مجلس ۲۲   دسمبر۱ ۲۰۲ءعشاء   :اللہ والوں کے ساتھ کتنا رہنا ہے!          

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

00:54) حسبِ معمول کتاب سے تعلیم ہوئی۔۔۔

06:02) اللہ والے جلدی وقت لگانے سے منع فرماتے ہیں۔۔حقائق سے متعلق بہت اہم نصیحت۔۔۔

07:34) یاد رکھنا!اگر سچا شیخ ہے تو اتنی بار معاف کرے گا جتنی اپنی اللہ سے معاف کرانی ہے۔۔۔

09:17) ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں: ’’من اعترض علی شیخہ ونظر الیہ احتقارا فلا یفلح ابدا‘‘ جس نے اپنے شیخ پر اعتراض کیا اور اس کو حقارت کی نظر سے دیکھا وہ کبھی فلاح نہیں پاسکتا۔

10:05) اللہ والوں کے ساتھ کتنا رہنا ہے۔۔۔اتنا ساتھ رہیں کہ ہم بھی اُن جیسے ہوجائیں۔۔۔

13:21) آج صبح احباب کو سمجھایا جو یہاں کام کرتے ہیں اُن کو نصیحتیں کہ ہر شخص یہ سمجھیں کہ میرا ادارہ ہے۔۔

16:09) شیخ العرب والعجم حضرت والا رحمہ اللہ نے شیخ سے بے وفائی کو بہت بڑا گناہ کیوں کہا؟

17:53) جب وقت لگا رہے ہو تو شیخ کے پاس ایسا وقت لگاو کہ ایک لمحہ ضائع نہ ہو۔۔

18:41) جب بیان کے لیے اللہ تعالی بٹھائیں تو ایک عمل کی تعلیم۔۔بیان کرنے والوں کو یہ عمل کرنا چاہیے۔۔

19:08) شیخ سے محبت بہت ہے لیکن اطاعت نہیں۔۔۔

20:15) ہمارے کو شیخ وہ چاہیے کہ ہمارے مزاج سے وہ ہماری تربیت کرے۔۔۔

22:20) دو چیزوں سے انسان کا دل تباہ ہوجاتا ہے۔۔۔ایک بدنگاہی اور دوسرا غیبت۔۔۔

22:59) حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اشرف علی کی دو باتیں مان لو ایک خود رائی کو ختم کرو اور مٹنا سیکھو۔۔۔

24:45) بیان جب کریں تو نزول کریں مسائل مت بیان کریں ایسا بیان نہ کریں کہ لوگوں کے سر سے گذر جائے ۔۔

25:13) حضرت مولانا شاہ عبدالمتین صاحب دامت برکاتہم کتنے بڑے عالم شیخ الحدیث ہیں اور بیان آپ لوگوں نے کئی بار سنا عوام کے مطابق آسان بیان فرماتے ہیں۔۔۔

27:01) آسمان سے تین نعمتیں نہ آئیں تو کوئی اللہ والا نہیں بن سکتا۔۔ ﴿ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ مَا زَکٰی مِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ اَ بَدًا﴾ (سورۃ النور، آیت:۲۱)یعنی اگر اللہ کا فضل ورحمت نہ ہوتا تو اے صحابہ! تمہاری اصلاح نبی بھی نہیں کرسکتا تھا ۔۔۔

27:34) آپ چاہیں ہمیں یہ کرم آپ کا ورنہ ہم اس چاہنے کے تو قابل نہیں حضرت شیخ نے ترنم میں یہ شعر پڑھا۔۔۔

29:20) جان لڑانا ہے جان دے دی میں ان کے نام پر عشق نے سوچا نہ کچھ انجام پر

32:31) شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کا تذکرہ کہ کیسے شیخ پر جان فدا کردی اور کیسی خدمت کی کہ تینوں مشائخ حضرت والا پر فدا۔۔۔

34:19) حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھولپوری رحمۃ اﷲ علیہ کا واقعہ کہ جب حضرت نے ہل جوتنے والے نوجوان سے جاکر معافی مانگی تو رات ہی کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ میرے شیخ نے خواب میں دیکھا کہ اُن کی کشتی سے کچھ فاصلہ پر ایک اور کشتی پرسرورِ عالم محمد رسول اﷲ صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور آپ کی کشتی میں حضرت علی رضی اﷲتعالیٰ عنہ بھی تشریف فرما ہیں۔ سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا اے علی! عبدالغنی کی کشتی کو میری کشتی سے جوڑ دو، حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے میرے شیخ کی کشتی کو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی کشتی سے ملادیا اور کشتی ملانے سے ’’ٹک‘‘ کی آواز آئی۔ میرے شیخ فرماتے تھے کہ کئی برس ہوگئے اس خواب کو مگر کشتی ملنے سے ٹک کی آواز کا مزہ ابھی تک آرہا ہے ۔۔۔

34:28) ہمارے یہاں جو اخلاق ہیں ایسے اخلاق گھر میں ہیں۔۔جیسے شیخ کے پاس ہیں ویسے گھر میں ہیں۔۔

36:46) حضرت مولانا قاری ارشد عبید صاحب کی ایک بات کا تذکرہ جو کل بیان فرمائی کتنا مزہ آیا۔۔۔

37:13) پھولپور کی سردی مشہور اور شیخ العرب والعجم حضرت والا نے کیا کیا مجاہدات کیے۔۔

40:38) اگر اللہ مقصود نہیں تو مسجد مل جائے گی،مال مل جائے گا جس کی بنیاد ہی پیسوں پر ہو تو اُس کو اللہ کیسے ملے گا۔۔۔

44:09) شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ تقویٰ کی انتہائی باریک باتوں کی احتیاط کے بارے میں ایک دعوت میں میزبان نے ٹی وی چلا دیا۔۔۔ ایک رئیس انہوں نے حضرت والا کی اپنے گھر پر دعوت کی، اس دعوت میں وزراء اور مل مالکان بھی تھے، کیونکہ وہ خود بھی مل مالک تھے۔

جب کھانا شروع ہوا اورحضرت والانے بھی کھاناپلیٹ میں اتارلیا،اچانک اس رئیس نے ٹی وی چلادیا تو حضرت والانے لقمہ وہیں رکھا،فوراً کھڑے ہوگئے اور اتنی زور سے ڈانٹ لگائی کہ تمہاری ہمت کیسے ہوئی ٹی وی چلانے کی! تم نے مجھے بکائو مال سمجھا ہوا ہےکہ میں متاثر ہوجائوں گا،تم یہ سمجھتے تھے کہ میں تمہاری روٹی کھاتا رہوں گا، میں ایسا رزق نہیں کھا سکتاجس سے اللہ ناراض ہو جائے،تمام ساتھیوں سے فرمایا کہ کوئی یہاں کھانا نہ کھائے۔سارے مجمع کے سامنے حضرت والانےاس کو ڈانٹ دیا۔

وہ حضرت والا کے پیچھے پیچھے دوڑے ہوئے آئے۔ ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ مجھے معاف فرمادیجئے، مجھ سے غلطی ہوگئی، خیال نہیں رہا تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ معاف تو کردیا۔ پھر انہوں نے کہا کہ حضرت دو لقمے ہی کھالیجیے میرا دل خوش ہوجائے گا۔ ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ بس میں نے معاف کردیا، لیکن کھانا نہیں کھائوں گا۔ انہوں نے بہت ضد کی مگرحضرت نے اس کا کھانا نہیں کھایا۔

خانقاہ میں مجھ سے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے میں نے دوبارہ کھانا کیوں نہیں کھایا؟ اگر میں دوبارہ کھانا کھانے چلا جاتا تو پھر یہ کہتے کہ دیکھو!اتنا ہمیں ڈانٹ رہے تھے اور اب دوبارہ کھانے کی لالچ میں آگئے۔ حضرت والا کی کیا نظر تھی۔

46:41) شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کے مجاہدات کے جان کو خطرہ ہوگیا لیکن شیخ کو نہیں چھوڑا۔۔۔

47:40) شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کے ایک خلیفہ کا ذکر جو بہت سادے تھے مسجد کو شہید کرنے آئے تھے کیونکہ وہاں کوئی پرائمنسٹر کا گھر بننا تھا تو اپنے گھر کے لیے مسجد کو شہید کرنے آئے یہ بیچ میں آئے تو ان کو شہید کردیا۔۔۔

48:36) روایت مفہوم:جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا گورنر بناکر بھیجا۔۔۔الخہ۔۔۔

50:02) وقت لگانے والوں کو نصیحت کہ شیخ کے پاس رہنے کا ادب سیکھو۔۔۔

51:25) یہ اکڑ تو انسان کو مار دیتی ہے۔۔

53:00) جو اپنے ماضی کو بھلا دےحال کو بھلا دے تو اُس کا مستقبل کبھی نہیں بن سکتا۔۔۔

