقِ مجازی کا مزاج ہے، یعنی جہنم میں نہ موت آئے گی، نہ زندگی ملے گی، یہ ہی دنیا کے عاشقوں کا حال ہے۔ بتوں کے عشق والوں، لڑکوں کے عشق والوں، عورتوں کے عشق والوں کا یہی حال ہوتا ہے

15:48) لَایَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی۔۔ نہ موت ملتی ہے نہ زندگی۔ حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی بد نگاہی کر کے آتا ہے، کسی نامحرم عورت کو دیکھ کر آتا ہے پھر تلاوت کرتا ہے تو اس کو تلاوت میں مزہ نہیں آتا، وہ اللہ اللہ کرے گا لیکن مزہ نہیں آئے گا جب تک کہ وہ خوب تو بہ نہ کرلے۔ اس قسم کی حرکتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنی عبادت کی مٹھاس چھین لیتے ہیں۔

23:44) اور بندہ جب دوسرے گناہ کرتا ہے، جیسے غیبت کر لی، جھوٹ بول دیا، نماز قضا کردی تو دل کا رخ تھوڑا سا اللہ کی طرف سے پھرتا ہے۔ جیسے دل اللہ کی طرف ۹۰ ڈگری لگا ہوا ہے، پھر جھوٹ بولا، غیبت کی، نماز قضا کردی، روزہ قضا کردیا تو دل تھوڑا سا مثلاً ۴۵ ڈگری اللہ کی طرف سے پھر گیا لیکن جب ذرا سی ہمت کر لی، تو بہ کر لی، قضا نماز روزہ ادا کرلیا تو پھر دل کا رخ اللہ کی طرف ۹۰ ڈگری ہوگیا لیکن اگر کسی حسین سے دل لگالیا، لڑکی ہو یا لڑکا تو ایک دم دل کا رخ اللہ کی طرف سے ۱۸۰ درجے پِھر جاتا ہے، یعنی اللہ کی طرف دل کی پیٹھ ہوجاتی ہے اور منہ اس حسین صورت کی طرف ہوجاتا ہے اور اب وہ نماز بھی پڑھتا ہے تو دل اللہ کی طرف نہیں ہوتا، اسی حسین کا خیال دل میں رہتا ہے۔ جسم تو خدا کے سامنے کھڑا ہے مگر دل اسی حسین کی یاد میں ہے۔ اتنا نقصان پہنچتا ہے۔ دوستو، اتنا نقصان کسی گناہ سے نہیں پہنچتا جتنا بدنظری اور عشقِ مجازی سے پہنچتا ہے۔

25:27) کان پور میں ایک مولوی صاحب تھے، جو کسی بزرگ کے صحبت یافتہ، اللہ والے نہیں تھے۔ ان کو ایک لڑکے اکبر حسین سے عشق ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ میں جب اَللّٰہُ اَکْبَر کہتا ہوں تو وہی لڑکا اکبر حسین یاد آتا ہے، تو بتائیے، کتنا ضرر پہنچا کہ تکبیرات کہہ رہے ہیں کہ اَللّٰہُ اَکْبَر اللہ سب سے بڑے ہیں لیکن دل کہیں اور ہے، دل اکبر حسین کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ آہ، غیر اللہ کے عشق سے اتنا نقصان پہنچتا ہے۔ اسی لئے بزرگ فرماتے ہیں کہ بدنظری اور عشقِ مجازی سے سوئے خاتمہ کا اندیشہ ہے، اللہ پناہ میں رکھے۔