مجلس   ۹ مئی    ۲ ۲۰۲ءفجر  :دین اور دنیا کے کاموں میں اعتدال کو سیکھیں         !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

00:31) حضرت تھانوی رحمہ اللہ کا اعتدال کے بارے میں ملفوظ۔۔۔

00:48) عبادت اتنی کرنی چاہیے جو تحمل سے زیادہ نہ ہو ورنہ پھر تھک کر بیٹھ جاو گے۔۔

03:38) دین میں مزہ یہ ہے کہ دوسرے سے کام لیں خود بھی کام کریں لیکن دوسرے سے کام لیں ۔۔

01:53)حدیث پاک میں ہے کہ کہ آپ ﷺ نے نماز اور روزے سے تمام شب کی بیداری سے منع فرمایا ہےاس کا مطلب کہ تکثیر عبادت کا طریق بتلایا اور تکمیل عبادت سے روکا ہے کیونکہ اگر ہر وقت عبادت مین مشغول رہے گا تو پھر نتیجہ یہ ہوگا کہ قوی کمزور ہوجائیں گے تو پھر معمولی عبادت کی بھی طاقت نہیں رہے گی اور قدرِ قلیل بھی فوت ہوجائے گا اور پھر اعتدال نہ رہے گا

05:27) اہل بدعت اور جملہ عبادت کرنے والوں ایسی مثال ہے جیسی شیطان کی کہ کم بدبخت نے حضرت آدم علیہ السلام کو تو سجدہ بھی نہیں کیاجبکہ یہ حکمِ خداوندی تھا اور اس آدم علیہ السلام کی اولاد سے بے زنا کرواتا ہے کیا اِ س بے حیائی کا بھی کوئی ٹھکانہ ہےسجدہ کرنے میں تو آپ کو خاک اور نار یاد آگئے اور پھر اسی خاک کے نیچے آپڑتا ہے یعنی میں آگ کا ہوں اور حضرت آدم علیہ السلام مٹی کے ہیں اورمٹی نیچے ہوتی ہےسجدہ تو نہیں کیا اور اسی طرح اہلِ دنیا کی حالت ہے کہ خداوند تعالی کے تو خلاف کرتے ہیں اور اُس کی ادنی ادنی مخلوق کے سامنے سجدہ کرتے پھرتے ہیں یعنی وہی جو کہتے ہیں اوپر خدا ہے نیچے آپ ہیں کام کردیجیئے کہ تنخواہ زیادہ ملے اُن کے آگے پیچھے گھومنا چاہے علماء اور دین کو برا بھلا کہے پھر بھی اُن کا تھوک چاٹنا۔۔

07:15) اسی طرح اہلِ دنیا کی حالت ہے کہ خداوند تعالی کے تو خلاف کرتے ہیں اور اُس کی ادنی ادنی مخلوق کے سامنے سجدہ کرتے پھرتے ہیں مساجد میں سجدہ کرنے سے تو عار محسوس کرتے ہیں اور قبروں پر جاکر ناک رگڑتے ہیں

08:42) بہت ہی اہم ملفوظ ضرور سنیں۔۔ اہل بدعت اور جملہ عبادت کرنے والوں کی مثال۔۔

07:28) بہت سے رئیس مساجد میں آنے کو اپنی حقارت سمجھتے ہیں اور قبروں کی مٹی اپنے منہ کو ملتے ہیں زکوۃ دینے میں دم نکلتا ہے اور طوائفوں اور بدکار عورتوں پر خوب خرچ کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اہل اللہ سے نفرت کرتے ہیں اور شیاطین سے خوش ہوتے ہیں انبیاء پر طعن اور جادوگروں پر اطمینان کرتے ہیں بلی سے خوف اور شیر سے بے فکری کیا بات ہے بھائی اس کو تو اور دنوں میں بھی بیان کرنا ہے کیا بات فرمائی کہ بلی سے خوف اور شیر سے بے فکری۔۔

08:11)خالق سے بے نیازی اور مخلوق کی غلامی کرتے ہیںاور پھر اپنے کو جنیدِ وقت بھی سمجھتےہیں

11:52) مقصود اللہ تعالی کا راضی کرنا ہے۔۔وساوس اگر آئے تو زیادہ اُس کی طرف دیہان نہ دے۔۔۔

14:21) عشق مجازی اللہ کا عذاب ہے ایک واقعہ کہ ایک صاحب کو اللہ تعالی نے اس نے نکالا اب شادی بھی ہوگئی اب پھر اس میں مبتلا ہوگئے اور بیوی کو مارتے ہیں کتنی بڑی بدبختی ہے میری آپ کی اگر کوئی پٹائی کرئے تو کیا حال ہوگا۔۔۔

16:07) خارش کا علاج خارش نہیں ہے ۔۔

18:53) ایک صاحب کو سونے پر تنبیہ اور پھر حضرت والا رحمہ اللہ کا عمل کہ کتنا کم سوتے تھے اور کتنی اپنے شیخ کی خدمت کرتے تھے۔۔

21:24) عمل ناقص کو بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔۔