مرکزی اتوار مجلس۲۱   نومبر۱ ۲۰۲ :قلبِ سلیم  ! 

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

۔۔ 25:37) بیان کے آغاز میں جناب سید ثروت صاحب نے اشعار پڑھے۔۔۔

27:24) بیان کا آغاز ہوا۔۔۔

28:45) کفار نے سمعنا کہا تھا لیکن اطعنا نہیں کہا تھا سمعنا کے بعد اطعنا ہو تو قبول ہے اور ہر سمعنا بھی قبول نہیں۔۔

29:27) قیامت کے دن مال و اولاد کام نہ آئے گا۔۔

29:52) آج کتنے لوگ دہریہ ہورہے ہیں کیوں؟؟

30:19) پھر کون کام آئے گا جو بھلا چنگا دل لے کر آئے گا وہ کام آئے گا ..قلب سلیم کی پانچ تفسیر ہیں۔۔

31:23) اللہ تعالی ہر وقت ہمارے ساتھ ہیں اور ہم گندی فلمیں دیکھ رہے ہیں۔۔۔

32:16) قلب سلیم کے پانچ راستے (۱)الذی ینفق مالہ فی سبیل البر جو اللہ کے راستے میں مال خرچ کرتا ہے، چونکہ اسے یقین ہے کہ وہاں ملے گا، خرچ نہیں ہورہا بلکہ اللہ کے یہاں جمع ہورہا ہے۔

35:48) آج وراثت کا حصہ نہیں دیتے۔۔۔کہتے ہیں زیادہ بات نہیں کرنا وراثت کی۔۔۔

36:09) کون سا مال کام نہ آئے گا۔۔سود کام نہ آئے گا چور والا کام نہ آٗے گا،وراچٹ نہ دینے والا مال کام نہ آئے گا۔۔۔

37:04) اولاد کی تربیت (۲)الذی یرشد بنیہ الی الحق جو اپنی اولاد کو بھی نیک بنائے۔ اولاد کام نہ آٗے گی کون سی اولاد کام نہ آئے گی۔۔۔ قلب سلیم یہ ہے کہ اپنی اولاد کی تربیت کی بھی فکر کرے۔ یہ نہیں کہ ابا تو ہر وقت مسجد میں ہے اللہ اللہ کررہا ہے۔ بیٹے ٹی وی اور سینما دیکھ رہے ہیں۔ کوئی فکر نہیں۔

38:42) سائیں توکل شاہ۔۔۔

40:51) مانا کے میر گلشنِ جنت تو دور ہے عارف ہے دل میں خالقِ جنت لیے ہوئے۔۔

43:31) نیک اولاد کام آئے گی ..ایک واقعہ۔۔۔

44:58) لیعبدون،لیعرفون۔۔۔

48:34) غلط عقیدوں سے پاکی (۳)الذی یکون قلبہ خالیا عن العقائد الباطلہ جس کا دل باطل عقیدوں سے پاک ہو، ایسا عقیدہ نہ ہو کہ پیروں سے بیٹا وغیرہ مانگنے لگے۔۔

52:09) خدا فرماچکا قرآں کے اندر مرے محتاج ہیں پیر و پیمبر وہ کیا ہے جو نہیں ہوتا خدا سے جسے تو مانگتا ہے اولیاء سے

53:46) خواہشات کا غلبہ نہ ہو (۴)الذی یکون قلبہ خالیا عن غلبۃ الشہوات۔ جس کا دل شہوتوں کے غلبہ سے پاک ہو۔۔غصہ آئے گا لیکن اللہ کے پیارے وہ ہیں جو غصے پر قابو رکھتے ہیں...غصے پر ایک واقعہ۔۔۔

58:23) غیر اللہ سے دل پاک ہو (۵)الذی یکون قلبہ خالیا عما سوی اللّٰہ جس کا دل ماسویٰ اللہ سے خالی ہو۔ یعنی بیوی بچوں اور مال ودولت پر اللہ کی محبت غالب آجائے۔۔ دل مرا ہوجائے ایک میدان ہُو تو ہی تو ہو تو ہی تو ہو تو ہی تو اور مرے تن میں بجائے آب و گل درد دل ہو دردِ دل ہو دردِ دل غیر سے بالکل ہی اُٹھ جائے نظر تو ہی تو آئے نظر دیکھوں جدھر جو کچھ ہو سارے عالم میں ذرہ ذرہ میں اللہ تعالیٰ نظر آئے۔

01:05:12) تبلیغی جماعت آئی ہوئی تھی انگلینڈ سے بھی کچھ ساتھی تبلیغی جماعت کے تھے اُنہوں نے جتنی دیر کہا اتنی دیر بیان فرما کر حضرت شیخ نے تبلیغی جماعت سے مصافحہ فرمایا پھر اُس کے بعد مزید بیان ہوا۔۔

01:06:43) حضرت سعدی شیرازی اور ایک تاجر کی حکایت جس کی تفصیل پہلے گذر چکی۔۔ حکایت:۔ حضرت شیخ سعدی نے مشہور کتاب ’’ گلستان ‘‘ میں ایک قصّہ درج ہے کہ میں ایک دفعہ سفر کر رہا تھا۔ سفر کے دوران ایک تاجر کے گھر رات گزارنے کیلئے رکا اس تاجر نے ساری رات میرا دماغ کھایا وہ اس طرح کہ اپنی تجارت کی کہانیاں مجھے سُناتا رہا کہ فلاں ملک میں میری یہ تجارت ہے، فلاں جگہ میری اس چیز کی منڈی ہے، فلاں ملک سے یہ چیز لی کر آتا ہوں، یہ چیز برآمد کرتا ہوں۔ساری رات کہانیاں سُنا کر آخر میں کہنے لگا کہ میری اور سب خوا ہشات تو پوری ہوگئی ہیں اور میری تجارت بھی پروان چڑھ گئی ہے، البتہ اب صرف ایک آخری سفر کرنے کا ارادہ ہے، آپ دُعا کریں کہ میرا وہ سفر کامیاب ہوجائے تو پھر اس کے بعد قناعت کی زندگی اختیار کر لوں گا اور باقی زندگی اپنی گھر پر بیٹھ کر گزاروں گا۔

شیخ سعدیؒ نے سوال پوچھا کہ وہ کیسا سفر ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میں یہاں سے فارسی گندھک لے کر چین جاؤں گا، اس لیے کہ میں نے سُن رکھا ہےکہ وہ چین میں بہت زیادہ دام پر بکتی ہے، پھر چین سے چینی. برتن لے کر روم میں فروخت کروں گا، وہاں سے رومی کپڑا لے کر انڈیا میں فروخت کروں گا اور پھر ہندوستان سے فولاد خرید کر حلب میں لے جا کر فروخت کروں گا ، حلب سے شیشہ خرید کر یمن میں بیچ دوں گا، پھروہاں سے یمنی چادر لے کر فارس آجاؤں گا غرض یہ کہ اس نے ساری دنیا کے ایک سفر کا منصوبہ تیار کر لیا اور شیخ سعدیؒ سے کہا کہ بس اس ایک آخری سفر کا ارادہ رکھتا ہوں ، اس کے لیے آپ دُعا کریں، اس کے بعد میں قناعت سے اپنے گھر پر باقی زندگی بصرکروں گا، اس وقت بھی یہی خیال ہے کہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی باقی زندگی دُکان پر ہی گزارلے گا۔

شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اس سفر کی روداد سُنی تو میں اس سے مخاطب ہوا اور اس سے کہافرمایا کہ تم نے یہ واقعہ سُنا ہے کہ ’’ غور ‘‘ کے صحرا میں ایک بہت بڑے تاجر کا سامان اس کے اونٹ سے گرا ہوا پڑا تھا، ایک طرف اس کا اونٹ بھی مردا حالت میں پڑا تھا اور دوسری طرف وہ خود بھی مرا ہوا پڑا تھا، اس کا وہ سامان زبان حال سے یہ کہہ رہا تھا کہ دنیا دار کی تنگ نگاہ یا تو قناعت پر کرسکتی ہے یا قبر کی مٹی ہر کر سکتی ہے ، اس کے پُر کرنے کا کوئی تیسرا طریقہ نہیں ہے۔یہ واقعہ سنانے کے بعد شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ جب دنیا انسان کے اوپر مسلط ہوجاتی ہے تو پھر اس کو کسی اور چیز کا خیال تک نہیں آتا ، یہ ہے دنیا کی محبت جس سے منع کیا گیا ہے۔

01:11:48) جو حرام عشق میں مبتلا ہوجاتے ہیں ..لیکن اکڑے مت کہ میں تو نیکی پر ہوں بیان کرتا ہوں ..حضرت اندلسی رحمہ اللہ کا واقعہ کئی بار بیان ہوا کہ ایک نظر خراب ہوئی ایمان بھی چلا گیا پھر ایک سال بعد اللہ نے دوبارہ ایمان کی دولت سے نوازا۔۔۔

01:15:00) موبائل فون سے آج کیا کیا فتنے اٹھ رہے ہیں۔۔۔

01:17:42) حرام عشق اللہ کا عذاب ہے۔۔۔

01:13:20) عشق مجازی پر ایک جملہ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کا اور دو جملے حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے ہیں حضرت امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے کسی کے حُسنِ ظاہری سے نفس کی حرام خواہش پر محبت اور پیار کی پینگے بڑھائی اس محبت کا انجام یعنی حُسنِ ظاہری والی محبت کا انجام جو نفس کے لیے ہوتی ہے عدوات اور نفرت ہے اس پر قتل بھی ہوئے ہیں۔۔ابھی اسی سفر میں ایک صاحب نے بتایا کہ ہمارے گاوں کے ایک صاحب ہیں ایک نواجون لڑکی کو بھگا کر لے گیا پتا ہی نہیں چل رہا ابھی تک دونوں طرف کے تین چار اب تک قتل ہوچکے ہیں کہ لڑکی لاو اب کہاں سے لائے گا وہ تو بیٹے سے بدمعاشی کی ہے۔۔ عاشق اور معشوق دونوں ایک دوسرے کی نگاہ میں ذلیل ہوجاتے ہیں۔۔

01:13:52) حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے وہ کون سے دو جملے ہیں:۔ ۱۔عاشق اور معشوق دونوں ایک دوسرے کی نگاہ میں ذلیل ہوجاتے ہیں۔۔ ۲۔حرام عشق کا نقطہ آغاز عذابِ الہی کا نقطہ آغاز ہے۔۔ یعنی حرام عشق اللہ کا عذاب ہے۔۔