مرکزی بیان۱۸   نومبر۱ ۲۰۲   :دین من چاہی زندگی کا نام نہیں         ! 

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:09) ایک پرچی آئی اس سے متعلق فرمایا کہ ہم نے صلوۃ الحاجات کو بھُلا دیا ہے۔۔۔

01:10) حضرت والا رحمہ اللہ فرماتے تھےکہ جب ہاتھ اُٹھیں تو اُٹھے ہی رہیں۔۔۔

02:03) جناب سید ثروت صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے درج ذیل اشعار پڑھے۔۔۔ محبت میں کبھی ایسا زمانہ بھی گذرتا ہے زباں خاموش رہتی ہے مگر دل روتا رہتا ہے اگرچہ راہ تقویٰ میں ہزاروں غم بھی آتے ہیں مگر جو عاشق صادق ہے غم کو سہتا رہتا ہے صلہ عشقِ مجازی کا یہ کیسا ہے ارے توبہ کہ عاشق روتے رہتے ہیں صنم خود سوتا رہتا ہے گنہگاروں کی مت تحقیر کر اے زاہدِ ناداں کہ ان کی آہ و زاری پر فلک بھی روتا رہتا ہے خطائوں کی اگر آئی ہے دامن پر ذرا سیاہی تو اپنے آنسوئوں سے عشق اس کو دھوتا رہتا ہے بہ فیض مرشد کامل جو دردِ دل ہوا حاصل تو دل پر جلسۂ قربِ محبت ہوتا رہتا ہے جو غیروں پر فدا کرتا ہے اپنے قلب و جاں اخترؔ بہ جرم بے وفائی حق سے وہ محروم رہتا ہے

13:02) مسلمان کی وردی بتانے کا حق صرف اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے، مردوں کی وردی شرعی داڑھی، ٹخنے کھلے ہوں ، اور خواتین کو

14:02) مثال : پاکستانی فوجی دشمن کی وردی پہن لے تو کوتر

14:49) جہاز میں چند خواتین کی ہر وقت کی باتوں نے دماغ چٹنی کردیا، اس پر لطیفہ سنایا کہ ڈاکٹر نے کسی نے پوچھا کہ کیسے پتہ لگتا ہے کہ خاتون مر گئی ۔ کہنے لگا جب خاتون زیادہ خاموش رہے تو

15:44) ائیرپورٹ میں ایک خاتون نےبات کرنے کی کوشش کی ، ایک طرف ہو کر پوچھنے لگی کہ یہ میرا نام ہے، اور یہ لڑکے کا نام ، ہمارا رشتہ کیسا رہے گا، توبہ ! ایسے لوگوں کو وہ لوگ صحیح لگتے ہیں جو ان کو غیب کی خبریں بتائیں اور بتائیں کہ آپ پر جادو ہے!۔۔۔مختصر جواب دیا۔۔۔اگر اس موقع پر لمبی بات کرتا تو گناہ گار ہوتا۔۔ایسے موقع پر شیطان یہی کہتا ہے کہ نامحرم کو دین سکھاؤ۔۔اللہ معاف فرمائے بس پھر تباہی۔۔۔اللہ نے بچایا لیکن اتنا افسوس ہواکہ ہماری بیٹیوں کا کیا حال ہوگیا ہے!

17:44) نجومی کی باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔بادشاہ کا واقعہ

19:43) ایک سرکاری آدمی کی ترقی کی خواہش اور عامل بابا کا چکر ۔ بجائے ترقی ہونے کے تنزلی ہوگئی ۔۔۔ جعلی کا چکرکہ بندر کا خیال تو نہیں آیا تھا

21:59) دین پھیلانے کا طریقہ بھی دین والا ہونا چاہیے! حدود نہیں توڑنی چاہیے۔

23:50) مفتی انوار صاحب نےآئینہ محبت کلام حضر ت والا رحمہ اللہ کے درج ذیل اشعار پڑھے: ہر گناہوں سے گر حفاظت ہے تو یہ سمجھو خدا کی رحمت ہے ان حسینوں کاحسن کیا دیکھیں جس نظر بد پہ آہ لعنت ہے حسنِ فانی سے زندگی کو دور رکھنا رہِ سلامت ہے ایسی الفت کی آخری منزل کیسی ذلت ہے کیسی نفرت ہے ان سے سنتے ہو گالیاں کیوں تم جن سے کہتے ہیں آپ الفت ہے حسنِ فانی کی گرمیاں اخترؔ پہلے نفرت ہے پھر عداوت ہے

29:44) حضرت والا دامت برکاتہم نے خطبہ پڑھ کر باقاعدہ بیان شروع فرمایا !

30:21) اللہ والوں کے ساتھ اتنا رہنا کہ ہم ان جیسے بن جائیں ! 31:42) اللہ والی محبت کیا ہے ؟ اور کس سے ہوتی ہے؟ اور کہاں سے ملتی ہے! اللہ والی محبت کی نشانیاں کیا ہیں اور اس کی حدود

35:10) آج ہم مدارس کے طلبہ کو حقیر سمجھتے ہیں اور ان کی غلطیوں کو اچھالتے ہیں، حالانکہ عام مسلمان کے بھی عیب چھپانے کا حکم ہے۔

37:55) ایک کنجوس کی دعوت کا لطیفہ! کھانا گر گیا! ایک کنجوس کا کتا بھوکا مر رہا تھا۔۔۔لیکن وہ روٹی نہیں دیتا تھا لیکن روتا تھا۔۔۔۔کسی نے پوچھا تو کہنے لگا بابو آنسو مفت کے ہیں اور روٹی میں پیسہ لگتا ہے۔۔۔

40:54) پارس پتھر سے کسی نے پوچھا کہ کیا دلیل ہے کہ جو تم ٹچ ہوتا ہے وہ سونا بن جاتا ہے ! پارس پتھر نے کہا کہ دلیل چھوڑ عمل کرکے دیکھ سونا بنتا ہے کہ نہیں ! اسی طرف دلیل پوچھتے ہیں اللہ والے سے اللہ والے کیسے بنتے ہیں ۔۔اللہ کے عشق کی کرنٹ سے دل زندہ ہوتا ہے

42:27) نسبت مع اﷲ کا خدائی منشور: اس لیے میں اس آیت کو دین کی بنیاد اور عطاء نسبت، بقاء نسبت اور ارتقاء نسبت کا خدائی منشور

43:38) اللہ والے سے مضبوط تعلق ہونے پر ۔۔ مثال!

44:30) ٹرین کے ڈبے میں خبر اڑادی کہ سانپ آگیا تاکہ کھل کر سیٹوں پر بیٹھیں۔۔۔سانپ لطیفہ !

44:53) اللہ والے کے پاس اتنا زیادہ کیوں جاتے ہو! اس کا جواب حضرت والا رحمہ اللہ

46:12) زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا حدیث پاک کی شرح حضرت ابو ہریرہ رضی ا للہ عنہ ہی کی روایت ہے کہ کُنْتُ اَلْزَمُ لِصُحْبَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر وقت چپکا رہتا تھا تو بظاہر اس حدیث میں اور حضرت ابوہریرہ رضی ا للہ عنہ کے عمل میں تضاد لازم آرہا ہے لیکن اس علمی سوال کا مولانا جلال الدین رومی نے یہ جواب دیا ہے کہ ناغہ دے کر ملنا جلنا یہ رشتہ داروں کے ساتھ ہے

46:19) جعلی پیر کا واقعہ : کدو شریف ۔۔۔گناہ گار مرغا ایک جعلی پیر مرید کے گھر گیا ۔ایک ایک ۔۔سب کچھ کھاگیا۔مرید پریشان ہوکر رونے۔۔۔حضرت آپ دوبارہ نہیں آئیں گے۔۔جب آپ جائیں گے نہیں تو آئیں گے کہاں سے!

49:51) صبر و شکر کا بیان۔۔۔اصل شکر کیا ہے؟ آج سالگرہ مناتے ہیں کہ شکر ادا کررہے ہیں۔۔۔حالانکہ گناہ ہے!ستر سال کے بڈھے کا سالگرہ منانے لطیفہ! اصلی شکر یہ ہے کہ ہم گناہ نہ کریں صبر کی چار قسمیں

51:47) کوٹ ادو میں ایک ذہنی طور چھوٹی بچی کی تکلیف کا درد بھراواقعہ کہ کس طرح اس چھوٹی سی بچی نے حضرت والا کا ہاتھ پکڑا رکھا۔۔بہت رونا آیا۔۔۔اسی طرح رحیم یار خان میں دو جڑواں بچوں معذور دونوں بابینا تھے۔۔۔ہر حالت میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔۔۔ اللہ نے ہمیں کس طرح مشکلات سے بچایا ہوا ہے۔۔۔ہم گناہوں میں جاتے ہیں۔۔۔اولاد کو ان چیزوں میں لگادیتے ہیں۔۔۔کیا یہی نعمتوں کا شکر ہے!

56:28) اگر کسی کو گناہوں کے ساتھ مالداری دیکھو تو سمجھو یہ عذاب میں ہیں۔۔۔اور کسی کو نیکی کے ساتھ تکلیف میں دیکھو تو سمجھ لو!

57:21) اس سفر میں ایک بستی کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہاں چھوٹی بچیوں کو تمام کپڑے اتار کر سب سے سامنے نہلاتی ہیں ۔۔اور گالیاں دیتی ہیں۔۔

58:22) ہم نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تھا کہ ہمیں انسان بنانا! مسلمان بنانا!صحیح عقیدہ والے گھر میں پیدا کیا!۔۔۔۔اللہ کی کتنی نعمتیں ہیں!۔۔۔

59:23) جو بچے کم عمر میں فوت ہوجاتے ہیں وہ ماں باپ جو جنت میں لے جائیں گے! اس لئے ہر غم اور دکھ کی تسلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کو سوچنا ہے کہ اس سے زیادہ کیا غم آئے گا!

01:01:13) شیخ اول کے انتقال کے تین دن بعد دوسرے شیخ سے فوراً تعلق کرلو! شیخ نہیں بناتے ۔۔۔مشیر بنالو!۔۔۔بیعت ہونا فرض نہیں ہے۔۔اصلاح فرض ہے!

01:01:54) روحانی علاج کیا ہے؟ روحانی بیماریاں کیا ہیں؟ جعلی عاملین کے چکر میں مت آئیں !

01:03:30) اللہ کا پیارا بننا بہت آسان ہے! صرف گناہ چھوڑنا ہے، شریعت پر چلنا ہے!

01:04:07) دنیاوی پاس اور فیل کا کچھ اعتبار نہیں ہے! ۔۔۔۔اصل اخرت کے پاس ہونے کی فکر کرو! اس پر حضرت والا دامت برکاتہم نے اپنا واقعہ سنایا ایک ڈاکٹری پڑھنے والے دوست کو نصیحت۔۔۔۔جو امتحان میں فیل ہوگئے تھے ان کو نصیحت کی کہ دوبارہ کوشش کرو! کوشش کرو! ایسے بھی دوست ہیں جو 9 دفعہ ڈاکٹری امتحان میں فیل ہوئے۔۔۔میں سمجھاتا رہا ۔۔آخر کامیاب ہو۔۔۔

01:06:16) حکیم امیرحسن صاحب جو مجذوب بزرگ تھے۔۔۔ان کے پرلطف واقعات

01:08:14) زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا حدیث پاک کی شرح کا مضمون مکمل فرمایا: حدیث زُرْغِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا کی شرح ارشاد فرمایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہٗ فرماتے ہیں کُنْتُ اَلْزَمُ بِصُحْبَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت میں ہر وقت چپکا رہتا تھا اور ایک حدیث میں ہے کہ زُرْغِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا ناغہ دے کر ملنا محبت کو بڑھاتا ہے فَمَا تَطْبِیْقُ بَیْنَ عَمَلِ الصَّحَابِیِ وَالْحَدِیْثِیعنی صحابی کے قول اور حدیث پاک میں کیا تطبیق ہے، تو اس کی تطبیق مولانا جلال الدین رومی نے بیان کی ہے کہ زُ ْر غِبًّا کا حکم رشتہ داروں کے لیے ہے مثلاً داماد سسرال جائے اور وہیں پڑا رہے،

سسرال والے بھی کہیں کہ پتہ نہیں کب جائے گا، غرض یہ عام رشتہ داریوں کا مسئلہ ہے، لیکن جو شخص اﷲ اور رسول پر عاشق ہو یا اپنے شیخ پر عاشق ہو اس کے لیے زُرْغِبًّا کا حکم نہیں ہے ؎ نیست زُرْغِبًّا وظیفہ ماہیاں زاں کہ بے دریا ندارند اُنسِ جاں یعنی اگر مچھلی سے کہو کہ ناغہ دے کر پانی میں جائے تو مچھلی تو مر جائے گی کیونکہ بغیر پانی کے وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ لہٰذا حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہٗ کی روحِ مبارک ایسی تھی جیسے کہ مچھلی کو پانی سے تعلق ہوتا ہے اور جملہ حضراتِ صحابہ کو اﷲ اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے ایسا ہی تعلق تھا۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حدیث پاک اور صحابی کے قول میں تطبیق یہ ہے کہ زُرْغِبًّا یعنی ناغہ دے کر ملاقات کرنا اعزاو اقربا اور عام رشتہ داروں کے لیے ہے لیکن کسی پر کسی اﷲ والے کے عشق کی کیفیت غالب ہوجائے مثلاً اپنے شیخ سے ایسی محبت ہوجائے کہ بغیر شیخ کے اس کو چین نہیں آتا تو اس اﷲ والی محبت کے لیے زُرْغِبًّا کا حکم نہیں ہے، وہ روزانہ آئے، ایک دن بھی ناغہ نہ کرے، چالیس دن مکمل لگائے یا اگر اس کے ذمہ کوئی حقوقِ واجبہ نہیں ہیں تو شیخ کے در پر رہ پڑے، ہر شخص کے اپنے اپنے حالات ہیں۔

01:09:38) حقوق واجبہ کا خیال رکھنا ضروری ہے!جو ساتھی سفر پر جاتے ہیں تو پوچھا جاتا ہے تاکہ کوئی حقوق واجبہ تو ذمے نہیں ہے! اعتدال سے شیخ سے مشورہ سے کام کرنا چاہیے۔۔۔اس پر حضرت والا رحمہ اللہ کے پوتے مولانا ابراہیم صاحب کا واقعہ سنایا ! ان کے گھر والوں کا حمل تھا اور وہ حضرت والا رحمہ اللہ کے ساتھ جنوبی افریقہ سفر پر جانا چاہتے تھے۔۔۔۔ دین من چاہی زندگی کا نام نہیں ہے

01:12:57) حضرت والا رحمہ اللہ کے اہلیہ محترمہ کے حالاتِ رفیعہ ! حضرت والا رحمہ اللہ کا گھر والوں کے ساتھ حسن تعلق کا مثالی واقعہ !اہلیہ محترمہ کی طبیعت ناساز ہوئی تو حضرت والا 38 گھنٹے میں جلد عمرہ کرکے واپسی آئے۔۔۔حضرت پیرانی صاحب رحمہا اللہ بہت خوش ہوگئیں ہر ایک سے کہتی تھیں کہ دیکھو میری وجہ سے آگئے! آپ بتائیں حضرت والا کے اس عمل سے کتنا لوگوں کو اب تک فائد ہ ہورہا ہے۔۔۔۔اور قیامت تک ہوتا رہے گا۔۔۔ آج رشتے میں دین کو نہیں دیکھتے ۔۔۔۔حدیث شریف کا مفہوم :حسن ، تعلقات، مال کو دیکھتے ہیں ۔۔۔تم نیکی کو دیکھو!

01:19:41) زُرْ غِبًّا تَزْدَدْ حُبًّا حدیث پاک کی شرح کا مضمون دوبارہ شروع فرمایا : لیکن شرط یہ ہے کہ اﷲ والے کی ذات پر عاشق ہواس کی کسی صفت پر عاشق نہ ہو جیسے بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ آج بیان ہوگا یا نہیں۔ جب معلوم ہوجائے کہ بیان نہیں ہوگا تو گھر بیٹھ گئے۔ معلوم ہوا کہ یہ تقریر کا عاشق ہے مقرر کا عاشق نہیں حالانکہ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے محبت ہو اس کو ایک نظر دیکھنا دنیا ومافیہا سے قیمتی ہے۔ محبت ہو تو ایک نظر کی کیا قیمت ہے یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ سے پوچھو۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہٗ سے فرمایا کہ اے ابو بکرصدیق! مجھ کو دنیا میں تین چیزیں عزیز ہیں (۱)خوشبو (۲)نیک بیوی (۳) نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، تو حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہٗ نے عرض کیا کہ اے اﷲ کے رسول! مجھ کو بھی تین چیزیں دنیا میں عزیز ہیں، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے پوچھا کہ بتائو! وہ چیزیں کیا ہیں؟ عرض کیا(۱) اَلنَّظَرُ اِلَیْکَ (۲) وَالْجُلُوْسُ بَیْنَ یَدَیْکَ (۳) وَ اِنْفَاقُ مَالِیْ عَلَیْکَیعنی ایک نظر آپ کو دیکھ لینا اور تھوڑی دیر آپ کے پاس بیٹھ لینا اور اپنا مال آپ پر فدا کرنا، اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز مجھ کو محبوب نہیں ہے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہٗ نے سکھادیا کہ شیخ سے ایسی محبت ہونی چاہیے۔

01:20:28) غور کرنا نماز کو آنکھوں کی ٹھنڈک کہا، بیوی کو نہیں کہا!۔۔۔۔۔ اس سفر میں کئی لوگ ملے کہ نماز نہیں پڑھی جاتی۔۔۔۔نصیحت!

01:24:42) کاش ہمارا اللہ سے ایسا تعلق ہوجائے جو مچھلیوں کو دریا سے تعلق ہے! ہر وقت دریائے عشق الٰہی میں ڈوبے رہیں۔اللہ کے دریا کی مچھلیاں بن جائیں۔۔

01:25:46) ایک صاحب کا واقعہ جو بڑی پوسٹ کے تھے! ۔۔۔مجلس میں بیٹھے رہے اور روتے جارہے تھے۔۔۔موبائل میں بیانات ڈلوائے!

01:27:47) مولانا منصور الحق ناصر صاحب مدظلہ کا ایمان افروز واقعہ ۔۔انہوں نے حضرت والا رحمہ اللہ کے قدموں میں اپنی دنیاوی ڈگریاں قربان کردیں!

01:28:51) ایک سفر میں بوڑھے کا واقعہ ۔۔۔کہ انہوں نے سب تصویر یں ، فیس بک ، یوٹیوب ختم کردیا۔ ماشا ءاللہ! زبردست تنبیہ ۔۔تصویر کشی

01:32:15) سیاست میں مبتلا ایک صاحب کے خط کا حضرت والا رحمہ اللہ نے جواب دیا تھا، وہ پڑھ کر سنایا! ۲۲۹حال:کئی سال پہلے ایک صاحب نے ملکی حالات پر پریشانی و تشویش کااظہار کیا۔ حضرت والا نے مندرجہ ذیل جواب ان کو تحریر فرمایا۔ جواب:آپ کا خط ملا ہمارا آپ کا کام بندگی ہے اورخواجہ کا کام خواجگی ہے، پالنے والا نظام کائنات کو چلانے والا اپنے اسرار نظام کو جانتا ہے ہم آپ بس حق تعالیٰ کو راضی رکھیں ۔ اور بس بے فکر رہیے چہ غم، بچہ ابا سے بے فکر ہم سب اپنے ربّا کے کرم کے آسرے پر بے فکر رہیں۔ دعا خوب عافیت نفسی و خاندانی و ضلعی و بلدیاتی و صوبائی و ملکی و بین الاقوامی کی کرتے رہیں میرے لیے بھی دعا کرتے رہیں۔

01:34:29) گھر کے بڑےاپنے گھر والوں کو باریک کپڑوں پہننے اور چست لباس پر تنبیہ نہیں کرتے ۔۔۔۔اس پر نصیحت!۔۔۔اولاد کو بھی لباس کے معاملے میں غیروں کے لباس پہناتے ہیں۔۔۔کچھ بھی نہیں کہتے ۔۔۔حالانکہ ان یہودیوں کو ۳۰۰ انبیاء کرام کو ایک دن میں شہید کیا ہے۔۔۔ایک تو یہ ہے کہ جاب وغیرہ کی مجبوری ہے۔۔۔اس میں بھی ڈھیلی پینٹ ہو! لیکن گھر میں کیا مسئلہ ہے۔۔۔ڈریس کوڈ میں ان کی کیوں نقل کرتے ہیں۔۔۔جو عمل والے ہیں۔۔۔پینٹ شرٹ ضرورت میں پہنتے ہیں جب سجدے میں جاتے ہیں تو ستر نظر آتا ہے۔۔۔اگر ابھی چھوڑنے کی ہمت نہیں ہے۔۔۔تو کم سے کم ڈھیلی پینٹ تو ہو!۔۔۔ ائیرپورٹ پر چند نوجوان نظر آئے کہیں سے پتہ نہ چلتا تھا کہ مسلمان ہیں لباس سب غیروں کے۔۔۔

01:41:13) حضرت ہردوئی رحمہ اللہ کے ملفوظات سے پڑھ کر سنایا: ۔۔۔ بعض حضرات کو اپنے توابع مثلاً بچوں کے اصلاح کی فکر ہے، ان میں سے بعض کو دینی ادارے میں تعلیم دلاتے ہیں مگر خود اپنی اور اپنی بیوی اور دوسرے بچوں کی ا صلاح سے غافل ہیں۔ ایسے حضرات کے بچوں کی اصلاح بہت دشوار ہوتی ہے، کیوں کہ بچے عملاً ہر وقت اپنے دینی مدرسہ و ادارے کے خلاف اپنے گھر والوں کو دیکھتے ہیں اور اس سے ان کی قوتِ عمل کمزور ہوجاتی ہے جس سے دینی اُمور پر ان کو عمل دشوار ہوجاتا ہے۔ دینی مدرسے کی ہدایات اور پابندیاں بھی کارگر نہیں ہوتیں۔ اس سے زیادہ خطرناک وہ حالت ہے کہ بچوں کو ان ہدایات کے خلاف گھر پر عمل کرایا جاوے مثلاً: تھیٹر اور سینما دکھایا جاوے یا برادری کے خلافِ شرع تقریبوں میں شریک کیا جاوے یا پتنگ بازی و آتش بازی کے لیے پیسے دیے جاویں یا گھر میں ان کی موجودگی میں باجا بجایا جاوے۔

باجا تماشا ویسے بھی جرم اور حرام ہے مگر بچوں کو سنوانا تو ان کو دینی اعتبار سے افیون و سنکھیا کھلانا ہے اس لیے ایسے حضرات کو اپنی اور اپنے گھر کی اصلاح کی طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے جس کا طریقہ اوپر مذکور ہوچکا ہے۔ بعضے حضرات اس سے زیادہ سخت کوتاہی میں مبتلا ہیں کہ خود تو ماشاء اللہ دین کی طرف متوجہ ہیں مگر بیوی بچوں سے بالکل غافل ہیں۔ خود وضع و لباسِ اسلامی سے آراستہ نظر آتے ہیں مگر ان کی بچیوں کو دیکھیے تو بلا آستین و نصف آستین کے کرتے پہنے پھرتی ہیں۔ جوتا اور لباس انگریزی وضع کے ہیں۔ پردے کی تاکید و اہتمام نہیں۔

ان کے علم میں نامحرم اعزا سے خلط ملط ہونا ہے جس پر نکیر و انکار نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح مستورات نہایت باریک لباس پہنتی ہیں، جسم اور بال جھلکتے نظر آتے ہیں جس سے نماز بھی نہیں ہوتی۔ مستورات شرعی پردے کا ہتمام نہیں کرتیں۔ بچوں کو دیکھیے تو انگریزی وضع کے بل ہیں، پائجامہ وغیرہ میں بالکل اسلامی وضع کے خلاف نظر آتے ہیں۔ بعضوں کے بچے شروع ہی سے دنیوی تعلیم میں مشغول ہیں نہ نماز کا اہتمام ہے اور نہ عقیدوں کی صحت کرائی گئی ہے۔ غرض کہ کسی طرح کا ان کے بیوی بچوں میں دینداری کا پتا بھی نہیں۔ اس سے بڑھ کر بہتوں کی حالت ہے کہ داماد دنیا دار جنٹل مین آزاد قسم کا پسند کرتے ہیں۔ صرف دنیا کے مال و جاہ کی وجہ سے دیندار داماد کی تلاش و فکر ہی نہیں کرتے۔ ایسے حضرات کی حالت بہت ہی افسوس کے قابل ہے۔

کیوں صاحب! جب آپ دینداری کو اپنے لیے اختیار کرچکے ہیں اور یہ آپ تسلیم کرچکے ہیں کہ بلادیندار بنے فلاحِ آخرت حاصل نہیں ہوسکتی تو اس فلاح سے اپنے بیوی بچوں کو محروم رکھنا اُن کو بہی خواہی ہے یا سراسر بدخواہی؟ مگر آپ اپنے بیوی بچوں کو دیندار نہ بنائیں گے تو کون بنائے گا اور قیامت میں اُن کے بارے میں جو بازپُرس ہوگی کہ ہم نے تم کو ان پر حاکم بنایا تھا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب نگراں ہو اور سب سے اپنے اپنے زیرِ نگرانوں کے معاملے میں بازپُرس ہوگی

01:42:35) ہر ایک سرپرست سے اس کے ماتحت کا سوا ل ہوگا۔۔۔اس پر ایک درزی کا واقعہ سنایا کہ اس کے ملازمین نماز نہیں پڑھتے تھے۔۔۔مفتی صاحب سے پوچھا انہوں نے فرمایا کہ ان سے کہو اگر نہیں پڑھتے تو دوسری جگہ تلاش کریں!

