مجلس   ۱۴       مارچ   ۲ ۲۰۲ء عشاء         :ارشاداتِ درد ِ دل  !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

03:14) حسبِ معمول مظاہر حق جدید سے تعلیم ہوئی۔۔۔

03:15) مولانا عبدالکریم صاحب نے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعارپڑھے ۔۔جس نے سر بخشا ہے اُس سے سرکشی زیبا نہیں ۔ اپنے خالق پر فدا ہو اور غیراللہ کو چھوڑ دامنِ مرشد پکڑ اور نفس کے رشتے کو توڑ خاک ہوجائیں گے قبروں میں حسینوں کے بدن عارضی دلبر کی خاطر راہِ پیغمبر نہ چھوڑ جانے کب آجائے رب سے تجھ کو پیغامِ اجل راہ گم کردہ نَفَس کو اُس کی گمراہی سے موڑ دین جس کا ہے اُسی پر آسرا اخترؔ کرو کام جس کا ہے اُسی پر اپنی سب فکروں کو چھوڑ

07:30) وقت لگانے والے حضرات کو نصیحت کہ اُصول پر نہ چلنے سے فائدہ نہیں ہوتا۔۔۔

12:02) بڑے بالوں سے متعلق نصیحت کہ بال اتنے بڑے نہ ہوں کہ مٹھی میں آئیں۔۔۔

15:14) حضر ت والا رحمہ اللہ کے بیان کا ذکرجو آج صبح غرفہ میں لگایا گیا تھا حضرت والا رحمہ اللہ نے کتنی تڑپ کے ساتھ فرمایا کہ کب تک گناہ کرتے رہو گئے۔۔۔اس بیان کو ضرور سننا چاہیے۔۔۔

17:49) ارشاداتِ دردِ دل سے بالوں کےمتعلق حضرت والا رحمہ اللہ کا مضمون پڑھ کر سنایا :ارشاد فرمایا کہ ایک مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگ ظاہر کو اہمیت دیتے ہیں کہ ظاہر حسین ہو، اندر چاہے کچھ بھی ہو مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے مہمانوں کا، حاجیوں کا سر منڈوا دیااور بعضوں کا قصر کرا دیاکیونکہ بعض فتنہ کا سبب تھے اس لیے ظاہر ی حسن کو ختم کردیااور باطنی حسن میں اضافہ کردیا۔ اس لیے ظاہر ی حسن کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔

21:29) موجودہ اکابرین کو دیکھیں کے کس کے بال بڑے ہیں اُن کے طریقے پر کیوں نہیں چلتے ۔۔۔

21:43) میں نے اپنے مدرسہ میں ایک طالبِ علم کا سر منڈوا دیا کیونکہ لڑکے بے ریش ہوتے ہیں اور بال فتنہ ہوتے ہیں۔ تو اس کی ماں نے مجھے ٹیلیفون کیا کہ آپ نے میرے لڑکے کے بال منڈوا کر اس کی توہین کی، سب اعز ا ء و اقربا اس کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ میں نے کہا یہ توہین تو نہیں ہے۔ اگر یہ توہین ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے مہمانوں کی توہین کرتے؟ کہ سب حاجیوں کا سر منڈوا دیایہ سن کر وہ خاموش ہوگئی۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ میرے بندہ کا دل بھی پاک ہوجائے، جسم بھی پاک ہوجائے، بال بھی فتنہ ہے۔

بعض اہلِ دنیا بڑی محنت سے بال بناتے ہیں اور بال بنا کر حسینوں کو پھنساتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ باطن کو دیکھتے ہیں، سر منڈوا کر بڑے بڑے نوابوں کو مسکین بنادیتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جب اپنے مہمانو ں کے ساتھ یہ معاملہ کیا تو یقینا اس کے باطنی مال کا اضافہ ہے، جب ظاہر کی طرف سے لا پرواہی ہو گی تو باطن چمک جائے گا۔ جو لوگ ظاہر کو زیادہ سنوارتے ہیں وہ باطن سے غافل ہو تے ہیں۔ لہٰذا ظاہر کو اللہ تعالیٰ نے اہمیت نہیں دی کہ بالوں کی فکر چھوڑو، احرام باندھو، دیوانے بنو اور شکل بھی دیوانوں کی سی بنائو۔ جب دنیاوی محبت میں لوگ اپنے ظاہر سے بے پرواہ ہوجاتے ہیں تو میری محبت میں میرے دیوانوں کا کیا حال ہونا چاہیے؟

25:47) بڑی مونچھ رکھنا مکروہ تحریمی ہے ۔۔۔

27:11) طلبہ و مدرِّسین سےخصوصی خطاب:اب ایک اعلان سن لیجیے کہ یہاں پر جتنے لوگ موجود ہیں سب کے سب سر منڈوادیں۔ البتہ جو اساتذہ اور طلبہ شادی شدہ ہیں اُن کی معافی ہے۔ تو فاسقین کی وضع سے بچو اور صالحین کی وضع میں رہو، آج کل جتنے ہِپِّی ہیں اُن کے بال گردن تک ہیں، تو اگر میری خانقاہ میں رہنا ہے تو سب کے سب سر منڈادیں، یہ ایسا حکم ہے کہ اس کے لیے تین دن کا موقع دے رہا ہوںاگر میں نے تین دن کے بعد کسی کے سر پر بال دیکھے اور سر منڈا ہوا نہیں دیکھا تو اُس کا اِخراج کردیا جائے گا، اگر سر منڈوانے میں چپت کھانے کا خطرہ ہے تو مشین لگوادیں لیکن مُحلِّقِین کا درجہ زیادہ ہے، پہلے مُحلِّقِین ہیں بعد میں مُقصِّرین ہیں، یہ ہمارے بزرگوں کی بات ہے۔ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں تمام طلبہ کے سر منڈوادئیے جاتے تھے اور جن اساتذہ کی شادی نہیں ہوئی اُنہیں بال رکھ کر کسی کو دکھانے کی کیا ضرورت ہے؟ سر منڈوانے سے آدھا نفس مرجاتا ہے۔

30:41) مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مور اپنے پَر نوچ نوچ کر پھینک رہا تھا، کسی نے کہا کہ اس طرح تو تُو حسین نہیں رہے گا، تیرا سارا حسن انہی پروں کی وجہ سے ہے، اُس نے کہا کہ ان پروں پر لعنت بھیجو، سارے شکاری ان پروں ہی کی وجہ سے جنگل میں بندوق لے کر بیٹھے رہتے ہیں، جب میں پر نوچ دوں گا اور کھوسٹ ہوجائوں گا، شکل بگڑ جائے گی تو آرام سے سوئوں گا پھر کوئی میرا پیچھا نہیں کرے گا لہٰذا سر منڈوا کر ٹیڈیوں سے بے فکر ہوجاؤ۔۔۔

34:09) حُسن کی حکومت ہر پانچ سال کے بعد بدل جاتی ہے۔۔۔

42:24) جب میں پر نوچ دوں گا اور کھوسٹ ہوجائوں گا، شکل بگڑ جائے گی تو آرام سے سوئوں گا پھر کوئی میرا پیچھا نہیں کرے گا لہٰذا سر منڈوا کر ٹیڈیوں سے بے فکر ہوجائو، ٹیڈی بھی دیکھ کر کہے گی کہ ہزار سال پرانا مُلّا قبرستان سے نکل کر آرہا ہے تو سر منڈوادیجیے ان شاء اللہ تعالیٰ اس کا فائدہ آپ لوگ دیکھیں گے، بس صرف وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جن کی بیویاں ہیں۔

43:22) حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ذکر میں چاہے دل لگے یا نہ لگے برابر کیے جائے۔۔۔

44:10) فرمایاکہ ذکر کا نفع تو شروع سے ہی ہونے لگتا ہے جیسا کہ بچہ۔۔۔

45:35) ایک صاحب نے لکھا کہ ذکر سے کچھ نفع نہیں ہوا تو فرمایاکہ اس کو رائیگاں مت سمجھو اس کا ضرور نفع ہوگا ۔۔۔پانی کے قطرے کی مثال جو پتھر پر گِرتا رہتا ہے اور پتھر پر کھڈا سا بن جاتا ہے۔۔۔

49:23) خدا کی قسم جنہوں نے مایوس ہو کر نیکیاں چھوڑ دیں وہ اور گِر گئے۔۔۔۔

51:35) تقویٰ پر رزّق کا وعدہ ہے اور ہم عاملوں کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔۔۔

51:53) فرمایا کہ ہر ہر دن کے ذکر کو اس کے پیدا کرنے میں یکساں دخل ہے۔۔۔

53:19) فرمایاکہ مختلف اذکار سے اس قدر نفع نہیں ہوتا جس قدر ایک یا دو اذکار پر مداومت سے ہوتا ہے۔۔۔

55:32) دُعاکی پرچیاں۔۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries