مجلس   ۹ مئی    ۲ ۲۰۲ءعشاء   :زخم حسرت ہزار کھائیں ہیں         !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

00:12) درس مشکاۃ شریف۔۔مفتی انوارالحق صاحب۔۔

03:07) اشعار۔۔بآواز مفتی انوارالحق صاحب۔۔فیضان محبت سے حضرت والا رحمہ اللہ کے اشعار ایسی صورت جو مجھے آپ سے غافل کردے۔۔

3 07:30) اسباب پیالہ ہے اور دینے والے اللہ تعالی ہیں۔۔نظر خالق پر ہو ہاں اسباب ضرور اختیار کریں۔۔

08:27) توکل کے بارے میں نصیحت۔۔

09:25) شیخ کا رنگ بھی کس پر چھڑتا ہے جو سب کے ساتھ علماء۔مفتی صاحبان طلباء سب کا ادب کریں اخلاق سے پیش آئے ۔۔۔

11:51) حضرت ذوالبجادین رضی اللہ عنہ دو چادر والے ..اور قیمت کیا لگی۔۔۔

11:57) شیخ سے مضبوط تعلق ہونا چاہیے۔۔

14:05) چار سدہ شہر کا ذکر جب سفر ہوا تھا چارون طرف قبرستان۔۔

15:00) ایک ہزار کرامات سے بڑھ کر دین پر استقامت سے رہنا ہے۔۔۔

16:46) شیخ ہو میخ نہ ہو۔۔

19:19) تین چیزیں بہت خطرناک ہیں۔۔۔

22:03) ایک اہم مضمون جو پہلی بار بیان ہورہا ہے۔۔ شیخ العرب والعجم حضرت والا رحمہ اللہ کا ملفوظ حضرت شیخ نے بیان فرمایا۔۔ زخمِ حسرت ہزار کھائے ہیں۔۔۔

25:44) اللہ والا وہ ہے جو شبہہ گناہ سے بھی بچے ''المتقی من یتقی الشبھات''۔ 26:18) فضل کا آسرہ لگائے ہیں۔

27:10) تیرے غم کی جو مجھ کو دولت ملے غمِ دو جہاں سے فراغت ملے

28:07) یہ لہو آرزو کا پینا یہی میرا جام ومینا یہی میرا طور سینا میری وادیوں کا منظر میری حسرتوں کا منظر میرے خون کا سمندر ذرا دیکھنا سنبھل کر اور عارفاں زانند ہر دم آمنوں کہ گذر کردند از دریائے خوں عارفین اللہ والے ہر وقت سکھ چین اور امن میں کیوں ہیں؟ اس لیے کہ انہوں نے دریائے خون سے عبور کیا ہے، نفس کی خواہشات کا خون کیا ہے۔

29:33) ان حسینوں سے دل بچانے میں ہم نے غم بھی بہت اُٹھائے ہیں حضرت والا رحمہ اللہ کا شعر ہے حضرت والا نے اپنا ہی شعر بدل دیا ان حسینوں سے دُم چھڑانے میں ہم نے جھٹکے ہزار کھائے ہیں

31:08) اللہ تعالی جیسا مقتدا اور مشائخ کو کچھ دیا ہے تو اچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہننا چاہیے۔۔۔

40:20) سفر کی کچھ کارگذاری کہ جب دبئی جانا ہوتا تھا بیانات کے سلسلے میں تو خان صاحب لوگ کتنی محبت کرتے تھے۔۔

42:18) گناہ نہ کرنے سے دل میں تکلیف ہوتی ہے لیکن جو غم ملتا ہے اُس کا کوئی مقابلہ نہیں یہ اللہ تعالی کے راستے کا غم ہے۔۔

44:03) خون تمناء،شکستِ آرزو۔۔۔

44:24) نہ میکدہ میں نہ خانقاہ میں ہے جو تجلّی دلِ تباہ میں ہے

50:00) بدنظری والوں کی کیا حالت ہوتی ہے۔۔

52:27) دو لفظوں میں زندگی پورہ ہوجائے اطلاع و اتباع۔۔۔۔

56:19) یہ ایک اہم ملفوظ جو آج بعد فجر بھی بیان ہوا۔۔ اہل بدعت اور جملہ عبادت کرنے والوں ایسی مثال ہے جیسی شیطان کی کہ کم بدبخت نے حضرت آدم علیہ السلام کو تو سجدہ بھی نہیں کیاجبکہ یہ حکمِ خداوندی تھا اور اس آدم علیہ السلام کی اولاد سے بے زنا کرواتا ہے کیا اِ س بے حیائی کا بھی کوئی ٹھکانہ ہےسجدہ کرنے میں تو آپ کو خاک اور نار یاد آگئے اور پھر اسی خاک کے نیچے آپڑتا ہے یعنی میں آگ کا ہوں اور حضرت آدم علیہ السلام مٹی کے ہیں اورمٹی نیچے ہوتی ہےسجدہ تو نہیں کیا اور اسی طرح اہلِ دنیا کی حالت ہے کہ خداوند تعالی کے تو خلاف کرتے ہیں اور اُس کی ادنی ادنی مخلوق کے سامنے سجدہ کرتے پھرتے ہیں یعنی وہی جو کہتے ہیں اوپر خدا ہے نیچے آپ ہیں کام کردیجیئے کہ تنخواہ زیادہ ملے اُن کے آگے پیچھے گھومنا چاہے علماء اور دین کو برا بھلا کہے پھر بھی اُن کا تھوک چاٹنا۔۔ اسی طرح اہلِ دنیا کی حالت ہے کہ خداوند تعالی کے تو خلاف کرتے ہیں اور اُس کی ادنی ادنی مخلوق کے سامنے سجدہ کرتے پھرتے ہیں مساجد میں سجدہ کرنے سے تو عار محسوس کرتے ہیں اور قبروں پر جاکر ناک رگڑتے ہیں

58:47) بہت سے رئیس مساجد میں آنے کو اپنی حقارت سمجھتے ہیں اور قبروں کی مٹی اپنے منہ کو ملتے ہیں زکوۃ دینے میں دم نکلتا ہے اور طوائفوں اور بدکار عورتوں پر خوب خرچ کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اہل اللہ سے نفرت کرتے ہیں اور شیاطین سے خوش ہوتے ہیں انبیاء پر طعن اور جادوگروں پر اطمینان کرتے ہیں بلی سے خوف اور شیر سے بے فکری کیا بات ہے بھائی اس کو تو اور دنوں میں بھی بیان کرنا ہے کیا بات فرمائی کہ بلی سے خوف اور شیر سے بے فکری۔۔ خالق سے بے نیازی اور مخلوق کی غلامی کرتے ہیںاور پھر اپنے کو جنیدِ وقت بھی سمجھتےہیں..