55:22) وقت لگانے سے پہلے کسی پرانے سے پوچھو کہ ادب کیا ہے۔۔۔

56:14) اتنا ساتھ رہو اللہ والوں کے ساتھ تم بھی اُس جیسے ہوجاو۔۔

56:47) محبت دل کا عمل ہے اور دل جسم میں ہے۔۔۔

59:53) شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کی حضرت مولانا علامہ بنوری رحمہ اللہ نے حضرت کی معارف مثنوئ پڑھی تو کیا فرمایا ۔۔۔

01:00:55) قلندرِ وقت حضرت میر صاحب رحمہ اللہ کا تذکرہ کہ آپ بی کام ہے لیکن آپ بے کام ہیں واقعہ۔۔۔

01:02:40) قلندرِ وقت حضرت میر صاحب رحمہ اللہ کے چند اور واقعات۔۔اسٹیل ملز کا واقعہ۔۔۔

01:05:29) بندر اور بلیک باکس ۔۔۔شیخ قلندر ہو۔۔۔شیخ بندر نہیں ہونا چاہیے قلندر ہونا چاہیے۔۔۔

01:07:34) ہسنے پر نصیحت کہ ہسنا بھی چاہیے۔۔

01:08:28) مزاح کے نام سے ایک کتاب ہے جس کی تقریظ لکھی ہے مفتی اعظم دامت برکاتہم نے۔۔۔

01:10:42) خوش طبعی۔۔۔

01:13:57) مزاح والی ایک بات۔۔۔

01:15:12) حضرت بھیکا شاہ کے جذب کا واقعہ۔۔۔ ایک بزرگ گزرے ہیں ان کا لقب تھا بھیکا شاہ، ان کے پیر کا نام شاہ ابوالمعالی تھا۔ شیخ ان سے چھ مہینے کے لیے ناراض ہوگئے تھے اور ان کو خانقاہ سے نکال دیا تھا، اب وہ خانقاہ کے چکر لگاتے تھے، اتنے میں بارشوں کا موسم آگیا۔ شیخ ابوالمعالی شاہ کی بیوی نے کہا کہ چھت ٹپک رہی ہے تو شاہ ابوالمعالی نے فرمایا ارے! کسی سے بنوالو، عرض کیا کہ کس سے بنوائیں؟

جتنے خانقاہ میں پاجامہ پوش، سفید پوش ہیں یہ تو جانتے نہیں اور جو جانتا تھا اس کو آپ نے نکال دیا، وہ جنگل میں رو رہا ہے۔ شیخ نے فرمایا کہ میں نے نکالا ہے تو نے تو نہیں نکالا، تو بلالے اسے۔ اب انہوں نے بچہ بھیج کر اُن کو بلایا۔ ان کا مارے خوشی کے کیا پوچھنا تھا، چھ مہینے سے شیخ کو دیکھنے کے لیے ترسے ہوئے تھے، آتے ہی فوراً کام شروع کردیا اور سب کچھ بنادیا، ساری چھت ٹھیک کردی۔ اس زمانے میں کھپریل کی چھت ہوتی تھی، لنٹر کی چھت نہیں ہوتی تھی۔ اب جب شاہ صاحب کھانا کھانے آئے تو شاہ ابوالمعالی رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا کہ چھت پر کوئی کام کررہا ہے، نظر اُٹھاکر دیکھا تو وہی تھے جن کو چھ مہینے سے نکالا ہوا تھا، آنکھ سے آنکھ ملی اور وہ رونے لگے، مرید بھی روئے، شیخ بھی روئے اور شاہ صاحب نے کھانا کھاتے ہوئے ایک لقمہ بنایا اور کہا کہ لے بھیک لے! وہ فوراً چھت پر سے کود پڑے، سیڑھی بھی نہیں منگائی اور جلدی سے منہ میں لقمہ اُتارلیا، چونکہ اب ان کا مجاہدہ پورا ہوچکا تھا، خدائے تعالیٰ کی رحمت کا فیصلہ ہوچکا تھا لہٰذا اسی وقت شاہ ابوالمعالی کے سینے کی ساری دولت، ایمان و یقین، دردِ محبت اور نسبت مع اللہ کی جو کچھ دولت تھی سب بھیکاشاہ کے اندر منتقل ہوگئی اور ان کے دل کی دنیا بدل گئی ۔۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries