سفر۱۷  نومبر۱۲۰۲صبح :خوشگوار ازداوجی زندگی کے رہنما اصول     ! کوٹ ادو 

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

مرشدی و مولائی عارف باللہ قطب زمانہ حضرت اقدس شاہ فیروز عبد اللہ میمن صاحب دامت برکاتہم حضرت شیخ نے بعد فجر اللہ والی مسجدوارڈ نمبر ۱۰ کوٹ ادو میں بیان فرمایا۔ پھر عمر فاروق صاحب کے گھر حضرت شیخ نے ناشتہ تناول فرمایا سب احباب نے بھی ناشتہ کیا۔ ساتھ ساتھ مجلس بھی چلتی رہی۔ نو بجے تک حضرت شیخ نے آرام فرمایا۔ گیارہ بجے حضرت شیخ بیدار ہوئے سب احباب نے بھی تیاری کی۔ ساڑے گیارہ بجے بیان تھا اور راستہ آدھے گھنٹے سے زیادہ کاتھا اس لیے تمام قافلے کو ساڑے گیارہ بجے روانہ کردیا گیا۔

الحمدللہ باعافیت قافلہ وقت پر پہنچ گیا۔۔ اس مدرسے میں جہاں حضرت شیخ کے بیان کی ترتیب ہے اسکا مختصر تعارف یہ ہے حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی صاحب رحمہ اللہ نے ۱۹۷۴میں اپنے دست مبارک سے اس مدرسے کی بنیاد رکھی۔ اس مدرسے کا نام مدرسہ عربیہ نورالاسلام خود تجویز فرمایا ،یہ سلسلہ علاقہ نور شاہ کی قدیمی عید گاہ اور مسجد میں چلتا رہا سینکڑوں بچے  اس چشمہ ہدایت سے فیض یاب ہوتے رہے ماشاء اللہ۔ بعد میں جگہ کی تنگی اور سہولت کے پیشِ نظر اس کو مورخہ یکم جمادی الاخری ۱۴۲۶ھ بمطابق ۹ جولائی ۲۰۰۵ میں بدست شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی عبدالحمید فاروقی صاحب جدید عمارت میں منتقل کردیا گیا۔

آج مجمع بہت کم تھا اور مدرسے کے بچے بھی نہیں تھے سب جنازے میں گئے ہوئے تھے یہاں آج بستی میں ایک نوجوان شفیق الرحمن صاحب کا انتقال ہوگیا جن کی عمر۳۵ سال تھی۔۔۔ یہاں پر الحمدللہ تین تبلیغی جماعت آئی ہوئی تھیں کوہستاں کی جماعت تھی جنکی یہاں سے دوسری جگہ تشکیل ہونی ہے۔۔ الحمدللہ اُسی مناست سے پورا بیان ہوا۔۔۔ پونے بارہ تک مجمع خوب جمع ہوگیا تھاجو انتقام میں گئے ہوئے تھے سب بیان میں حاضر ہوگئے تھے حضرت شیخ نے پھر صبر پر نصیحت فرمائی کیونکہ کچھ بزرگ حضرات بیان میں آنسووں کے ساتھ رورہے تھے حضرت شیخ نے جب دیکھا تو صبر پر بیان فرمایا۔۔