مجلس۱۶۔ اکتوبر۲۰۲۱ عشاء :سفر پنجاب۲۰۲۱ کی  کارگزاری        !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:00) نمازی کے آگے سے گزرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔۔۔

01:01) فرمایاکہ ہماری مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہونا چاہیے۔۔۔

02:55) فرمایا کہ اگر نمازی کے آگے سے گزر گئے تو معافی مانگنا ضروری ہے۔۔۔

03:41) خصائل نبویﷺ :حضور اقدس ﷺ کے نام مبارک کا بیان۔۔۔

08:38) مفتی انوار الحق صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعارپڑھ کر سنائے۔۔ غرض اتنی ہے بس پیر مغاں کے جام و مینا سے کہ ہم مالک کو اپنے دیکھ لیتے قلبِ بینا سے وہ مالک ہے جہاں چاہے تجلّی اپنی دکھلائے نہیں مخصوص ہے اس کی تجلّی طورِ سینا سے جوناداں ہیں وہ اہل اﷲکی عظمت کو کیا جانیں کوئی دیکھے مقامِ اہل دل کو چشم بینا سے بہت روئیں گے کرکے یادِ اہل مے کدہ مجھ کو شرابِ دردِ دل پی کر ہمارے جام و مینا سے خدا کے ذکر سے وہ کیف ہے ہر قلب عارف میں کہ یہ بِکتے نہیں دنیا کے فانی وجام و مینا سے یہ مانا کہ شکستِ آرزو ہے تلخ تر اخترؔ مگر اے دل خدا ملتا ہے بس خونِ تمنّا سے

15:50) ان اولیاء الا المتقون۔۔۔جو گناہ نہیں کرتے وہ اللہ کے پیارے ہیں O لیول اور Aلیول کرنا منع نہیں۔۔۔

17:05) سفر سے متعلق فرمایا کہ ماشاء اللہ کتنے ڈاکٹر حضرات بھی آتے رہے حالانکہ سفر کا اعلان بھی نہیں کیا تھا۔۔۔

20:16) حضرت والا رحمہ اللہ کا مضمون کہ جب سفر سے واپس آؤ تو اللہ سے یہ دُعا کرو کے اے اللہ میں نے اس سفر میں جو کمینے کام کیے ہیں اُن کو معاف کر دے۔۔۔

22:25) چھ یا سات لوگوں کو سفر سے واپس کیا کہ جاؤ والدین کے بھی حقوق ہیں اور ابھی ایک ڈاکٹر صاحب کو بھی آج گھر بھیجا۔۔۔

23:37) اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللہِ فَاَحَبُّ الْخَلْقِ اِلَی اللہِ مَنْ اَحْسَنَ اِلٰی عِیَالِہٖ حدیث شریف کی تشریح۔۔۔

26:57) ایک صاحب کا ذکر جو یہودی ہوگیا تھا مسلمان ہوگیا اور اس سفر میں حضرت کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔۔۔فرمایا کہ میڈیا نے کتنی خبریں پھیلائیں لیکن اب جب ایمان لایا توایک خبر بھی نہیں دی۔۔۔پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الہی بھی بیان میں آئے حضرت نے فرمایا کہ میں نے ایسے اخلاق والا نہیں دیکھا اور ان کے گھر کی خواتین کا آج تک ایک فوٹو بھی نہیں اور اُنہوں نے بتایا کہ میں نے قرآن پاک کی تعلیم لازم کر دی اور ترجمہ بھی لازم قرار دیا جو قرآن پاک میں فیل تو تمام مضامین میں فیل۔۔۔

32:26) خزائن حدیث:حدیث شریف میں آیا ہے کہ اَلْخَلْقُ عَیَالُ اللہِ فَاَحَبُّ الْخَلْقِ اِلَی اللہِ مَنْ اَحْسَنَ اِلٰی عَیَالِہٖ مخلوق اللہ کی عیال ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہ ہے جو اس کی عیال کے ساتھ بھلائی اور احسان کرتاہے۔ اور اللہ کی مخلوق میں کسی کو بُری نظر سے دیکھنایا دل میں اس کے لیے بُرے خیال لانا۔ بتائیے!کیا یہ مخلوق کے ساتھ احسان ہے؟ اگر کسی کے اہل و عیال کو کوئی بُری نظر سے دیکھے تو کیا اس کو اچھا لگتاہے یا اگر اس کا بس چلے تو اس کو کچا چبا جائے گا۔میرے ایک دوست نے بتایا کہ ایک شخص میری بیٹی کو جو برقعہ میں تھی باربار دیکھ رہاتھا تو میرا جی چاہتا تھا کہ اس کو گولی مار دوں۔

36:59) بدنظری سے متعلق فرمایا کہ عبد اللہ اندلسی سے ایک بدنظری تو ہوئی پھر کیا ہوا کتنی احادیث مبارکہ یاد تھیں ،برسیسا کا کیا ہوا؟۔۔۔

40:10) سفر سے متعلق فرمایا کہ جو بھی آتا پریشانیوں کا ذکر کرتا اور جب شرعی پردے کا ذکر آتا تو لوگ پریشان ہو جاتے۔۔۔ایک صاحب کا ذکر جس نے ۲۹ سال بعد مونچھیں صاف کیں۔۔۔آپ ﷺ کے اخلاق مبارک کیسے تھے اور آج ہمارا کیا حال ہے۔۔۔

45:01) حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی بات کہ ایک شخص کا پتا چلا کے وہ بناؤسنگھار میں کتنا وقت لگاتا ہے اور وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ حدیث پاک میں ہیکہ اللہ تعالیٰ جمال کو پسند کرتے ہیں۔۔۔

49:39) اس لیے کہتا ہوں کہ جو کسی کو بُری نظر سے دیکھتا ہے اس فعل پر اللہ کا شدید غضب نازل ہوتا ہے۔ جب ایک باپ اپنی اولاد کو بُری نظر سے دیکھنے والے کو اپنا دوست نہیں بنا سکتا تو اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے ماں باپ سے زیادہ تعلق ہے وہ ایسے شخص کو اپنا دوست کیسے بنائیں گے۔ چنانچہ جس لمحہ، جس سیکنڈ، جس ساعت میں بد نظری ہوتی ہے اسی لمحہ اور اسی سیکنڈمیں دل معذب ہوجاتاہے۔

50:23) حضرت مفتی محمد طیب صاحب کی طبیعت ناساز تھی لیکن پھر بھی بیان لیٹ کر سنا اسی طرح صوفی اکرم صاحب نے بھی کس طرح محبت کی ۔۔۔ایک مجلس کا ذکر جس میں نعت اور حمد پڑھی گئی۔۔۔

53:36) بدنظری کا نقطۂ آغاز اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نقطۂ آغاز ہے۔ کیونکہ جیسے ہی نظر ناپاک ہوتی ہے ویسے ہی دل پلید ہو جاتا ہے اور مقامِ لیدپر خیال پہنچ جاتاہے، پھر اس کو اللہ کے قرب کی عید کیسے مل سکتی ہے اور اگر توبہ نہیں کرے گا تو ساری زندگی مُعذّب رہے گا۔ اسی لیے حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عشق مجازی عذابِ الٰہی ہے۔ وہ انتہائی ظالم گدھا اور بیوقوف ہے، جو غیر اللہ کے نمک پر مرتاہے وہ عذابِ الٰہی خریدتا ہے۔ دنیا کی مارکیٹ دو قسم کی ہے۔ اسی دنیا کی مارکیٹ میں لوگ مولیٰ کو یاد کرکے، اشکبار آنکھوں سے گناہوں سے توبہ کرکے ولی اللہ بن رہے ہیں اور جنت خرید رہے ہیں اور اسی دنیا میں بعض لوگ غیر اللہ پر مر کر دوزخ خرید رہے ہیں۔ یہی دنیا ولی اللہ بننے کی مارکیٹ بھی ہے اور دوزخی زندگی خریدنے کی مارکیٹ بھی ہے۔

58:31) پرچیاں۔۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries