مجلس ۳۰    دسمبر۱ ۲۰۲ء فجر    : گناہ چھوڑنے کی ہمت صحبتِ صالحین سے ملتی ہے  !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:15) سب سے بڑی نعمت گناہ کو گناہ سمجھنا ہے۔۔

01:27) ہنسی مزاح کو مقصود مت بنائیں۔۔

01:37) مزاح اور مذاق کا فرق۔۔۔

03:01) گناہ چھوڑنے کی ہمت صحبتِ صالحین میں سے ملتی ہے۔۔

09:28) غیبت پر ایک مولانا کا واقعہ کہ کیسے غیبت سے بچتے تھے۔۔

13:54) عمل کے وقت ہم لوگ پیچھے ہوجاتے ہیں۔۔

14:37) درسِ مثنوئی:۔ علم کواگرتن پروری اورشہرت وجاہ ومال کے لیے استعمال کروتویہ علم تمہارے لئے سانپ ہے جوتمہیں ہلاک کردے گالیکن اگرعلم کودل پروری کاذریعہ بناؤکہ دل بن جائے،دل اللہ والاہوجائے،اللہ کی رضاحاصل ہوجائے تویہ علم تمہارابہترین دوست ہے۔

20:32) جواللہ کی رضاکے لئے علم کی طلب میں گھرسے نکلااس کے لئے اس مجاہد کاثواب ہے جوجہاد کے لئے نکلاہے یہاں تک کہ وہ گھرلو ٹ آئے کیونکہ دین کوزندہ کرنے میں اورشیطان کوذلیل کرنے میں اورنفس پر مشقت اٹھانے میں وہ مجاہد ہی کی طرح ہے۔اسی طرح علماء ِ سوء کے لئے جو علم کودنیاداری،تن پروری اوراپنی عزت وجاہ کے لئے آلۂ کاربناتے ہیں احادیث میں سخت وعیدیں واردہیں۔

28:18) حضورصلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں : یعنی جو اس نیت سے علم حاصل کرے کہ علماء سے فخرکرے یابے وقوفوں اورجاہلوں سے جھگڑے یالوگوں کواس کے ذریعہ اپنی طرف متوجہ کرے تاکہ لوگ اس کی تعظیم کریں،مرادیہ ہے کہ علم سے اس کی غرض طلب دنیا،شہرت ومال وجاہ وغیرہ ہواس کے لئے جہنم کی وعیدہے۔یعنی قرآن وحدیث کاجوعلم اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے سیکھا جاتاہے اس علم کواگر کوئی اس لئے سیکھتاہے کہ دنیاکامال ومتاع حاصل کرے تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایساشخص جنت کی خوشبوبھی نہیں پائے گا۔

29:39) اس لئے تحصیل علومِ دینیہ کے لئے تصحیح نیت اوراخلاص انتہائی ضروری ہے۔ اگر یہ حاصل نہیں توعلم اس کے لئے وبال ہے اوراخلاص بغیراللہ والوں کی صحبت کے نہیں ملتا۔

بڑے سے بڑاعلامہ بھی اگراللہ والوں سے مستغنیٰ ہوگاتواس کاعلم اس کونفس کی قید سے آزادنہیں کراسکتا۔اس کے نورِعلم پرنفس کے اندھیرے ہوں گے جس سے اس کاعلم نہ خود اس کے لئے مفیدہوگانہ امت کے لئے مفید ہوگا۔

مولانارومی دعاکرتے ہیں کہ :۔ اے اللہ !علم کاجوقطرہ آپ کابخشیدہ اورعطافرمودہ میری جان میں موجودہے اس قطرۂ علم پرمیری خواہشاتِ نفس کے اندھیرے چھائے ہوئے ہیں اوروہ قطرۂ علم میری خاک تن یعنی میرے عناصراربعہ (آگ مٹی پانی اورہوا)کے گندے تقاضوں میں چھپاہواہے آپ اپنے کرم سے اسے نفس کی قیدسے رہائی دلادیجئے اوراپنے دریائے نورسے میرے اس قطرۂ علم کومتصل فرمادیجئے کیونکہ آپ کے نورکے سامنے ہوائے نفس کے اندھیروں کی کیامجال ہے جوٹھہرسکیں۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries