سفر پنجاب مجلس۷۔ اکتوبر۲۰۲۱عشاء :شانِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین       !جامعہ اشرفیہ

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

گیارواں بیان بعد عشاء بیان بمقام: مسجدِ حسن جامعہ اشرفیہ لاہور عنوان:شانِ صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین مرشدی و مولائی عارف باللہ قطب زمانہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم بعد عصر بہت ہی عجیب ایمان افروز بیان ہوا۔ بیان کے بعد لوگوں نے کہا کہ یہ بیان ہمیں چاہیے عجیب بیان ہوا۔

بیان کے بعد مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور حضرت مفتی فضل الرحیم صاحب دامت برکاتہم نے حضرت شیخ دامت برکاتہم کے بیان سے متعلق فرمایا کہ حضرت نے کیسا ایمان افروز بیان فرمایا ہے ،فرمایا کہ سچی بات ہے کہ اگر ہم اپنی زندگیوں میں غور کریں تو ہماری زندگیوں میں بڑی خرابیاں ہیں۔بڑے بڑے گناہ ہیں، قدم قدم پر گناہ ہورہے ہیں ،جیسا حضرت نے بیان فرمایا کہ خواتین ہیں اُن سے متعلق جو بیان فرمایا اُن سے باتیں ہیں اور جو بے احتیاطی ہے حق تعالی سےبس اب التجاء ہے کہ اس فتنے کے دور میں اس طرح آسمان سے فتنے اتر رہے ہیں جیسے بارش کے قطرات ہیں، واحد سہارا اللہ کی ذات کا ہےکوئی سہارا نہیں۔ حضرت مفتی فضل الرحیم صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا کہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا ملفوظ حضرت بیان فرمارہے تھے ابھی یاد آیا کہ دل سے توبہ نہیں نکلتی تو کم از کم زبان تو چلاو زبان سے تو توبہ کرلو ،کیا زبان سے توبہ کرنے میں کیا کوئی پھاوڑے چلانے پڑتے ہیں یہ حضرت کے الفاظ ہیں۔۔

پھر حضرت مفتی فضل الرحیم صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا کہ پھر گناہ ہوجائے پھر توبہ کرو پھر گناہ ہوجائے پھر توبہ کرو اگرکوئی کچھ کہے کہ یہ تو کھیل ہوگیا تو کہنا ہاں یہ وہی کھیل ہے کہ جسے کہا کرتے ہیں کہ کھلیتے ہی کھلیتے گھر بس گیا،پھر حضرت مفتی فضل الرحیم صاحب دامت برکاتہم اس پر بھی اللہ تعالی رحم کا معاملہ فرمائیں گے ان شاء اللہ،آج ہم نے توبہ کا دروازہ بند کردیا ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ قربان جائیں حضور ﷺ پر ، کہ میں جہاں میں بخاری پڑھاتا ہوں وہاں روزانہ سو دفعہ استغفار کرتا ہوں۔ آج ہم کتنے گناہوں میں مبتلا ہیں حضرت شیخ نے جو بیان فرمایا میرے تو رونگھٹے کھڑے ہوگئے یا اللہ میں کس طرح کہوں، اب اللہ تعا لی سے التجا ہے یہ ابلیس ملعون کا دورہے اس ملعون نے اتنی چالیں شروع کی ہیں شاید تاریخ کے اندر اتنی چالیں نظر نہیں آتیں ہمارے پاس صرف اور صرف اللہ کا سہارا ہے۔

آج ہم حضرت کے بیان کے بعد پختہ ارادہ کرتے ہیں اپنے اپنے کان،زبان،آنکھ ،دل اورجسم کی حفاظت کرنی ہے۔ پھر دیکھیں اللہ کی مدد کس طرح آتی ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے فرمایا کہ تم ایک بالش چلے تو میں ایک گز آتا ہوں تم چل کر آو الخہ۔۔ فرمایا مفتی صاحب نے حضرت نے بیان فرما کر دل کے موٹے موٹے غفلت کے پردوں کو ہلایا اور جھنجوڑا ہے ہم تیری رحمت کا واسطہ دیتے ہیں ہمیں اُن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اب میں درخواست کرتا ہوں حضرت کہ ہم سب کو اپنی دعاوں سے نواز دیں۔ پھر حضرت شیخ نے دردِ دل سے دعا فرمائی۔۔ پھر مغرب نماز کے بعد حضرت شیخ قیام گاہ تشریف لے گئے وہاں سب احباب کے لیے چائے کا انتظام تھا۔ حضرت شیخ کے حجرے میں کچھ حضرات موجود تھے جسمیں حضرت قاری ارشد عبید صاحب اور قاری صاحب کے صاحبزادے مولانا اویس صاحب اور صیانۃ المسلمین کے بڑے مولانا بلال صاحب،حضرت مولانا صوفی اکرم صاحب اکابرین تشریف فرما تھے اور دوسرے مہمان بھی موجود تھے۔ وہاں کمرے میں چائے بسکٹ کا انتظام بھی تھا ساتھ ساتھ عشاء کی اذان تک مجلس چلتی رہی جسمیں حضرت شیخ نے بیویوں کے حقوق بھی بیان فرمائے۔ اذان کے وقت حضرت نے فرمایا کہ سب احباب نماز کی تیاری کرکے مسجد چلے جائیں ۔ پونے آٹھ بجے عشاء نماز اددا کی نماز ادا کرنے کے بعد بیان کا آغاز ہوا۔

بیان کے آغاز میں جناب مصطفی صاحب نے شیخ العرب والعجم حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کے اشعار صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان میں اشعاہ سیاہ دیدہ میں پوشیدہ بہت درد سے پڑھے۔۔ آج سفر کی کچھ ترتیب تبدیل ہوئی پہلے حضرت شیخ کا بروز ہفتہ ۹ ، اکتوبر تک فیصل آباد تشریف لے جانے کا ارادہ تھا لیکن اب اتوار ۱۰، اکتوبر تک جامعہ اشرفیہ میں ہی بیانات کی ترتیب ہے ان شاء اللہ بروز پیر ۱۱ ،اکتوبر کو فیصل آباد کا سفر ہے پھر وہاں سے سوات کی ترتیب ہے ان شاء اللہ ۱۶،اکتوبر کو حضرت شیخ کی کراچی واپسی کی ترتیب ہوگی ان شاء اللہ تعالی۔۔