مجلس۴۔ اکتوبر۲۰۲۱    عصر  :اکڑ انسان کو ہلاک کر دیتی ہے    !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

اکڑ انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔

04:14) الہامات ربّانی حصہ نمبر دوم:یہ ارشاد ِنبویﷺ کہ ابوجہل اس امت کا فرعون تھا،اس کا واقعہ یہ ہے کہ جنگِ بدرمیں فتح کے بعد رسول اللہﷺ کے دریافت فرمانے پر حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ ابوجہل کی خبر لینے گئے، جاکردیکھاکہ ابھی اس میں زندگی کی کچھ سانسیں باقی ہیں۔۔۔

04:15) حضرت عبداللہ بن مسعودt ابوجہل کے سینے پرچڑھ کر بیٹھ گئے،اس نے آنکھیں کھولیں اورکہاکہ اے بکریوں کے چَرانے والے!البتہ تُوبہت اونچے مقام پر چڑھ بیٹھاہے،آج کے دن کس کو غلبہ ہوا؟حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا اللہ اور اس کے رسول کو،پوچھا تمہارا اب کیا ارادہ ہے؟فرمایا تیرا سر کاٹنے کا ارادہ ہے، کہاکہ اچھا،میری اس تلوار سے میرا سر کاٹنا اور شانوں کے پاس سے کاٹنا تاکہ دیکھنے والوں کوہیبت ناک معلوم ہو،اورجب محمد (ﷺ) کے پاس جاناتو میرا یہ پیغام دیناکہ میرے دل میں بہ نسبت گذشتہ کے آج آپ کی عداوت اور بغض کہیں زیادہ ہے۔۔۔

05:24) مرتے وقت بھی ظالم کے منہ سے کفر اور تکبر ہی کے کلمات نکلے۔چونکہ یہ امت افضل الامم ہے، اس لئے اس امت کا فرعون بھی حضرت موسیٰu کی امت کے فرعون سے تکبر میں بڑھا ہوا تھا، اس نے آخر دم میں کلمہ تو پڑھا (گو وہ قبول نہیں)لیکن ابوجہل نے مرتے وقت بھی اپنی شقاوت کااظہار کیا۔۔۔

06:03) حضرت نے فرمایا کہ بعض لوگ اتنے ڈر جاتے ہیں کہ نماز بھی چھوڑ دیتے ہیں فرمایا کہ اتنا خوف چاہیے کہ جو ہمارے اور گناہوں کے درمیان آڑ بن جائے۔۔۔

07:46) تو معلوم ہوا کہ دو قسم کے حالات ہر انسان کو پیش آتے ہیں،کبھی خوشی کے لمحات ہوتے ہیں،کبھی اس کی کوئی آرزوپوری نہیں ہوتی،تودل میں صدمہ بھی ہوتا ہے، کبھی غم کبھی خوشی۔موافق حالات سے آدمی خوش ہوجاتا ہے،ناموافق حالات سے غمگین ہوجاتا ہے۔اس غم اور خوشی کے دورسے کوئی نہیں بچا،حتیٰ کہ انبیائےکرامo کو بھی دونوں زمانے دیکھنے پڑے۔چنانچہ اسلام اورکفرکے پہلے معرکۂ جنگ، غزوۂ بدر میں جبکہ قریش کے نامی گرامی سرداروں کے مارے جانے کی خوشی سرور ِعالمﷺ کو ملی اور جب عدواللہ والرسول ابوجہل کا سر آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ مارے خوشی کے سجدۂ شکر بجالائے،لیکن ٹھیک اسی وقت آپ کی صاحبزادی، حضرت عثمانt کی اہلیہ حضرت رقیہr پر نزع کاعالم طاری تھا،اورجس وقت حضرت زید بن حارثہt فتح کی بشارت لے کر مدینہ منورہ پہنچے تو اس وقت صاحبزادی حضرت رقیہ کا جنازہ جنت البقیع میں دفن کیا جارہا تھا۔حضرت رقیہr کی علالت کی وجہ سے ہی حضورپُرنورﷺ نے حضرت عثمانt کو مدینہ منورہ واپس بھیج دیاتھاکہ اے عثمان!اپنی بیمار بیوی کی خدمت کرو،تمہیں جنگ ِبدر کاثواب اسی کی بدولت مل جائے گا، چنانچہ حضرت عثمانt بھی اصحاب ِبدریین میں شمار کئے گئے۔

