مجلس ۷ستمبر   ۲۰۲۱عشاء  :سب سے بڑا دشمن    !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

00:56) بیان کے آغاز میں خصائل نبوی شرح شمائل ترمذی سے حسب معمول تعلیم ہوئی ...آپ ﷺ کے گریہ و زاری کے بیان میں۔۔۔

06:26) اللہ تعالی اپنی رحمت سے ہم سب کو معاف فرمادیں اللہ تعالی نے جسطرح ظاہر دیا تو اُس سے بڑھ کر ہمارا باطن اللہ پاک بنادیں۔۔۔

07:26) ظاہری گناہ بھی چھوڑنا ہے اور باطنی گناہ بھی چھوڑنا ہے۔۔۔

09:02) پہلے شیخ سے ہر ایک کو بہت محبت ہوتی ہے اگر اول شیخ کا انتقال ہوگیا تو دوسرا شیخ کیا تو شیطان دوسرے شیخ کو کم دکھاتا ہے۔۔

09:32) جس کا کوئی شیخ و مربی نہیں ہوتا پھر اُس کا مربی و شیخ شیطان ہوتا ہے۔۔۔

12:24) شیخ کے انتقال کے بعد فورا دوسرا شیخ کرنا ہے شیخ کی قبر پر جاکر اصلاح نہیں ہوگی۔۔

12:52) شیخ ہو میخ نہ ہو ایسا نہ مریدنی سے باتیں چل رہی ہیں مل بھی رہے ہیں ۔۔۔

14:41) عورتوں سے پردہ نہ کرنے سے اللہ کا حکم ٹوتٹا ہے۔۔۔ خدا فرماچکا قرآں کے اندر مرے محتاج ہیں پیر و پیمبر وہ کیا ہے جو نہیں ہوتا خدا سے جسے تو مانگتا ہے اولیاء سے

15:13) ہزار کرامات سے بڑھ کر دین پر استقامت سے رہنا ہے۔۔

17:43) پڑوسیوں کے حقوق پر نصیحت۔۔

18:50) آج ہم سے دین کا کام کیوں نہیں ہوتا کیونکہ اللہ نے شیخ بنایا اور مریدین کا مال لوٹ رہے ہیں اُن کے گھروں پر بیٹھ کر کھانے کھا رہے ہیں۔۔۔

19:27) جذب:۔اللہ تعالی جس کو جذب فرمانا چاہتے ہیں اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔۔۔

22:49) آپ ﷺ نے تو پردہ فرمایا اور بیعت بھی کیا تو چادر سے کیا۔۔۔اور آج نہ پردہ اور بیعت بھی آمنے سامنے کررہے ہیں۔۔۔

24:40) پہلے شیخ کو انسان کبھی نہیں بھولتا اور شیخ بھی سچا اللہ والا۔۔۔لیکن پھر بھی دوسرا شیخ ضرور کرنا ہے۔۔

27:52) لطیفہ۔۔

28:01) اگر عقل،زبان اور دماغ میں عذاب ہے تو اللہ کے حکموں کو ہم ایسی سمجھیں گے۔۔۔

28:52) کتنا آسان راستہ سے کہ رب کو ناراض نہ کریں۔۔

29:08) مر کر اللہ کے پاس جانا ہے توبہ ہی نہیں کرتے۔۔۔

29:26) عبرت کی بات۔۔۔

33:16) جو اولاد کو موبائلیں دے رہے ہیں اپنی اولاد کو برباد کر رہے ہیں۔۔۔

35:14) قرآن پاک کو رحمت کی شان سے پڑھائیں۔۔

۔ 36:07) قاری صاحبان کو نصیحت کہ بچوں کے بے دردی سے نہ ماریں۔۔

۔ 37:50) مسجدِ شہداء لاہور کی ایک بات کہ قاری صاحب نے بچے کو مارا واقعہ۔۔۔

40:55) والدین کو بھی نصیحت کہ بچے کو سلانے کے لیے ماں کا بچے کو مارنا یہ غلط طریقہ ہے۔۔

43:03) خواتین کا شیخ کو چھپ چھپ کر دیکھنا بھی جائز نہیں۔۔۔

48:27) ہم گناہ نہ کرکے مشقت اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔۔

48:45) اللہ کے راستہ میں مجاہدہ کی مشقت برداشت کرتے ہیں اور مجاہدہ کیا چیز ہے؟

49:53) (۱)الذین اختاروا المشقۃ فی ابتغاء مرضاتنا ونصرۃ دیننا یعنی جو ہماری رضا کی تلاش میں اور ہمارے دین کی نصرت میں ہر مشقت کو برداشت کرتے ہیں۔ (۲)والذین اختاروا المشقۃ فی امتثال او امرنا۔ جو میرے احکام کو بجالانے میں ہر تکلیف اُٹھالیتے ہیں، وہ بزبان حال یہ کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہو آپ کا حکم ماننا ہے۔ (۳)اور مجاہدہ کی تیسری تفسیر یہ ہے کہ والذین اختاروا المشقۃ فی الانتھاء عن مناھینا یعنی جولوگ مشقت اختیار کرتے ہیں، تکلیف اُٹھاتے ہیں گناہوں کے چھوڑنے میں۔

