مجلس۱۲ ستمبر   ۲۰۲۱فجر :اللہ کے راستے میں مجاہدات سے قربِ عظیم ملتا ہے !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

02:01) مجاہدہ اور تسہیلُ الطریق وعظ کا تذکرہ۔۔۔اسی وعظ سے آج بیان ہوا۔۔۔

05:37) مجاہدہ اور تسہیلُ الطریق:۔ ۷ رجب المرجب ۱۴۱۲؁ ھ مطابق ۱۲ جنوری ۱۹۹۲؁ ء بروز اتوار محبی و محبوبی مرشدی و مولائی شیخ العرب و العجم قطب ِ زماں مجددِ دوراں عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ تقریباً ۳۰ سال بعد پہلی بار اپنے شیخ حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری رحمہ اللہ کے وطن پھولپورپہنچے جہاں حضرت نے اپنے ستر سالہ شیخ کی خدمت میں اپنی اٹھارہ سالہ جوانی کے سولہ سال شب و روز گذارے تھے۔ پھولپور پہنچ کر حضرت والا پر عجیب کیفیت طاری تھی اور حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں گذرے ہوئے ایام یاد آرہے تھے ۔ حضرت نے فرمایا کہ’’ پھولپور کے ذرّے ذرّے میں مجھے آج بھی حضرت کے انوارات محسوس ہورہے ہیں اور وہ زمانہ یاد آرہا ہے جب میں دن رات اپنے شیخ حضرت پھولپوری کی خدمت میں رہتا تھا اور حضرت کی محبت و شفقت کے سایہ میں زندگی گذار رہا تھا ۔

میر ے شیخ رات کے بارہ بجے سونے کے لئے لیٹتے تو میں حضرت کے پائوں دباتا اور ڈیڑھ بجے تک جب تک حضرت سو نہ جاتے، میں حضرت کی خدمت کرتا رہتا اور یہ وقت میر ا بہترین وقت ہوتا ۔۔

08:16) مجاہدہ اور تسہیلُ الطریق:۔ جب حضرت مجھ پر انتہائی محبت و شفقت اور کرم فرماتے اور حکیم الامت ؒکے ملفوظات و ارشادات و واقعات سناتے اور کبھی فرماتے کہ یہ بات میں نے کسی کو نہیں بتائی آج صرف تم کو بتا رہا ہوں، ایسی راز کی باتیں حضرت مجھے بتاتے اور کبھی اپنی زندگی کے حالات بتاتے ۔۔۔

15:45) حج کی تربیت سے متعلق نصیحت۔۔

19:33) مجاہدہ اور تسہیلُ الطریق:۔ کہا کہوں کیا مزے کے دن تھے جو میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا یہاں تک کہ ڈیڑھ بجے حضرت سو جاتے تو میں بھی وہیں قریب سوجاتا اور تین بجے حضرت تہجد کےلئے اُٹھتے اور جیسے ہی کھنکارتے میں فوراً اٹھ جاتا حالانکہ میری جوانی کی نیند تھی لیکن یہ اللہ کا فضل تھا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میری آنکھ فوراً نہ کھلی ہو اور فوراً حضرت کے لئے وضو کا انتظام کرتا ۔ آج مجھے وہ پرکیف دن یاد آرہے ہیں جب یہاں جنگل کے سناٹے میں جہاں کسی انسان کی آواز نہیں آتی تھی حضرت کے نعرہ ہائے عشق اور گاہ بگاہ زور سے اللہ کہنا دل کو مست کردیتا تھا۔اب تو آبادی ہوگئی اُس وقت بالکل سناٹا تھا، صرف حضرت کے ساتھ میں ہی ہوتا تھا، تہجد کے وقت اُٹھنے کے بعد حضرت کی زبانِ مبارک پر یہ شعر ہوتا عشق من پیدا و دلبر ناپدید در دو عالم این چنیں دلبر کہ دید

26:23) مجاہدہ اور تسہیلُ الطریق:۔ میرا عشق تو ظاہر ہے کہ میں رات کو اُٹھ کر وضو کررہا ہوں، نماز میں ہاتھ باندھے کھڑا ہوں یعنی بندوں کے اعمالِ عشق تو نظر آرہے ہیں یہاں تک کہ عشاق جہاد میں اپنی گردنیں کٹا رہے ہیں لیکن جس محبوب کے لئے یہ اعمال عشق کئے جارہے ہیں وہ نظر نہیں آتا، اس پر عشاق ایمان بالغیب رکھتے ہیں ۔ دونوں عالم میں ذرا کوئی ایسا محبوب تو دکھائے جس پر بغیر دیکھے عشاق اپنی جانیں فدا کریں سوائے اس محبوب حقیقی خدائے تعالیٰ شانہ ‘ کے دونوں عالم میں کوئی محبوب ایسا نہیں ہے۔ مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ میں اُن کے سوا کس پہ فدا ہوں یہ بتادے لا مجھ کو دکھا ان کی طرح کوئی اگر ہے حضرت رات کو اُٹھ کر اسی مسجد میں اکثر آٹھ آٹھ گھنٹے عبادت کرتے ، تہجد کی بارہ رکعات اور ہر دو رکعات جگہ بدل بدل کر پڑھتے اور ہر دورکعت کے بعد تڑپ کر آہ وزاری کے ساتھ دُعا کرتے اور قرآن پاک کی ایک منزل ، بارہ تسبیحات پورا قصیدہ بُردہ ، مناجاتِ مقبول کی ساتوں منزلیں یہ سب حضرت کو زبانی یاد تھیں جو حضرت روزانہ پڑھتے ایسی عاشقانہ عبادت کرتے ہوئے میں نے کسی کونہیں دیکھا۔ یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ حضرت کو کوئی مجاہدہ ہورہا ہے بلکہ لگتا تھا کہ جیسے حضرت پلائو اور قورمہ کھارہے ہوں ۔ تلاوت کرتے کرتے حضرت اللہ اللہ کہتے ہوئے اُچھل اُچھل جاتے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے انجن میں اسٹیم بھرجاتی ہے تو ڈرائیور اس کا ڈھکن کھول دیتا ہے تاکہ اسٹیم نکل جائے ورنہ انجن پھٹ جائے ۔ بس ایسا ہی معلوم ہوتا تھا کہ اگر اس وقت حضرت اللہ اللہ کا نعرہ نہ لگائیں تو جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔

28:18) مجاہدہ اور تسہیلُ الطریق:۔ میں کمزور تھا اتنی عبادت نہیں کرسکتا تھا میں مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ جاتا تھا جہاں سے حضرت کو نظر نہ آئوں تاکہ حضرت کی عبادت میں خلل نہ پڑے جب حضرت اللہ اللہ کا نعرہ لگاتے تو میں اپنے دل کو حضرت کے دل سے ملادیتا کہ حضرت کے قلب کا نور میرے قلب میں آرہا ہے۔ جب حضرت عبادت سے فارغ ہو کر مسجد سے جانے لگتے تو میں حضرت کی چپلیں لے کر حاضر ہوجاتا اور حضرت کو پہنا دیتا اور حضرت خوش ہوجاتے۔‘‘

29:35) مجاہدہ اور تسہیلُ الطریق:۔ زیر نظر عظیم الشان درد بھرا وعظ حضرت پھولپوری کی اُسی چھوٹی سی پُر نور مسجد میں۱۲ رجب المرجب ۱۴۱۲ھ مطابق ۱۷ جنوری۱۹۹۲ء کوجمعہ کی نماز کے بعد مرشدی و مولائی شیخ العرب والعجم مجددِ دوراں عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ۔ حضرت کے بیان کا اعلان پہلے ہی قریب قریب کے تمام گائوں اور قصبوں میں کیا جاچکا تھا لیکن اتنے انسان جمع ہوگئے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ یہ چھوٹی سی مسجد تو بھر ہی گئی تھی مگر سامنے کے میدانوں میں ہر طرف آدمیوں کے سر ہی سر نظر آرہے تھے،ہزاروں کا مجمع تھا۔ پھولپور کے معزز حضرات بھی حیران تھے کہ یہاں قصبوں اور گائوں میں تو اتنی آبادی بھی نہیں نہ معلوم کن کن شہروں سے لوگ آگئے۔ انہوں نے کہا کہ پھولپور کی تاریخ میں اتنا بڑا مجمع جمع نہیں ہوا ۔ وعظ کے دوران لوگوں پر گریہ طاری تھا، حضرت کبھی ان کو رُلا دیتے اور کبھی ہنسادیتے ۔ اہل اللہ سے وابستہ حضرات نے بتایا کہ ہمیں عظیم الشان نفع ہوا، دل اللہ کی محبت سے لبریز ہوگیا اور ہمیں معلوم ہوگیا کہ ہمارے اندر کیا امراض ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے ۔ حضرت پھولپوری رحمہ اللہ کے داماد نے اعتراف کیا کہ حضرت! آپ نے حضرت پھولپوری کے مسلک کو زندہ کردیا جو مردہ ہوچکا تھا۔