سفر پنجاب مجلس۱۲۔ اکتوبر۲۰۲۱مغرب    :حُسن کبھی برائے عذاب ہوتا ہے    !سوات

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

بیان نمبر ۲۵ بعد مغرب بیان عنوان:حُسن کبھی برائے عذاب ہوتا ہے۔ بمقام:جامعہ تعلیم القرآن تختہ بندسوات مرشدی و مولائی عارف باللہ قطب زمانہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کل بروزِ پیر ۱۰،اکتوبر کو صبح سوا گیارہ بجے جامعہ امدادیہ فیصل آباد میں بیان ہوا۔۔ بیان کے بعد پونے ایک بجے ظہر نماز ادا کی نماز ادا کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے حضرت شیخ مفتی طیب صاحب دامت برکاتہم کے دفتر میں تشریف لے گئے۔۔ قافلے کو جامعہ دارالقرآن روانہ کردیا گیا جہاں سب کے کھانے کا انتظام تھا۔۔

کھانے کا نظم ہوا پھر سب احباب نے قیلولہ کیا پونے پانچ بجے عصر نماز ادا کرنے کے بعد قافلہ اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔۔ اسلام آباد میں ایک گاوں ہے تھوڑ نامی گاوں تھا جہاں بہت پیاری مسجد بنی ہوئی تھی وہاں مہمان خانے بھی موجود تھے وہاں پر حضرت شیخ اور سب احباب کا انتظام تھا سوات کا سفر طویل تھا اس لیے رات قیام کی ترتیب اسلام آباد میں رکھی تاکہ حضرت شیخ کو اور احباب کو آرام مل جائے۔۔ حضرت شیخ اور کچھ احباب کا کھانا اسلام آباد کے ایک گھر میں تھا حضرت شیخ کے ساتھ تین کار چلی گئیں اور باقی کوسٹر اور جو کار ساتھ تھیں اُن کو انتظام والوں ساتھیوں نے کہا کہ قیام گاہ چلے جائیں باقی احباب کا کھانا وہاں ہے اور وہیں رہائش ہےاور حضرت شیخ بھی کھانا تناول فرماکر وہیں تشریف لائیں گے۔۔ لیکن پھر اچانک ترتیب بدل گئی کوکار والے احباب ساڑے آٹھ بجے قیام گاہ گاوں ٹھوڑ باعافیت پہنچ گئے لیکن کوسٹر خراب ہوگئی تھی کوسٹر خراہونے کی وجہ سے رات ساڑے بارہ بجے قیام پہنچی۔۔۔ جہاں سب کی رہائش تھی

گاوں میں وہاں خوب ٹھنڈ تھی خوب ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں اور بجلی بھی بہت زیادہ چمک رہی تھی اور بادل بھی گرج رہے تھے رات ۱۲بجے تیز بارش شروع ہوگئی کوسٹر بارش میں بہت مشکل سے قیام گاہ پہنچی۔۔ حضرت شیخ کو اسلام آباد میں ہی روک دیا گیا حضرت کو بتایا گیا کہ وہاں انتظام نہیں ہے سب احباب اگر وہاں ہوئے تو مشکل ہوگی آپ اور کچھ احباب یہیں اسلام آباد میں ایک سوسائٹی تھی رک جائیں حضرت شیخ نے اسلام آباد میں ہی آرام فرمایا۔۔۔ مغرب اور عشاء کی نماز حضرت شیخ اور سب احباب نے ٹول پلازہ کی مسجد میں ادا کی تھی۔۔

حضرت کے ساتھ کچھ احباب تھے باقی احباب دوسری جگہ احقر بھی دوسری جگہ موجود تھا حضرت شیخ کے ساتھ احقر کی ترتیب نہ تھی اس لیے رات کی ترتیب نہ پتا چل سکی کہ حضرت شیخ کس کے گھر رکے اور کتنے بجے کھانا کھایا چہل قدمی کس وقت کی اور مجلس کیا ہوٗی اور رات کتنے بجے آرام فرمایا اور صبح کتنے بجے بیدار ہوئے فجر مجلس بھی ہوئی ان لائن اور ریکارڈنگ کا سامان احقر کے پاس تھا اس لیے احقر فجر مجلس آن لائن نہ کرسکا اور نہ ریکارڈ،اگر کسی نے ریکارڈ کی ہوگی تو بعد میں جاری کردی جائے گی۔۔ پھر بعد کی ترتیب بھی نہ پتا چل سکی اتنا پتا چلا جس گھر میں حضرت شیخ کا قیام ہوا تھا وہاں صبح سوا گیارہ بجے بھی مجلس ہوئی۔۔ مجلس کے بعد حضرت شیخ ساڑے گیارہ بجے گاوں تھوڑ کے لیے روانہ ہوئے جہاں سب احباب کے قیام کا انتظام تھا کیونکہ حضرت شیخ کو پتا چلا کہ کہ وہاں کے امام صاحب اور میزبان حضرات بہت غمگین ہوئے جب حضرت شیخ تشریف نہ لائے تو حضرت شیخ نے فرمایا چاہے نیند کم ہو وہاں جانا ہے مومن کا دل خوش کرنا بھی تو عبادت ہے۔۔ حضرت شیخ ساڑے بارہ بجے تشریف لے آٗے تو بہت احباب پر ناراض ہوئے کہ کتنا اچھا انتظام تھا کتنی پیاری مسجد اور کتنا بڑا مہمان خانہ اور بیت الخلاء بھی کتنے سارے اور اچھے بنے ہوئے یہاں دین کا کام زیادہ ہوتا مجالس ہوتیں فجر کا بیان ہوتا دین کو مقدم رکھنا چاہیے آرام کو کیا دیکھنا یہاں کیا مسئلہ تھا حضرت شیخ کو بتایا تھا کہ مچھر بہت ہیں بجلی نہیں ہے حضرت نے فرمایا کیا ہم اور گاوں میں نہیں رکے جہاں کتنے کتنے مچھر ہوتے تھے بجلی نہیں ہوتی تھی آرام کو تھوڑی دیکھنا ہے سب کو آرام کی پڑی ہے۔۔

فرمایا کہ آئندہ کوئی گاڑی میں سفر نہیں کرے گا سب کے لیے کوسٹر ہوگی کوسڑ بیچاروں کو اکیلا چھوڑا ہوا ہے اور سب گاڑیوں میں اے سی والے کار میں مزے کررہے ہیں اور اپنے آرام کی فکر ہے۔۔ حضرت شیخ کو رات جب کوسٹر کا پتا لگا تو فرمایا فورا نئی اچھی والی کوسٹر کریں احباب کو ذرہ بھی تکلیف نہ ہو کوسٹر والے احباب رات بہت زیادہ لیٹ ہوگئے تھے کہاں ۹ بجے تک پہنچنا تھا خراب ہونے کی وجہ سے رات ساڑے بارہ تک پہنچی۔۔ یہاں تھوڑ گاوں جو اسلام آباد میں تھا وہاں کا سارانظم کھانے کا اور ناشتے کا مولانا قمر الاسلام نے دیکھا۔۔

حضرت شیخ ساڑے بارہ تک تشریف لائے سب احباب نے نماز کی تیاری کرکے ظہر نماز ادا کی کوسٹر کو بارہ بجے روانہ کردیا گیا تھا اور کھانا ڈبوں میں پیک کرکے دیا تھا کہ جہاں سہولت سب احباب اپنے اپنے حساب سے کھالیں۔۔ حضرت شیخ اور کار والے احباب تقریبا ۱۰ کاریں تھیں سب نے ظہر نماز ادا کی پھر کھانا کھایا اور دو بجے تک سوات کے لیے روانگی ہوئی۔۔ الحمدللہ سب قافلہ باعافیت پانچ بجے تک سوات کی قیام گاہ جامعہ تعلیم القرآن تختہ بند پہنچ گیا فورا عصر نماز ادا کی۔۔

عصر نماز ادا کرنے کے بعد قیام گاہ میں کچھ دیر مجلس ہوئی پھر مغرب نماز ادا کرنے کے بعد بیان کا آغاز ہوا۔۔ بیان کے شروع میں ہی ایک صاحب تصویر بناتے ہوئے پکڑے گئے اور کہنے لگے کہ مجھے یہاں کی انتظامیہ نے مقرر کیا حضرت شیخ نے سخت تنبیہ فرمائی کہ کس نے مقرر کیا نام بتاو یہاں کے میزبان تو مولانا محب صاحب اللہ ہیں جو خود بہت احتیاط کرتے ہیں۔۔ اللہ تعالی بہت بڑا دین کا کام مولانا محب اللہ صاحب سے لے رہے ہیں۔۔ یہ وہی مسجد ہے جب حضرت شیخ اکتوبر ۲۰۱۹ میں سوات تشریف لائے تھے تو حضرت شیخ کے ہاتھوں اس کی سنگِ بنیاد رکھوائی تھی اور دعا کروائی تھی جس جگہ حضرت شیخ نے سنگِ بنیاد رکھی تھی اور دعا فرمای تھی وہاں مولانا محب اللہ صاحب نے حضرت شیخ کے نام سے دروازے پر لکھوایا ہے بابِ فیروز۔ماشاء اللہ۔۔۔ مغرب نماز ادا کرنے کے بعد بیان کا آغاز ہوا۔۔ بہت بڑا مجمع ماشاء اللہ موجود تھا اور کافی زیادہ طلباء کرام بھی بہت بڑا مدرسہ بھی ہے اور مسجد بھی ماشاء اللہ بہت خوبصورت بن رہی ہے حضرت شیخ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اتنی مضبوط اور خوبصورت اور بہت زیادہ کھلی مسجد بنی ہے اور ابھی بھی زیر تعمیر ہے۔۔ یہاں بھی خوب ٹھنڈ ہے اور پانی بھی برف کی طرح ٹھنڈا ہے۔۔ مسجد میں ابھی دروازے اور کھڑکیاں بھی نہیں لگی ہیں لیکن مولانا محب اللہ صاحب نے بہت اچھا انتظام کیا چاروں طرف ٹینڈ لگوایا تاکہ حضرت شیخ اور احباب کو ٹھنڈ نہ لگے۔۔۔ آج قافلہ ایک کوسٹر اور ۱۰ گاڑیوں پر مشتمل ہے اور چار سدہ سے بھی مفتی انوار صاحب کے ساتھ ۲۵ لوگ آئے ہیں۔۔۔ پشاور اور مردان اور دیگر علاقوں سے کئی احباب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ماشاء اللہ بہت بڑا جتماع تھا

ایک بہت ہی پُر نور منظر تھا ۔۔قریب ہی ایک بڑا تبلیغی مرکز ہے وہاں سے کچھ بڑی شخصیات بیان سننے آئیں الحمدللہ ۔۔ اللہ پاک شرفِ قبولیت سے نوازیں اورخوب خوب دین کا کام لیں۔۔۔ سب احباب خاص دعا جاری رکھیں اللہ تعالیٰ حضرت والا کو خوب صحت و عافیت سے رکھیں اور وہاں خوب اللہ تعالیٰ کے محبت کا خوب فیضان جاری ہو اوراللہ تعالی عافیت سےمرکز واپس لائیں۔ (آمین یا رب العالمین بحرمۃ سیّد المرسلین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم) بیان کا دورانیہ 2:32:51