مجلس۱۱ ستمبر   ۲۰۲۱عشاء :مقصد تو اللہ کو راضی کرنا ہے پھر منصب کی طلب کیسی !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

04:00) بیان کے آغاز میں کتاب سے تعلیم ہوئی۔۔۔

07:13) جہیز لعنت کیوں ہے اس سے متعلق ایک فتویٰ کا ذکر۔۔۔

09:10) تجلیاتِ جذب حصہ اوّل :اللہ یجتبی الیہ من یشاء۔۔۔میں نے جس آیت کی تلاوت کی تھی اس میں اﷲ تعالیٰ نے اپنی ایک ایسی صفت ارشاد فرمائی ہے جو گناہگاروں کے لیے جو گناہوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں نکلنا چاہ رہے ہیں اور نِکل نہیں پارہے زبردست بشارت ہے۔ اگر وہ گِڑگڑا کر اﷲ تعالیٰ سے یہ صفت اور یہ خوبی اور یہ خزانہ جس کا اعلان قرآن پاک میں فرمایا ہے مانگ لیں تو بہت جلد اُن کا کام بن جائے کیوں کہ اگر یہ خزانہ خدائے تعالیٰ کو دینا نہ ہوتا تو اعلان نہ فرماتے۔ دیکھئے جب ابا چاہتا ہے کہ لڑکوں کو پتہ نہ چلے تو بتاتا بھی نہیں ہے لیکن جب بتاتا ہے کہ دیکھو میرے بکس میں آج اتنا روپیہ ہے تو اس کے معنی ہیں کہ بچے مجھ سے مانگے۔

17:55) اللہ جس حال میں رکھے خوش رہنا چاہیے۔۔۔

18:47) اﷲ تعالیٰ نے بھی اپنی اس صفت کا قرآن پاک میں اعلان کیا کہ میری ایک خوبی ہے کہ جو شخص گناہوں کی دلدل سے نہیں نکل سکتا ہو رات دن گناہگار زندگی میںپھنسا ہوا ہے ، جانتا ہے کہ میں دیدہ و دانستہ بہت ہی نالائقی میں پھنسا ہوا ہوں کہ نکلنے نہیں پاتا اس کو اﷲ تعالیٰ سے یہ کہنا چاہیے کہ اے اﷲ آپ نے قرآن پاک میں اپنی ایک صفت بیان فرمائی ہے کہ اﷲ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ’’اَﷲُ یَجْتَبِیٓ اِلَیْہِ مَن یَّشَآئُ‘‘ مجھے بھی اپنی طرف کھینچ لیجئے۔

22:59) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں اِجْتِبَآء جَبْیٌ سے ہے اورجَبْیٌ کے معنی جذب کے ہیں یعنی اﷲ جس کو چاہتا ہے اپنی طرف جذب کرتا ہے ،اپنا بناتا ہے ، نفس و شیطان کی غلامی سے چھڑاتا ہے ، ساری کائنات سے چھڑا کر اپنا بناتا ہے۔ اس کو بھی محسوس ہوجاتا ہے کہ کوئی مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور وہ خود بخود اُن کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جذب کی تعریف مولانا اصغر گونڈوی رحمتہ اﷲ علیہ نے کتنی پیاری فرمائی ہے ؎ نہ میں دیوانہ ہوں اصغر نہ مجھ کو ذوقِ عریانی کوئی کھینچے لیے جاتا ہے خود جیب و گریباں کواس کی سوئی ہوئی زندگی بیدار ہوجاتی ہے ؎ ہمہ تن ہستی خوابیدہ میری جاگ اُٹھی ہر بُنِ منہ سے مرے اس نے پکارا مجھ کو مرے بال بال سے مرا اﷲ مجھ کو پکار رہا ہے۔ اﷲ جس کو پکارتا ہے کہ ظالم کب تک غفلت میں پڑا رہے گا تو اس کے بال بال کان بن جاتے ہیں ہر ُبن ِمنہ سے وہ اﷲ تعالیٰ کی آواز سنتا ہے اور جس کو خدا ملنے والا ہوتا ہے اس کی ہمت و توفیق دیتا ہے کہ مرنے والی لاشوں سے اپنی نگاہوں کو پھیر لیتا ہے اور اپنے دل پر غم اُٹھاتا ہے ؎ ہم نے لیا ہے داغِ دل کھو کے بہار زندگی اک گل تر کے واسطے میں نے چمن لٹا دیااور ؎ توڑ ڈالے مہہ و خورشید ہزاروں ہم نے تب کہیں جاکہ دکھایا رخِ زیبا تو نے فرماتے ہیں کہ ہم نے ہزاروں چاند سُورج جیسی شکلوں سے نظر کو بچایا ہے تب اﷲ ملا ہے۔

33:17) حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے ملفوظات: فرمایا کہ یہ طریق بہت ہی نازک ہے ۔۔۔اس راہ کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ ایسا بن جائے کہ جوتیاں کھانے کے لیے تیار ہوجائے۔۔فرمایا کہ جو جوتیاں کھانے کے لیے تیار ہوگیا اُس کی اصلاح ہو گئی۔۔۔

36:28) فرمایا کہ اس راستے میں دوچزیں ضروری ہیں اطلاع اور اتباع۔۔۔

39:25) ایک صاحب کا ذکر کہ جو دین کے کسی بڑے شعبے میں ہیں لیکن اُن کا قرآن صحیح نہیں لیکن نمازیں پڑھا رہے ہیں۔۔۔۔

43:06) کسی کہ خط کا ذکر جس میں منصب کے چلے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا اس پر حضرت نے نصیحت فرمائی ۔۔۔مقصد تو اللہ کو راضی کرنا ہے اس سے متعلق حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے اخلاص کا عجیب واقعہ۔۔۔

47:18) حضرت والا رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ مسجد اور خانقاہ کی اینٹ رکھتے ہوئے یہ سوچو کہ مقصد کیا ہے۔۔۔حضرت والا رحمہ اللہ نے فرمایاکہ ساری زندگی اطلاع واتباع میں چلی جائے۔۔۔

52:30) فرمایا کہ خلافت کس کو دینی چاہیے؟جو مٹا ہو ا ہو۔۔۔۔

53:47) حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ کام کرنا چاہیےیا نہیں کرنا چاہیے کہ کیفیات نہیں۔۔۔۔

59:00) فرمایا کہ اس طریق میں ناکامی مایوسی اور نااُمیدی کا نام ونشان بھی باقی نہیں۔۔۔بس اب صرف چلنا ہی باقی رہ گیا ہے۔۔۔۔

01:03:36) اس طریق میں سب سے بدتر،رہزن اور ڈاکو مخلوق کو ستانہ ہے۔۔۔

01:05:24) ایک صاحب کو اس بات پر ڈانٹ اور نصیحت کہ ہمارا خط شیخ نہیں دیکھتے۔۔۔