سفر پنجاب مجلس۷۔ اکتوبر۲۰۲۱دوپہر :حسین لڑکوں کا فتنہ سنگین فتنہ ہے          !آس اکیڈمی

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

جامعہ اشرفیہ لاہور میں فجر کی نماز کے بعد بیان ہوا۔ بیان کے بعد حضرت شیخ نے ناشتہ تناول فرمایا اور سب احباب نے بھی ناشتہ کیا۔ پھر حضرت شیخ نے فرمایا کہ سب جلدی آرام کرلیں کیونکہ آج رائیونڈ تبلیغی مرکز بھی جانا تھا وہاں کی شوری نے حضرت شیخ کو دعوت دی تھی کہ یہاں ضرور تشریف لائیں۔ ترتیب مشکل تھی کیونکہ آس اکیڈمی میں بھی بیان تھا لیکن حضرت نے فرمایا جانا ضرور ہے ورنہ بڑوں کا دل دکھانا اچھا نہیں۔ پھر یہ ترتیب بنی کہ ساڑے دس بجے روانہ ہونگے پہلے تبلیغی مرکز جائیں گے پھر وہیں سے آس اکیڈمی۔ کوسٹر کوسوا دس بجے روانہ کردیا گیا کیونکہ ایک گھنٹے کا راستہ تھا۔۔ حضرت شیخ پونے گیارہ بجے روانہ ہوئے۔ قافلے میں ایک کوسٹر اور دو ہائیس اور تقریبا چھ سے سات کار تھیں الحمدللہ ۷۰ کے قریب قافلہ ساتھ تھا کیونکہ کل بذریعہ جہاز ۸ احباب کراچی سے آٗے اور کار سے بھی کچھ احباب آئیں ہیں۔۔ الحمدللہ پونے بارہ تک قافلہ رائیونڈ مرکز پہنچ گیا۔۔۔ وہاں عجیب بھی منظر دیکھا بہت بڑا مرکز تھا ہر طرف تبلیغی ساتھیوں کا مجمع بہت پر نور منظر تھا ہر طرف تبلیغی ساتھیوں کا ہجوم تھا۔۔

حضرت ڈاکٹر نوشاد صاحب بھی تشریف فرما تھے اور شوری کے کچھ اور حضرات بھی۔۔ پھر دین کی بات چلتی رہی ڈاکٹر نوشاد صاحب نے کچھ دین کی بات فرمائی جو الحمدللہ ریکارڈ بھی ہوئی جلدی جاری کردی جائے گی۔۔ حضرت شیخ نے بھی کچھ دین کی بات فرمائی پھر ساڑے بارہ تک قافلہ کو آس اکیڈمی کی طرف روانہ کردیا گیا۔ حضرت شیخ بھی ساڑے بارہ تک روانہ ہوگئے ۔ پھر الحمدللہ تمام قافلہ ایک بجے تک آس اکیڈمی پہنچ گیا۔ ایک بجے بیان کا آغاز ہوا۔۔

بیان کے آغاز میں جناب مصطفی صاحب نے حضرت تائب صاحب دامت برکاتہم کےاشعار پڑھ کر سنائے۔۔۔ مہتمم صاحب حضرت مولانا ڈاکٹر شاہد اویس صاحب تشریف لے آئے اور حضرت شیخ کو گلے لگایا اور ماتھے کو چوما اور فرمایا حضرت تھانوی رحمہ اللہ تشریف لے آئے تین بار یہ جملے فرمائے ،پھر ایک پونے گھنٹے تک مہتمم صاحب حضرت مولانا ڈاکٹر شاہد اویس صاحب نے بہت اہم باتیں ارشاد فرمائیں ۔