09:08) اس غم کاعلاج جو اللہ تعالیٰ نے قرآن ِپاک میںارشاد فرمایا ہے، وہ کیا ہے؟ ﴿لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ؁﴾ (سورۃ الحجر: آیۃ ۹۷) اللہ تعالیٰ حضورﷺ کو مخاطَب فرمارہے ہیں کہ اے نبیﷺ! کفارکی طعن وتشنیع سے جوآپ کاسینہ گھٹ رہاہے، ہم اس سے باخبر ہیں،آپ توہروقت میری نظرِرحمت اور نظرِ عنایت کے سامنے ہیں: فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا اے نبیﷺ! آپ تو ہروقت میری نظروں کے سامنے ہیں،پس جب آپ کوکوئی غم پہنچے تو فوراً : ﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِرَبِّکَ﴾ (سورۃ الحجر: آیۃ ۹۸) اپنے رب کی پاکی بیان کیجئے اوراپنے رب کاہرحال میں شکر ادا کیجئے۔ اس وقت شیطان بد گمانی کراتاہے کہ کیاہم ہی رہ گئے تھے اس مصیبت کے لئے ؟ توکہیے: سبحان اللہ،اللہ پاک ہے ظلم سے،یہ غم بھیج کراللہ تعالیٰ نے کوئی ظلم نہیں کیا، ہمارے ہی درجات بلند کرنے کے لئے غم بھیجتے ہیں ۔اور: ﴿وَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ؁﴾ (سورۃ الحجر: آیۃ ۹۸) اور نماز میں مشغول ہوجائیے،سجدے سے مراد یہاں نمازہے۔

10:48) آج حضرت والا دامت کا لاہور کا سفر تھا تو فلائٹ لیٹ ہو گئی اس سے متعلق کچھ باتیں ارشاد فرمائیں۔۔۔

12:32) غم کو سوچ سوچ کربڑھاؤمت،فوراً بزرگوں کے پاس چلے جاؤ،نیک دوستوں میں دل بہلاؤ، اُس زمانے میں اللہ کو زیادہ یاد کرو،جب ہوا مخالف ہوتی ہے توپائلٹ جہاز کی رفتار اَور بڑھادیتاہے۔اللہ کے نام کاسہارا بھی ایساہے کہ کوئی اورسہاراکیاکام دے گا! ہم پر مصائب کبھی اس لئے آتے ہیں کہ میرا بندہ مجھے جیسا یادکرناچاہیے ویسایاد نہیں کررہاہے،جیسے صیادجب چڑیاکوگھونسلے سے باہرنکال کر قید کرنا چاہتا ہے توگھونسلے کو آگ لگا دیتاہے۔میرا شعر سنئے ؎ وہ جلا اس کا نشیمن وہ اُٹھا اس سے دھواں یوں کیا صیاد نے طائر کاسامانِ وصالاوردعاکامزہ بھی غم کی حالت میں بہت آتاہے،آہ! جب کوئی مصیبت زدہ دل دعاکرتاہے اس کیفیت کواہلِ نعمت کیا سمجھ سکتے ہیں ؎ روتی ہے ایک چڑیا ہر شاخ سے لپٹ کر دیکھا ہے جب سے اپنا جلتا ہوا نشیمن ایک ایک تنکے پہ سو سو شکستگی طاری برق بھی لرزتی ہے مرے آشیانے سےلیکن بلااورمصیبت مانگو مت،مانگو تو عافیت اور راضی رہو مصیبت پر بھی۔اگر غم بھیج دیں توسمجھ لو کہ ہمارے تعلق مع اللہ کی بریانی کو دَم دینے کے لئے غم بھیجا ہے،لیکن اگر ہم غم کو سوچ سوچ کر بڑھالیں تو کیا ہوگا؟ بریانی جل جائے گی یانہیں؟جن لوگوں کا حق تعالیٰ سے تعلق نہیں تھا،جب کوئی بڑا غم آیا تو بہت سوں کا ہارٹ فیل ہوگیا،کتنے ہی لوگوں نے خود کشی کرلی۔یہی وجہ ہے کہ خودکشی کی خبریں تو امریکہ،جاپان وغیرہ سے آتی رہتی ہیںلیکن کسی اللہ والے کے بارے میں آپ نہیں سنیں گے کہ اس نے خودکشی کی ہو،ان کے دل کو حق تعالیٰ کا سہارا ہوتاہے ایک اللہ والا کہتا ہے کہ اے لوگو!تمہیں کیا خبر کہ میں اپنے دل میں بادشاہوں کو بادشاہت کی بھیک دینے والا رکھتا ہوں۔

17:10) فرمایاکہ اچھی غذا کھاؤ وہ ہے سنت اور بُری غذا سے بچو وہ ہے گناہ۔

18:17) پرچیاں۔۔۔