01:44:00) ایک بڑے پوسٹ کے افسر شرعی داڑھی عمامہ ، ٹخنہ کھولے ہوئے۔۔۔۔محبت رکھتے ہیں ، ان کے ہاں جانا ہوا!دفتر جانا ہوا، ہر طرف سے اس افسر کو سلوٹ مل رہےہیں۔۔۔اور تمام ماتحت نماز میں نظر آتے تھے۔۔۔

01:45:44) انگریزی پڑھنا منع نہیں ۔۔۔انگریز بننا منع ہے! زبان و رنگ پر لڑنے والے سوء خاتمہ کا خطرہ ہے۔۔۔ یہ سب اللہ کی نشانی ہے! کفار سے لین دین کرسکتے ہیں لیکن دل دوستی نہیں کرسکتے۔۔۔۔باہر ممالک میں کیا حال ہے ایک دوسرے کی تقریب میں جاتے ہیں ۔۔ہولی و غیرہ۔۔جو جس قوم کی نقل کرے گا اس کے ساتھ معاملہ ہوگا!

01:47:44) ایک صاحب کا عبرتناک واقعہ کہ انہوں نے اپنی ساری کمائی اولاد پر لگائی لیکن دین نہ سکھایا تو آخر میں کیا حال ہوا!

01:48:20) ارطغرل ڈرامے کی خرابیاں۔۔۔۔مفتی صاحب کا جواب !

01:49:28) حسن کا پوسٹ مارٹم ۔۔گندے مقامات کے جان دے دیتے ہیں ۔۔۔ہر وقت دماغ میں لڑکیاں بیٹھی ہوئیں وہ کیا بیوی سے محبت کرے گا!کمر جھک کے مثل کمانی ہوئی کوئی نانا ہوا کوئی نانی ہوئی۔۔۔

01:58:54) ایک صاحب کا عبرتناک واقعہ کہ انہوں نے اپنی ساری کمائی اولاد پر لگائی لیکن دین نہ سکھایا تو آخر میں کیا حال ہوا!

01:59:34) تم نے ان کو ہمارے باغیوں کی زبان اور قوانین کی تعلیم تو دلائی اور ہمارے قوانین و احکام سے جاہل رکھا تو اس کا ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟ اگر ہمارے وہ اہِ صلاح و مبلغ بھائی جو دوسروں کے اصلاح کی فکر میں رہتے ہیں اور اس کے لیے کافی وقت صَرف کرتے ہیں ان کی یا ان کے گھر کی حالت ایسی ہو تو ان کو اس کی طرف اور بھی توجہ کی ضرورت ہے، اور عقل و نقل ہر اعتبار سے اپنے توابع کی اصلاح پر زیادہ زور دیں اور زیادہ وقت صَرف کریں کیوں کہ یہ فرض ہے، اور اہلِ محلہ یا بستی والوں کی اصلاح درجۂ فرض میں نہیں بلکہ عام طور پر استحباب کا درجہ رکھتی ہے۔ گو اس کے فضائل بہت ہیں مگر فرض صورتیں شاذ و نادر ہی نکلتی ہیں

جس کے تفصیلی مسائل ’’اشرف الہدایات لاصلاح المنکرات‘‘ میں درج ہیں۔ مبلغین حضرات کو اس کا مطالعہ بہت نافع ہوگا۔ اسی طرح ’’ اشرف النصائح لاصلاح القبائح‘‘ کے مطالعے سے اپنی اصلاح اور اپنے متعلقین کی اصلاح کے متعلق ضروری معلومات حاصل ہوں گی اور اصلاح کا طریقہ ’’ اشرف النظام‘‘ و ’’اشرف الخطاب‘‘ سے معلوم کریں۔ ہمارے بعض بھائی ایسے بھی ہیں جو اپنی اور اپنے متعلقین دونوں کی اصلاح سے غافل ہیں۔۔۔۔