50:50) نظری بازی بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔

51:43) جمائی آٗے تو کیسے روکیں۔۔۔

54:37) کسی بچے نے کہا کہ ابا مجھے بھی سیاست سکھادیں واقعہ۔۔۔۔

56:45) جو شخص کسی کی بہو ،بیٹی کو کسی لڑکی کودیکھتا ہے سڑکوں پر اسکولوں میںائیر پورٹوں پر، ریلوے اسٹیشنوں پر کہیں بھی دیکھتا ہے یہ نظر حرام ہے آنکھوں کا زنا ہے۔ اسی طرح جو لڑکوں کو دیکھتا ہے یہ بھی حرام کا مرتکب ہے۔ حسینوں کے جس نمک کو اﷲ نے حرام فرمایا، ایسے نمکینو ں کے حسن کے نمک کو چکھنے والا بتائیے کیسا ہوگا؟ نمک حلال ہے یا نمک حرام آپ خود ہی فتویٰ دیجئے۔ میں کچھ نہیں کہوں گا۔ بس اﷲ تعالیٰ نے جس فعل کو حرام فرمایا ہے ا س کے قریب بھی یہ جائیے۔ گناہ کی خاصیت اختر واﷲ کہتا ہے کہ جتنے نظر بازی ، عشق بازی، اور جتنی بازیاں ہیں کرنے والوں کو آج تک میں نے کسی کو چین سے نہیں پایا۔ شاعر کہتا ہے۔۔ اُٹھا کر سر تمہارے آستاں سے زمیں پر گر پڑا میں آسماں سے کٹی ہوئی پتنگ کو لوٹنے کے لیے لمبے لمبے بانس لے کر لڑکے دوڑتے ہیں یہاں تک کہ وہ پتنگ ریزہ ہوجاتی ہے۔

اسی طرح جو اللہ سے کٹ جائے گا اس پر اتنی بلائیں آئیں گی کہ یہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے گا اور کوئی اس کے آنسو پونچھنے والا بھی نہیں ہوگا جس کا اللہ نہیں اس کا کوئی نہیں اور جس بندہ کا رابطہ اللہ سے ہوتا ہے وہ مخلوق کی بلائوں سے محفوظ ہوتا ہے۔ جس کو اللہ رکھے اس کو کون چکھے اور جس کو اللہ نہ رکھے اس کو سارا عالم چکھے۔

59:36) سب سے بڑا دشمن آہ! جو دشمن ہے ہمارا۔ سرور عالم صلی اﷲ علیہ وسلم پر ہزاروں، کروڑوں بے شمار رحمتیں نازل ہوں۔ فرماتے ہیں کہ اے ایمان والو! سب سے بڑا دشمن تمہارے اندر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کا نام نفس ہے۔ یہ ساری بدمعاشیوں رشوت خوریوں،حرام لذتوں کا توشہ کس کو پہنچتا ہے؟نفس دشمن کو پہنچتا ہے۔ انسان جتنے گناہ کرتا ہے نفس موٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔نفس کی غذا نا فرمانی ہے اور روح کی غذا فرماں برداری ہے ؎

01:00:08) ذکر حق آمد غذا ای روح را اﷲ کا ذکر روح کی غذا ہے ؎ مرھم آمد ایں دل مجروح را زخمی دلوں کا مرہم اﷲ کا نام ہے۔ اسی لیے میرے شیخ شاہ عبد الغنی صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کبھی آسمان کی طرف منہ کر کے فرمایا کرتے تھے اے قرارِ جان بے قراراں! یعنی بے قرار جانوں کے لیے آپ قرار اور سکون ہیں۔ بہت سے ایسے لوگ جو رومانٹک دنیا میں غرق تھے، بالکل مسٹر اور رات دن حسینوں کے چکر میں تھے یہاںاس مجلس میں موجود ہیں لیکن نام نہیں بتائوں گا کیوں کہ کسی کا پول کھولنا جائز نہیں ہے لیکن ان لوگوں نے غلط راستہ چھوڑ کر داڑہی رکھ لی۔ اﷲ اﷲ کرنے لگے ، گناہوں سے توبہ کرلی، میں نے ان سے کہا کہ قرآن سـَر پر رکھ کر قسم کھا کر بتائو کہ تم کو وہ زندگی پیاری تھی یا اب یہ موجودہ زندگی ۔ کہنے لگے کہ دوزخ کی زندگی سے جنت میں آگئے۔

حسینوں کے عشق میں تو جیسے آگ میں جل رہے تھے اسی لیے ہمارے خواجہ عزیز الحسن صاحب مجذوب رحمتہ اﷲ علیہ فرمایا کرتے تھے دیکھ ان آتشیں رخوں نہ دیکھ ان کی جانب نہ آنکھ اُتھا زنہار ان آگ جیسے لال لال چہروں کو مت دیکھو۔ اگر اچانک نظر پڑھ جائے فوراََ ہٹا لو اور منہ دوسری طرف کر کے وہاں سے تیزی سے بھاگوں اور پڑھو ۔۔۔