سفر پنجاب مجلس۸۔ اکتوبر۲۰۲۱ عصر :ظاہر کا اثر باطن پر پڑتا ہے        !جامعہ اشرفیہ

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

پندرواں بیان بعد عشاء بیان بمقام: مسجدِ حسن جامعہ اشرفیہ لاہور عنوان:قلبِ سلیم کس کا ہے؟ مرشدی و مولائی عارف باللہ قطب زمانہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم بعد عصر حضرت شیخ کا بیان ہوا بیان سے قبل حضرت مفتی فضل الرحیم صاحب نے فرمایا کہ ہمارے ہاں جمعے کے دن بعد عصر درود شریف پڑھنے کا معمول ہے جس کی فضیلت بہت زیادہ ہے پہلے یہ معمول ہوا اُس کے بعدمفتی صاحب نے فرمایا کہ حضرت جی جمعے بیا ن کے بعد میرے کمرے میں کچھ احباب آئے انہوں نے کہا کہ کس قدر روحانی نفع ہوا ہے دعائیں دے رہے تھے مجھے بہت خوشی ہوئی پھر مفتی صاحب نے فرمایا کہ حضرت آپ نے اس قدر محبت بھرے انداز میں فرمایا پھر حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا ایک ملفوظ بیان فرمایا کہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ اس نسبت سے جڑنے والوں کو اللہ تعالی دو نعمتوں سے نوازتے ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالی اس کو کبھی رسوا نہیں فرمائیں گے اور دوسری نعمت کہ ایمان پر خاتمہ ہوگا الحمدللہ اللہ تعالی قدر کی توفیق عطا فرمائیں۔ پھر حضرت شیخ سے بیان کا فرمایا۔

بیان کے بعد مغرب نماز اد اکی نماز ادا کرنے کے بعد حضرت مفتی فضل الرحیم صاحب نے ایک مختصر ملفوظ بیان فرمایا اور پھر حضرت سے فرمایا کہ اب دعا فرمادیں۔۔ حضرت شیخ نے دعا فرمائی۔۔ پھر سب احباب قیام گاہ چلے گئے حضرت شیخ بھی قیام گاہ تشریف لے گئے۔ وہاں سب کے لیے چائے اور بسکٹ وغیرہ کا نظم تھا خدمت والوں نے جلدی جلدی سب کو چائے پیش کی۔۔ پھر حضرت شیخ باہر تشریف لے آٗے وہاں پر بہت زیادہ تعداد میں احباب جمع تھے جامعہ کے استاد حضرت مفتی احمد صاحب بھی تشریف لے آئے اور نائب مہتم صاحب حضرت قاری ارشد عبید صاحب بھی مغرب کے بعد سے حضرت کے حجرے میں تشریف فرما تھے

مجلس کا آغاز ہوا حضرت شیخ نے اشعار پڑھنے کا فرمایا،جامعہ کے استاد حضرت مفتی احمد صاحب نے مصطفی بھائی سے فرمایا کہ آج تو ساری کسر نکال دینی ہے خوب اشعار پڑھنے ہے

عشاء کی اذان تک مجلس چلی۔۔ مجلس کے درمیان میں حضرت شیخ نے امیر صاحب سے فرمایا کہ ہر دس احباب پر ایک امیر مقرر کرنا ہے یہاں پر سب مقامی لوگ نظرآرہے ہیں ہمارے احباب ۶۵سے زیادہ آئے ہوئے نظر ہی نہیں آرہے سفر میں تو مجلسوں سے غائب نہیں رہنا چاہے پھر فائدہ کیا سفر پر آنے کا۔

حضرت شیخ نے  پھر کچھ لوگوں کو قیام گاہ وغیرہ میں تلاش کرنے کے لیے بھیجا کہ کہاں ہیں سب لوگ۔۔۔ مجلس کے آخر میں مصطفی صاحب نے یہ اشعار پڑھے سارے اللہ والے میرے سر کے تاج تو مجمع سے کئی کی آوازیں آئیں کہ حضرت قاری ارشد عبید صاحب یہ والے اشعار پڑھتے ہیں (سارے اللہ والے میر سر کے تاج )حضرت شیخ نے فرمایا کہ آذان ہوگئ ایک شعر تو سنادیں پھر نماز کے لیے چلتے ہیں حضرت قاری صاحب نے پہلا مصرعہ پڑھا (سارے اللہ والے میرے سر کے تاج لیکن اپنا پیر، اپنا پیر ہے) تو قاری صاحب زارو قطار رونے لگے احباب بھی رونے لگے حضرت شیخ نے پھر ایک بارپڑھنے کا فرمایا قاری صاحب نے پہلا مصرعہ پڑھا( سارے اللہ والے میرے سر کے تاج لیکن اپنا پیر، اپنا پیر ہے) پھر دوسرے مصرعے پر زاروقطار رونے لگے۔۔ مجلس کا اختتام ہوا سب مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔ پونے آٹھ بجے نماز ادا کرنے کے بعد بیان کا آغاز ہوا بیان کے آغاز میں جناب مصطفی صاحب نے جگہ جی لگانے کی یہ دنیا نہیں اشعار پڑھ کر سنائے۔۔۔ اشعار کے بعد بیان کا آغاز ہوا۔۔