مجلس   ۶ مئی    ۲ ۲۰۲ءعشاء  :علم دین بہت بڑی دولت اور نعمت ہے       !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

00:50) حسب معمول بیا ن کے آغاز میں کتاب سے تعلیم ہوئی۔۔

04:06) یہ دینی جگہیں مبارک جگہ ہیں یہاں ہر قسم کے لوگ بھی آتے ہیں۔۔۔۔

05:57) علم بہت بڑی دولت ہے۔۔

09:17) بانی تبلیغ مولانا الیاس صاحب رحمہ اللہ پیر بھی تھے اور مرید بھی تھے آج ہم کیوں اپنی عقلیں لڑاتے ہیں۔۔

10:39) عالم کسے کہتے ہیں جو علم پر عمل کرنے والا ہو۔۔

13:22) اللہ تعالی کا ذرہ ناراض ہونا کسی دوزخ سے کم نہیں۔۔۔

16:33) اللہ والے اللہ نہیں ہیں لیکن اللہ تعالی سے جدا بھی نہیں ہیں۔۔ خاصانِ خدا خدا نہ باشند لیکن زخدا جدا نہ باشند اللہ والے خدا نہیں ہیں لیکن وہ خدا سے جدا بھی نہیں ہیں۔ دیکھ لو دھوپ نظر آرہی ہے جہاں سورج کی شعاعیں پڑ رہی ہیں وہی دھوپ ہے، آپ اُس کو سورج نہیں کہہ سکتے لیکن یہ سورج سے الگ بھی نہیں۔ ابھی سورج ہٹ جائے تو دھوپ بھی ختم ہوجائے گی۔ تو اللہ والے اللہ نہیں ہیں، اُن کو اللہ کہنا کفر ہے، شرک ہے لیکن وہ اللہ سے جدا بھی نہیں ہیں۔

19:05) غیبت اتنا بڑا گناہ۔۔۔

21:08) بیعت چار قسم کی ہے۔۔

27:00) حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا ملفوظ کہ سچا شیخ بہت بڑی نعمت ہے۔

31:10) جعلی عملیات کیسے کیسے دھوکہ دیتے ہیں۔۔

31:33) اصلاح کی باتیں نہیں سمجھ آتی تو کم از کم بیعت نہ ہوں لیکن مشورہ کرکے عمل تو کریں۔۔

35:23) حضرت والا رحمہ اللہ کا واقعہ جب حضرت شیخ کے گھر تشریف لائے بیان کے لیے اور کھانے کے لیے بھی حضرت شیخ نے فرمایا کہ کتنی خوش نصیبی کی بات ہے کہ اتنا بڑا اللہ والے گھر تشریف لائے پورا واقعہ بیان فرمایا۔۔

37:34) جب صالحین اور اللہ کے مقبول بندوں کا تذکرہ ہوتا ہے، اللہ والوں کے تذکرے سے رحمت برستی ہے چہ جائیکہ وہاں خود اللہ والے موجود ہوں تو وہاں کتنی رحمت برسے گی۔

42:09) مفتی انوار صاحب سے حضرت شیخ نے اشعار پڑھنے کا فرمایا فیضان محبت سے اشعار پڑھے جو خانہ کعبہ می ں ہوئے۔۔ کعبہ شریف میں میرے دو شعر اور ہو ئے تھے نہ گُلوں سے مجھ کو مطلب نہ گلوں کے رنگ و بو سے کسی اور سمت کو ہے مری زندگی کا دھارا جو گرے اِدھر زمیں پر میرے اشک کے ستارے تو چمک اُٹھا فلک پر میری بندگی کا تارا

45:34) حضرت مولانا یونس پٹیل صاحب رحمہ اللہ کا تذکرہ کہ حطیم میں دعا مانگتے ہوئے انتقال ہوا کیا خوش نصیبی ہے

47:24) ایک اہم ملفوظ۔۔۔