مجلس۱۱ ستمبر   ۲۰۲۱فجر :تلاوتِ قرآن پاک کے آداب       !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:03) آیاتِ قرآنیہ سے گمراہ فرقوں کا رد اور جو یہ کہے کہ بغیر سمجھے قرآن پاک پڑھنے کا ثواب نہیں ملتا وہ یا تو بددین ہے یا جاہل ہے۔ اس کی دلیل ہے الٓمٓ پر تیس نیکیاں ملنا

02:23) و شخص ایک حرف کتاب اللہ کا پڑھے اس کے لئے ایک حرف کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر دس نیکی کے برابر ملتا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ سارا الٓمٓ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔ اس میں غور کریں کہ مثال دینے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے الٓمٓ کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ جبکہ سارا قرآن الفاظ سے بھرا ہوا ہے، کیونکہ الٓمٓ کے معنی سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، پھر بھی اس کی تلاوت پر تیس نیکیاں مل رہی ہیں اور ایک فرقہ نیچریوں کا پیدا ہونے واالا تھا، جو یہ کہتا کہ قرآن کو بغیر سمجھے پڑھنا بے کار ہے، جیسا کہ آج کل بعض گمراہ قسم کے لوگ یہ باتیں پھیلا رہے ہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مثال اس لیے دی تاکہ کل کوئی یہ فتنہ پیدا نہ کرے کہ بے سمجھے قرآن پڑھنے کا کوئی ثواب نہیں ہے۔ لہٰذا زبانِ نبوت سے یہ مثال قیامت تک کے فتنوں کا رد ہے۔

09:54) دین کا کام کسی کے آنے اور جانے سے رکتا نہیں..اللہ تعالی چاہتے ہیں تو کنکر پتھر سے بھی کام لے لیتے ہیں۔۔۔

10:35) جتنا ہوسکے تلاوت کریں دل کا زنگ دور ہوتا ہے۔۔۔

12:28) قرآن پاک صحیح کرانا فرض ہے ایک واقعہ کہ قرآن پاک اتنا غلط پڑھتے تھے اُن کو سمجھایا لیکن نہیں مانے قرآن پاک نہیں صحیح کروایا اور ایک دین کے کام سے نکل گئے۔۔۔

13:04) جو یہ کہتا کہ قرآن کو بغیر سمجھے پڑھنا بے کار ہے، جیسا کہ آج کل بعض گمراہ قسم کے لوگ یہ باتیں پھیلا رہے ہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مثال اس لیے دی تاکہ کل کوئی یہ فتنہ پیدا نہ کرے کہ بے سمجھے قرآن پڑھنے کا کوئی ثواب نہیں ہے۔ لہٰذا زبانِ نبوت سے یہ مثال قیامت تک کے فتنوں کا رد ہے۔ اسی طرح قرآن پاک میں ہے: اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ

14:20) اِنَّہٗ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ بے شک اللہ تعالیٰ بکثرت توبہ قبول کرنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔ علامہ آلوسی تفسیر روح المعانی میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفتِ تَوَّاب کے بعد صفتِ رَحِیْم کیوں نازل کی؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ میںجو تمہاری توبہ قبول کرتا ہوں تو اس وجہ سے نہیں کہ میں اس کا پابند ہوں، بلکہ وجہ یہ ہے کہ میں رحیم ہوں، اپنی شانِ رحمت سے معاف کرتا ہوں اور شانِ رحمت سے تمہاری تو بہ قبول کرتا ہوں۔ کیونکہ ایک فرقہ ایسا پیدا ہونے والا تھا جو یہ کہتا کہ اگر بندہ اللہ سے توبہ کرے تو اللہ پر اس کو معاف کر نا واجب ہوجاتا ہے، نعوذ باللہ۔ لہٰذا بعد میں ایک فرقہ پیدا ہوا جس کو فرقۂ معتزلہ کہا جاتا ہے۔ فرقۂ معتزلہ یہ کہتا تھا کہ توبہ کرلینے کے بعد اللہ کو اپنے بندہ کو قانوناً معاف کرنا ضروری ہے تو علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ یہ آیت فرقۂ معتزلہ کا رد ہے کہ میری توّابیت قانون اور ضابطہ کی پابند نہیں ہے، تو لفظِ تَوَّاب کے بعد رَحِیْم کا نزول فرقۂ معتزلہ کے رد کے لئے ہوا ہے، یہ ہے تفسیر روح المعانی۔

15:05) تلاوتِ قرآنِ پاک کے آداب قرآن پاک کی تلاوت کے چار فوائد ہوگئے: (۱)…تلاوتِ قرآنِ پاک سے دل کا زنگ دور ہوتا ہے۔ (۲)…اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے۔ (۳)… قرآن پاک کے ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں،چاہے سمجھ کر پڑھے یا بے سمجھے پڑھے۔ تین فائدے تو یہ لکھ دئیے جائیں جو ناظرہ والوں کے لئے ہیں اور اگر کوئی حافظ بھی ہوگیا تو: (۴)…اسے جنت کے گیارہ پاسپورٹ مل گئے، ایک پاسپورٹ سے تو خود جنت میں جائے گا اور دس پاسپورٹ سے خاندان والوں میں سے ایسے لوگوں کا انتخاب کر لے گا جن پر دوزخ واجب ہوچکی ہوگی، پھر ان کو معاف کرائے گا اور اپنے ساتھ جنت میں لے جائے گا۔

16:20) تلاوتِ قرآنِ پاک کے آداب:۔ قرآن پاک کی تلاوت کے چار فوائد ہوگئے۔ اب قرآن پاک کی تلاوت کے تین آداب ہیں: (۱)…اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت محبت سے کرے، کیونکہ رب العالمین، سارے جہانوں کو پالنے والے کا کلام ہے اور پالنے والے سے محبت ہوتی ہے۔ اماں ابا سے کیوں محبت ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے پالا ہے۔ اب اگر کوئی کہے کہ ہمیں تو ماں باپ نے پالا ہے نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ نے تو نہیں پالا، تو ماں باپ نے بچوں کو کھا بھی لیا ہے، جب قحط پڑا اور غلہ ختم ہوگیا تو ماں باپ بچوں کا گوشت کھاگئے۔ تو ان کا یہ پالنا اللہ کے پالنے سے ہے ۔ جیسے اﷲ سورج نکالتا ہے، سورج سے غلہ کو پکاتا ہے، اگر سورج نہ نکلے، غلہ نہ ہو تو جتنے دولت مند ہیں کیا نوٹ کھا سکتے ہیں؟ نوٹ کھا کر کیا کوئی زندہ رہے گا؟ لہٰذا اللہ کا کلام محبت سے پڑھو۔

19:34) (۲)…عظمت سے پڑھو، کیونکہ بہت بڑے احکم الحاکمین کا کلام ہے۔ (۳)…اس دھیان سے پڑھو کہ اللہ پاک نے ہمیں اس کو پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ اچھا، یہ جو آج کا بیان ہے اس کی کیسٹ سب مدارس والوں کو لے لینی چاہئے، کیونکہ اس موضوع پر اتنا مفصل بیان جتنا یہاں زنجیرا میں ہوا ہے مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اتنے جوش و خروش کے ساتھ اتنا زبردست بیان کہیں اور ہوا ہو، اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں، آمین۔ وَاٰخِرُ دَعْوَانَآ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