مجلس۱۳       جنوری ۲ ۲۰۲ءعشاء    :ہر گناہ کی اصلاح کروانی ہو گی ! 

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

04:33) حضرت مفتی اعظم مفتی رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ ہمارے ہا ں دین پڑھایا تو جاتا ہے لیکن سکھایا نہیں جاتا۔۔۔

04:34) حضرت مولانا قاری حنیف جالندھری صاحب دامت برکاتہم کی محبت کا ذکر۔۔۔

05:21) فرمایا کہ خانقاہ کی روح تقویٰ ہے۔۔۔

06:51) فرمایا کہ اصلاح ہم نے مشکل بنائی ہوئی ہے بس اخلاقِ رزیلہ جاتے جائیں اور اخلاق ِحمیدہ پیدا ہو جائیں۔۔۔

08:16) ہر گناہ کی اصلاح کرانی ہوگی۔۔۔گناہ چھوٹتے نہیں دب جاتے ہیں ۔۔۔

10:18) ایک طالب علم کا واقعہ جو اول نمبر پر آتا تھا اُستاد کو گالی دے دی پھر اُس کے کیا حالات ہوئے۔۔۔

13:53) بڑے بال رکھ کر کس کو دُھوکہ دے رہے ہیں۔۔۔

14:43) آج نیکی کو ہم ہلکا سمجھ رہے ہیں قیامت کے دن پتا چلے گا۔۔۔

14:54) حضرت جلال الدین رومیؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے اللہ !آپ نے اپنے کرم سے علم ودانش کاایک قطرہ جومجھے بخشاہے اسے اپنے غیرمحدوددریائے علم سے متصل فرمادیجئے۔جس کے قطرۂ علم کااتصال حق تعالیٰ کے غیرمحدوددریائے علم سے ہوگیاپھرسوچ لوکہ اس کاعلم کیساہوگا۔اس کاعلم کبھی ختم نہ ہوگا۔اس لئے اللہ والے علماء کے علم کوعلماء ظاہرنہیں پاسکتے۔جن کاقطرۂ علم کتب بینی سے متعلق ہے اورجن کاقطرۂ علم اللہ تعالیٰ کے دریائے غیرمحدودسے متصل ہے دونوں میں زمین وآسمان کافرق ہے۔

18:27) کالج و یونیورسٹی کے طلباء بھی ہیرے ہیں ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہے۔۔۔۔پڑھائی منع نہیں ہے۔۔۔کتنے ڈاکٹر ہیں جو بدل گئے۔۔۔جس نے کلمہ پڑ ھا ہے وہ ہیرا ہے۔۔۔۔

27:01) اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کنواں کھودااوراس میں باہرسے پانی بھردیایہ پانی ایک دن ختم ہوجائے گا۔یہ مثال ہے علماء غیرصاحب نسبت کے علم کی جنہوں نے کتب بینی سے علم کے حروف اورنقوش توحاصل کئے لیکن کسی ولی اللہ کی صحبت میں رہ کرعلم کی روح حاصل نہیں کی جس کے متعلق ایک محدث کاشعر ہے جومیرے خلیفہ بھی ہیں اورجن کوحضرت مولانایوسف بنوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث پڑھانے کے لئے جنوبی افریقہ بھیجاتھا،ان کایہ شعربہت عمدہ ہے ؎

اگرملی نہ غلامی کسی خدا کے ولی کی توعلم درسِ نظامی کوعلم ہی نہیں کہتے

28:12) اورعلم صاحبِ نسبت کے علم کی مثال یہ ہے کہ جیسے کنواں کھودااوراتناکھوداکہ گہرائی میں پانی کے چشمہ تک پہنچ گئے اورزمین کے اندرسے سوتہ پھوٹ گیااب اس کنویں کاپانی کبھی ختم نہیں ہوگا۔اسی طرح جوعالم اللہ اللہ کرتاہے،کسی اللہ والے سے اللہ کے لئے دل وجان سے محبت کرتاہے اوراس سے اپنے نفس کی اصلاح کراتاہے،مجاہدہ کرتاہے،گناہوں سے بچنے کاغم اٹھاتاہے،اس اللہ والے کی برکت سے اپنے علم پرعمل کرتاہے تو اس کے قطرۂ علم کااتصال اللہ تعالیٰ کے غیرمحدوددریائے علم سے ہوجاتاہے۔پھراس کاعلم ختم نہیں ہوتااوراس کوایسے ایسے علوم عطاہوتے ہیں کہ علماء ظاہرانگشتِ بدنداں رہ جاتے ہیں کہ یہ علوم اس کوکہاں سے آرہے ہیں جوکتابوں میں نہیں ملتے ؎

35:42) سمارٹ فون کی کیا ضرورت ہے؟نفس کے غلام بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ہمارا کیا شرعی عذر ہے ؟۔۔۔چھٹی کے دن ہم کیا کرتے ہیں ۔۔۔مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ تنہا نہ چل سکین گے محبت کی راہ میں میں چل رہا ہوں آپ مرے ساتھ آئیے

41:22) ڈگریاں حاصل کر کہ بڑی پوسٹوں میں آنا۔۔۔علماء تو انبیاء علیہم السلام کے وارثین ہیں ۔۔۔جب تڑپ ہے تو دین پھیلانے کی تڑپ کیوں نہیں ہے؟دُنیا کی کیا حقیقت ہے۔۔۔حضرت سالم رضی اللہ عنہ نے بادشاہ کو کیا جواب دیا کہ جس نے دُنیا بنائی ہے کبھی اُس سے دُنیا نہیں مانگی تو آپ سے کیا مانگو گا۔۔۔

48:13) حضرت فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے ہارون رشید کو کیا جواب دیا؟۔۔۔

54:17) ہمارا ایک ہی مقصد ہے بس اللہ کو راضی کرنا۔۔۔

56:24) پرچیاں۔۔۔بیعت۔۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries