مرکزی بیان  ۲۴    فروری  ۲ ۲۰۲ءعشاء  :فہم دین بہت بڑی نعمت اور دولت ہے   ! 

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

بیان :لسانِ اختر شیخ الحدیث ترجمان اکابر عارف باللہ حضرت مولانا شاہ عبدالمتین صاحب دامت برکاتہم

13:04) بیان سے پہلے مولانا ابراہیم کشمیری صاحب نے اشعار پڑھے۔۔۔

13:05) جناب رمضان بھائی نےاشعار پڑھے۔۔۔

23:33) جناب سیّد ثروت صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعار پڑھے۔۔۔

31:58) مفتی انوارالحق صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعار پڑھے۔۔۔

41:50) خطبے میں قرآن کریم کی آیت اور حدیث مبارکہ کی تلاوت کی قال اللہ تعالیٰ إن أكرمكم عند الله أتقاكم وقال رسول اللہ ﷺان اولی الناس بی المتقون من کانوا وحیث کانوا۔

45:34) اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بنے سے اُونچا مقام کوئی نہیں ہے۔

46:01) جو اللہ کا ہو جاتا ہے تما م کائنات اُس کی ہے جنت الفردوس بھی اُس کی ہے۔

48:39) جو اللہ کا ہوتا ہے وہ ہر وقت تڑپتا رہتا ہے۔

49:38) خواہشات کا توڑنا اور گناہوں سے بچنے میں جو تڑپنا ہے یہ بڑا مزیدار تڑپنا ہے۔

50:15) اے سی میں سکون نہیں ہے خدا کی قسم سکون اللہ تعالیٰ کی ذات میں ہے اللہ تعالیٰ کے لیے رونے میں ہے۔

52:08) ایک بندے کا رونا خدا تعالیٰ کو اتنا پسند ہے کہ حضرت والاررحمہ اللہ کا شعر ہے اِدھر جو گِرے زمیں پر مرے اشک کے ستارے تو چمک اُٹھا فلک پر میری بندگی کا تارا۔

54:11) گناہ کیا چیز ہے ؟اپنے محبوب پاک سے دور رہنا ہے جو گناہ کرتا ہے محبوب پاک سے دور ہوجاتا ہے ۔

54:53) از لبِ نادیدہ صد بوسہ رسیدمن چہ گویم روح چہ لذت کشید۔جو عُشاقِ حق ہوتے ہیں وہ بن دیکھے محبوب کے لیے تڑپتے رہتے ہیں۔

56:35) اللہ تعالیٰ کے لیے جو انتظا رکیا جاتا ہے اس میں نور بڑھتا رہتا ہے اور قلب کو سکون ملتا رہتا ہے۔

57:18) جو مولیٰ کے عاشق ہیں اُن کو احساس ہوتا ہے کہ یہ کون بیٹھا ہے میرے دل میں قلب کے اندر اُن کے پیارکا احسا س ہوتا ہے کہ باری تعالیٰ مجھ سے خوش ہوتے ہیں ۔

58:35) اولیاء اللہ ایسے ہوتے ہیں کہ سلاطین کے تخت وتاج کو وہ کچھ نہیں سمجھتے ۔

01:00:07) اولیاء اللہ کو نور ہی نور حاصل ہوتا ہے۔

01:01:39) اس سے بڑھ کر کیا کامیابی ہیکہ بندہ گناہوں کو چھوڑ دے مولیٰ کو راضی کرلے۔

01:02:21) اپنے کو کچھ نہ سمجھے کہ میں عالم ہو ں بس اللہ تعالیٰ کی خوشی پر اُس کی نظر ہو ۔

01:02:55) کچھ ہونا مرا ذلت و خواری کا سبب ہے۔۔یہ ہے مرا اعزاز کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں۔۔اوراس پر ہے مجھے ناز کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں۔

01:03:16) حکیم الامت رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابلیس عالم تھا عابد تھا عارف تھا اس کے باوجود راندہ درگاہ ہوا کس وجہ سے تکبر وبڑائی کی وجہ سے۔

01:05:15) جس کو اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہوتی ہے وہ اپنی نگاہوں سے گِر جاتا ہے۔

01:05:49) قال رسول اللہ ﷺمن تواضع لله رفعه الله جس کو تواضع کی نعمت حاصل ہوجاتی ہے اُس کا سب سے اُونچا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔

01:07:57) اذکروا اللہ ذکراً کثیرا۔ذکر ذاکر کو مذکور سے ملا دیتا ہے۔مجاہدا کرنے والے جو ہوتے ہیں بیچارے یہ بھی محروم نہیں رہتے منز ل تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔

01:10:16) اللہ اللہ کیسا پیارا نام ہے۔۔عاشقوں کا مینا اور جام ہے۔

01:10:30) حضرت والا رحمہ اللہ کا شعر ہے دل کی گہرائی سے ان کا نام جب لیتا ہوں میں۔۔۔چومتی ہے میرے قدموں کو بہار کائنات۔

01:11:11) اہل اللہ قرب الہی کے شہر میں رہتے ہیں۔

01:11:36) ہم اُن کے لیے غم اُٹھائیں یہی ہمارا کام ہے۔

01:12:38) عشاقِ حق کی یہ خاصیت ہیکہ وہ عجب وکبر سے ڈرتے رہتے ہیں اہل اللہ اپنے قلب کی خودپاسبانی رکھتے ہیں۔

01:14:20) ہم ایسے رہے یا کہ ویسے رہے۔۔وہاں دیکھنا ہے کہ کیسے رہے۔۔حیاتِ دو روزہ کا کیا عیش و غم۔۔۔مسافر رہے جیسے تیسے رہے

01:14:43) آپﷺ نے فرمایا کہ کُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ کہ دُنیا میں ایسے رہو جیسا کہ مسافر رہتا ہے۔مقصد یہ نہیں کہ کھانا پینا چھوڑ دو بلکہ اس کے ساتھ اپنے مالک کوناراض نہ کرو بس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہمیں بھولو مت ۔

01:17:24) کیا بات ہے کہ جن انسانوں کو اس نطفے سے پیدا کیا اور پھر اُن کو اتنا اُونچا مقام دیا کیا شان ہے مالک تعالیٰ کی۔

01:18:22) ایک ہے نفس کی خواہشات کو پورا کرنا اور ایک ہے مالک تعالیٰ کو خوش کرنا ۔

01:19:46) جس کو راستے کی تلاش ہے وہ منزل تک پہنچ جائے گا۔

01:21:11) اہل اللہ کی صحبت کی برکت سے اللہ تعالیٰ کا راستہ آسان ہوجاتا ہے۔

01:22:02) اللہ والوں کی برکت سے ایسی آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں کہ نور ہی نور محسوس ہوتا ہے۔

01:22:33) حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو اللہ کا دیوانہ ہوتا ہے اُس کا دل مطمئن ہوتا ہے سکون ہی سکون ہوتا ہے۔

01:23:08) اخلاص سے اُونچا مقام رضا بالقضاء ہے۔

01:23:52) حکیم الامت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہزاروں نوافل کی وجہ سے اتنا قرب حاصل نہیں ہوتا کہ جتنا مصائب پر صبر کرنے سے ہوتا ہے۔

01:24:59) شکر اور صبر دو بازو ہیں جن کی وجہ سے آدمی تیزی سے مالک تعالیٰ کی طرف اُڑتا ہے۔

01:25:40) آرائش آسائش اور زیبائش ان کی اجازت ہے ۔

01:27:44) اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کےاستعمال کرنے سے خوش ہوتے ہیں حضرت والارحمہ اللہ کو ایک صاحب نے لنگی ھدیہ کی تھی اس کا واقعہ۔

01:29:52) فہمِ دین بڑی نعمت ہے اور بہت بڑی دولت ہے۔۔۔

01:30:46) دل میں صرف اللہ ہی اللہ ہو اور کسی کی جگہ نہ ہو۔۔ دل میرا ہوجائے ایک میدانِ ھو تو ہی تو ہو توہی توہو تو ہی تو اور مرے تن میں بجائے آب وگِل درد دل ہو درد دل ہو درد دل غیر سے بالکل ہی اٹھ جائے نظر

01:32:36) جو اللہ تعالی سے جو خوب ڈرتا ہے اللہ تعالی کے ہاں اُس کی بہت زیادہ قدر دانی ہوتی ہے۔۔۔

01:33:04) اللہ تعالی کی محبت کا چسکہ جب لگ جاتا ہے تو حرام کی طرف پھر نہیں جاتا ۔۔ میری زندگی کا حاصل میری زیست کا سہارا تیرے عاشقوں میں جینا تیرے عاشقوں میں مرنا۔۔

01:36:50) یہاں سے مفتی نعیم صاحب نے کچھ بیان فرمایا اور دستار بندی سے متعلق بیان فرمایا اور دستار بندی ہوئی۔۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries