رمضان جمعہ بیان    ۲۳           اپریل   ۲ ۲۰۲ء:اللہ تعالیٰ کی معافی اور رحمت لامحدود ہے !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

05:16) مفتی انوار الحق صاحب کی آواز میں اشعار۔۔

13:17) خطبہ ..بیان کا آغاز ہوا۔۔

13:42) اللہ تعالی اطاعت کا جذبہ عطاء فرمائیں۔۔

13:56) ہمیں فائدہ کیوں نہیں ہوتا کیونکہ ہم اطاعت نہیں کرتے بے اصولیاں کرتے ہیں۔۔

16:01) جس نے اپنے شیخ پر اعتراض کیا کبھی فلاح نہیں پاسکتا۔۔

17:24) امرد لڑکوں سے مزاح کرنا وقت لگارہے ہیں اور کم داڑھی والے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں

20:17) کسی شعبے کو برا نہ کہیں ۔۔

21:47) جتنے دین کے شعبے ہیں اِن سب کا آخر اخلاص ہے اور اخلاص کہاں سے ملے گا۔۔۔

25:03) کچھ لوگ دین کے شعبے میں جڑ کر پھر لوگوں کو کیسے دھوکہ دیتے ہیں۔۔۔ایک بوڑھے کا واقعہ۔۔

27:08) اپنی اصلاح کی فکر رکھنی چاہیے ماحول کا فرق پڑتا ہے لیکن شیطان کو جنت کا ماحول ملا ہواتھا لیکن کام بنا اس لیے نیک ماحول مبارک لیکن اصلاح نہیں کرائے گا تو ماحول کچھ نہیں کرے گا۔۔

30:07) اللہ تعالی نے اپنی دوستی کو فرض کیا ہے۔۔

32:20) غیرت نہیں تو ہر گناہ کرے گا بیوی بھی نامحرم کے پاس بیٹھی ہوگی تو کچھ نہیں کہے گا۔۔

33:18) گناہوں کی نحوست پھر ایسی ہوتی ہے کہ محرم کے آس پاس بھی اس کی نظر گھومتی رہے گی۔۔۔

35:30) جب بیوی نہیں چاہتی کہ میرا شوہر کسی اور عورت کو دیکھے تو اللہ تعالی کیسے چاہے گیں کہ میرا بندہ دل میں غیراللہ کو بسائے۔۔

36:29) جب زلیخا حضرت یوسف علیہ السلام کو گناہ نہ کرنے پر قید خانے کی دھکمی دی تو کیا فرمایا کہ رب السجن أحب إلي مما يدعونني إليه۔۔

39:42) اب ایک ہی عشرہ بچا ہے دوزخ سے خلاصی کا رحمت کا بھی گیا مغفرت کا عشرہ بھی گیا ۔۔۔

40:13) گناہ اچھی چیز ہے یاخراب۔۔

41:52) لڑکی کی وجہ سے آواز کونرم کرنا بال کو سیٹ کر وغیرہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس میں اتنی خرابیاں ہیں کہ اشرف علی کا قلم اس کو دائرہ تحریر میں نہیں لاسکتا۔۔ایک خرابی تو یہی ہے کہ اللہ تعالی سے نظر ہٹ جاتی ہے اور غیراللہ دل میں آجاتا ہے۔۔۔

43:43) رمضان میں دعوت دینا ثواب ملے گا لیکن ایسی دعوت جس میں گناہ ہو مرد و عورت ساتھ ہو افطار دعوت کے چکر میں عصر مغرب نماز غائب ۔۔۔دعوت کریں لیکن اللہ تعالی کے قانون کو تو مت توڑیں۔۔

45:20) اللہ کا باغی۔۔۔

46:28) رزق کے اندر رزاق کو بھول گئے۔۔۔

47:31) جو رمضان میں روزے میں بھی گناہ چھوڑے تو اللہ تعالی کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔

49:30) نسوار اور سگریٹ کو چھوڑو اور اللہ کے عشق کی پڑیا کو دل سے لگاو۔۔

50:40) شراب ہو یا کوئی بھی نشہ ہو اُس پر نصیحت ۔۔

52:58) اعتکاف کرنے والوں کی فضیلت۔۔۔

56:04) اعتکاف میں یہ دعوتیں وغیرہ مت کریں۔۔۔

59:12) اعتکاف میں بیٹھنے کے محاسن۔۔

01:02:26) اللہ تعالی جس کو اپنا بنانا چاہتے ہیں اُس کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔۔

01:06:54) آج خبریں آرہی ہیں کہ جھگڑے ایک طرف کے پانچ قتل تو دوسری طرف کے کتنے قتل۔۔۔یہ نہیں معلوم کہ شب برات میں ناحق قتل کرنے والی کی معافی نہیں ہوگی۔۔ ایک واقعہ کہ 15 لوگوں نے ایک آدمی کو مارا جو نماز پڑھ کر آرہا تھا صرف اس بات پر کہ اُس نے کہا کہ آپ کے بچے گالیاں دیتے ہیں ان کو سمجھائیں۔۔یہ حال ہے کہ مسلمان ملکر مسلمان کو ماررہے ہیں جبکہ یہ صبر کا مہینہ ہے ۔۔۔

01:10:01) حضرت وحشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے جذب کا واقعہ پہلے حضرت وحشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے جذب کا واقعہ بیان کرتا ہوں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ کتنے بڑے قاتل ہیں۔ جنگ ِاُحد میں سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو قتل کیا اور بہت بے دردی سے قتل کیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اس دن اتنا دکھ ہوا کہ آپ نے فرمایا کہ اس کے بدلہ میں ستر کافروں کے ساتھ یہی معاملہ کروں گا اور خُدا کی قسم کھائی۔ اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ} اے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اگر آپ بدلہ لیں تو اتنا ہی بدلہ لے سکتیں ہیں جتنی آپ کو تکلیف پہنچائی گئی ۔ آپ بھی کسی ایک کافر کے ساتھ ایسا کریں۔ ایک یا چند کے بدلہ میں ستر کافروں کو نہیں مار سکتے لیکن ’’وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَہُوَ خَیْرُ لِّلصّٰبِرِیْنَ‘‘ اگر آپ صبر کریں تو یہ بہتر ہے ۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالی نے صبر کو میرے لیے خیر فرمایا۔ اے صحابہ سن لو میں صبر اختیار کرتا ہوں اب کسی ایک سے بھی بدلہ نہیں لوں گا اور میں قسم توڑتا ہوں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے قسم کا کفارہ ادا فرمایا۔۔

01:11:24) ور کچھ عرصہ بعد حضرت وحشی رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ کو اب اسلام پیش کیا جا رہا ہے۔ سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دینے کے لیے پیغام بھیجا کہ اے وحشی ایمان لے آئو تو انہوں نے رسول خُدا صلی اﷲ علیہ وسلم کی طر ف جواب بھیجا۔ ذرا دیکھئے پیغامات کے تبادلے ہو رہے ہیں۔ کیا پیغام بھیجا کہ آپ جانتے ہیں ۔ ’’ان من قتل او اشرک او زنی‘‘جو شرک کرے گا ، قتل کرے گا، زنا کرے گاآپ جانتے ہیں کہ اس کے بارے میں آپ کے خُدا نے یہ نازل کیا ہے اﷲ تعالیٰ نے وحشی کے اسلام کے لیے دو آیت نازل فرمائی۔ دیکھئے یہ اﷲ تعالیٰ کا کرم ہے۔ ایسے مبغوض، ایسے مجرم، رسول خُدا کے چچا کے قاتل پر اﷲ تعالیٰ کی رحمت برس رہی ہے۔ کیا ٹھکانہ ہے اس کے حلم کا! دوسری آیت نازل ہو رہی ہے ان کے اسلام کے لیے {اِلاَّ مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحاً}اے رسول خدا وحشی کو آپ پیغام دے دیں کہ اگر وہ توبہ کرلیں اور ایمان لائیں اور صالح عمل کرتے رہیں تو میں ان کے ایمان اور اسلام کو قبول کرتا ہوں۔ دیکھئے اﷲ تعالیٰ ایسے شخص کے اسلام کے لیے ، بدترین مجرم کے لیے آیت پر آیت نازل فرما رہے ہیں اور یہ ناز نخرے دکھا رہے ہیں۔ اُن کے لیے قرآن کی آیات لے کر جبرئیل علیہ السلام کی آمد و رفت ہورہی ہے۔ اﷲ اکبر کیا ٹھکانہ ہے ان کی رحمت کا ۔ تیسری آیت کیا نازل فرمائی: {اِنَّ اﷲَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ} اﷲ تعالیٰ شرک کو نہیں معاف کرے گا لیکن اس کے علاوہ جتنے بھی گناہ ہیں سب معاف کردے گا جس کے لیے چاہے گا۔یعنی وحشی اگرایمان لائیں اور شرک سے توبہ کرلیں تو عمل صالح کی بھی قیداُٹھ رہی ہے ’’وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ‘‘ شرک کے علاوہ جتنے بھی گناہ ہیں اﷲ تعالیٰ بخش دے گا جس کے لیے چاہے گا۔

01:13:20) نکالو یاد حسینوں کی دل سے اے مجذوب

01:14:50) اب ان کا جواب سنئے۔ پھر پیغام کا تبادلہ ہورہا ہے۔میں ابھی شبہ میں ہوں کیوں کہ اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے مغفرت کی آزادی نہیں دی بلکہ مغفرت کو اپنی مشیت سے مقید کردیا کہ جس کو میں چاہوں گا اس کو بخش دوں گا۔ مجھے کیا پتہ کہ اﷲ تعالیٰ کی مشیت میرے لیے ہوگی یا نہیں، وہ میرے لیے مغفرت چاہیں گے یا نہیںپس میں نہیں جانتا کہ وہ مجھے بخشیں گے یا نہیں۔ بتائیے پیغامات کے تبادلے سن رہے ہیں آپ لوگ۔ کیا یہ حق تعالیٰ کا جذب نہیں ہے؟ یہ اُنہیں کا جذب ہے۔ حضرت وحشی کوبھی ابھی خبر نہیںکہ اﷲ تعالیٰ انہیں جذب فرمارہے ہیں ب جوتھی آیت نازل ہورہی ہے: {قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِن رَّحْمَۃِ اﷲِ اِ نَّ اﷲَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہٗ ھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ} ہ آیت اتنی قیمتی ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ‘‘ اے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم آپ میرے گناہگار بندوں کو بتا دیجئے کہ اے میرے بندوں جنہوں نے اپنے اوپر زیادتیاں کرلیں، ظلم کر لیے، بے شمار گناہ کر لیے’’لاَ تَقْنَطُوْا مِن رَّحْمَۃِ اﷲِ‘‘ تم میری رحمت سے نا امید نہ ہو ’’اِنَّ اﷲَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا‘‘ یقینا اﷲ تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔۔

01:22:39) فضائل رمضان حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمہ اللہ کی کتاب سے رمضان شریف کی فضیلت کے بارے میں۔۔

01:25:29) رمضان میں منادی کی آواز۔۔

01:29:32) داڑھی اور مونچھوں کا حکم کیا ہے؟

01:31:25) عید کی رات بھی لیلۃ الجائزہ کی رات ہے اور اُس میں کتنے گناہ ہوتےہیں۔۔

01:32:21) اللہ کے عاشق انتقام نہیں لیتے۔۔

01:33:51) انعام والی رات۔۔

01:34:31) اخبارات پڑھ کر سیاستدان کو گالیاں دینا نسب کو گالیاں دینا سب بہت بڑا گناہ ہے۔۔

01:38:13) آپس کا سب سے اچھا سلوک۔۔۔

01:40:13) آپ ﷺ نے مسلمان کی آبرو رزیزی کو بدترین سود قرار دیا ہے۔۔

01:45:05) اللہ کی رحمت سے دوری۔۔