مجلس۷ ستمبر   ۲۰۲۱فجر :چند دن خونِ تمنا پر بہار نسبت عطا ہوتی ہے   !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

00:42) شیخ العرب والعجم حضرت والامولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کی اشاعت دین کی تڑپ اوراخلاص:۔ یہ تقریر جو ابھی میں کررہا ہوں تو یہ میں اپنی آبرو کو ختم کر کے تقریر کرتا ہوں، لوگ کہتے ہیں کہ یہ پیر تو سب باتیں جانتا ہے اور بدگمانی کرتے ہیں لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں۔ جو مرض اس زمانے میں کالرا ہیضہ کی طرح پھیلا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ سے محرومی کا سب سے بڑا سبب ہے بھلا لوگوں سےڈر کر میں اس پر بیان نہ کروں؟

02:00) پشاور میڈیکل کالج میں جب میں نے اس مضمون کو بیان کیا تو میڈیکل کالج کے ڈیڑھ ہزار لڑکوں نے کہا کہ اس عالم نے تو ہمارا ایکسرے کرلیا، ہمارے اندر جو جو مرض تھے سب بیان کر دیے۔ انہوں نےکہا کہ ہم ملّائوں سے نفرت کرتے تھے لیکن اس کی تقریر نے تو ہمیں پاگل کردیا، ایک ہفتہ ہمیں ان کے ساتھ اور مل جائے تو ہمیں بہت فائدہ ہوگا اور جن پروفیسر صاحب نے میری ان طلبہ سے ملاقات کرائی تھی انہوں نے بتایا کہ یہ اتنے بدتمیز لڑکے ہیںکہ استادوں سے لڑتے ہیں اور ان کے سامنے ان کو چھیڑنے کے لئے میز بجاتے ہیں مگر آپ کی تقریر انتہائی ادب اور محبت سے سنی اور آخر میں سب نے مصافحہ بھی کیا اور بعضوں نےمیرا کراچی کا پتا بھی لکھا۔ یہ کیا بات ہے؟ یہی بات ہے کہ اللہ کے نام پر توفیق مانگتا ہوں کہ یا اللہ، اپنے نام پر اختر کو جان، مال، عزت، آبرو، سب کچھ قربان کردینے کی توفیق نصیب فرمائیے اور میرے دوستوں کو بھی۔

05:26) حضرت والا دامت برکاتہم نے فرمایا کہ میرے موجودہ شیخ الحدیث حضرت مولانا شاہ عبدالمتین بن حسین صاحب دامت برکاتہم سے رات فون پر ایک گھنٹہ بات ہوئی ایک گھنٹہ حضرت نے بیان فرمایا نصٰحتیں بیان فرمائیں وہاں کافی لوگ بھی حضرت کے سامنے موجود تھے

06:17) تو میں ا پنی آبرو کو دائو پر لگا کر اس مضمون کو بیان کرتا ہوں اور میں نے دیکھا کے بڑے بڑے مدارس کے طلبہ الحمد للہ میرے اتنا صاف صاف بیان کردینے سے بہت خوش ہوئے، جبکہ دوسرے اتنا صاف بیان کرنے سے شرماتے اور گھبراتے ہیں۔ ہندوستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کے بڑے بڑے مدارس کے علماء و طلبہ نے اس مضمون کو سن کر الحمدللہ میرا شکریہ ادا کیا۔ یہ سب باتیں بزرگوں کی ہیں، میں نے تو بس جمع کردی ہیں، اللہ پاک جس سے چاہے کام لے لیں۔۔۔

14:35) مولانا منظور مینگل صاحب دامت برکاتہم کی ایک بات۔۔

16:44) شیخ العرب والعجم حضرت والامولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا:۔ یہ سب میرے شیخ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب دامت برکاتہم کی جوتیوں کا صدقہ ہے اور جن کی پہلے صحبت اٹھائی، یعنی حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتابگڈھی دامت برکاتہم کی دعائیں ہیں۔ جس کے تین شیخ ہوں اگر وہ ایک کے احسانات کا ذکر کرے اور دوسروں کے احسانات کا ذکر نہ کرے تو یہ بے وفائی کی بات ہے تو یہ سب میرے بزرگوں کی دعائوں کا ثمرہ ہے۔

17:25) چند دن احتیاط کرلو، چند دن دل پر غم سہہ لو پھر دیکھو اللہ کیسی نسبت عطا فرماتے ہیں۔ جب مولیٰ دل میں آتا ہے تو دل کا کیا عالم ہوتا ہے؟ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ میں شراب سے مست نہیں ہوا ہوں، بلکہ شراب مجھ سے مست ہوئی ہے یہ جسم میری روح کی بدولت قائم ہے، میری روح جسم سے قائم نہیں ہے، آگے فرماتے ہیں شراب اپنی مستی میں میری مستی کی بھکاری ہے

18:24) آسمان اپنی گردش میں میرے ہوش اور میری روحانیت کے وسیع میدان کا ایک قیدی ہے، کیونکہ جس دل میں خدا آتا ہے افلاک و زمین کے ساتھ، سماوات و ارض کے ساتھ آتا ہے، بے شمار آفتاب و قمر کے ساتھ آتا ہے اور عرشِ اعظم و کرسی کے ساتھ آتا ہے اپنا عالم الگ بناتا ہے عشق میں جان جو گنواتا ہے اور جب کبھی وہ ادھر سے گذرے ہیں کتنے عالم نظر سے گذرے ہیں

19:35) یہ چیز کہنے کی نہیں ہے، اللہ جس دل کو پیار کرلے، جس دل پر ایک نظر رحمت کی ڈال دے، کافرِ صد سالہ سو برس کے کافر کے دل کو اگر اللہ ایک نظرِ رحمت سے دیکھ لے تو وہ اسی وقت رشکِ ابدال ہوجائے گا، اللہ کی شان کے آگے ابدال کیا ہیں، اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت کتنی قیمتی ہے، ذرا اس کو سوچو۔ اس لئے دوستو، رونے سے کام بنے گا، زور سے کام نہیں بنے گا، زاری سے کام بنے گا۔ بارہا شکستِ توبہ کر چکے، اب اپنے دست و بازو پر بھروسہ مت کرو، یہ کہو کہ ہم اپنے دست و بازو بہت استعمال کرچکے ہیںلیکن ہم اپنی محدود طاقت سے آپ کا غیر محدود راستہ طے نہیں کر سکتے، لہٰذا آپ ہماری طرف اپنا دستِ کرم بڑھائیے

20:56) دست بکشا جانب زنبیلِ ما میری جھولی کی طرف آپ اپنا ہاتھ بڑھائیے اور اس میں کچھ ڈال دیجئے آفریں بر دست و بر بازوئے تو اے اللہ، آپ کے دستِ جذب پر صد آفرین ہو اور آپ کی شانِ اجتباء پر: ﴿ اَللّٰہُ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْہِ مَنْ يَّشَاۗءُ ﴾ پس اللہ تعالیٰ مست کرتا ہے، ورنہ اختر کیا جانتا ہے میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں محبت دے کے تڑ پایا گیا ہوں سمجھتا لاکھ اَسرارِ محبت نہیں سمجھا، میں سمجھایا گیا ہوں میں بنگلہ دیش آیا نہیں، لایا گیا ہوں، یہ سب غیبی طور پر اسباب ہوتے ہیں۔

21:33) تو مومن نفس و شیطان کے گندے کاموں میں، کیچڑ میں اپنی روح کو کیوں پھنساتا ہے، اس کو چاہئے کہ اللہ کے دریائے قرب کی گہرائیوں میں غوطہ مارے، ورنہ روح بے قیمت ہوجائے گی، جیسے روہو مچھلی کی شان یہ ہے کہ دریا کے دھارے کے خلاف تیرتی ہے، لہٰذا نفس کی حرام خواہشات کے دھاروں کے خلاف تیرو، نفس کو مٹانا سیکھو، پھر اللہ کو پانا سیکھوگے۔ اللہ کو پانے کا اور نفس کو مٹانے کا شوق نہ ہو تو ایسا شخص دعوٰیِ محبت میں نہایت کاذِب اور راہِ محبت کا مُخَنَّث ہے۔ نفس پر مردانہ وار حملہ کرنا چاہئے مولانا رومی فرماتے ہیں؎ اے مخنث، نے تو مردے نے تو زن اے مخنث، نہ تو مرد ہے، نہ عورت۔