مجلس   ۱۰  مئی    ۲ ۲۰۲ءعشاء  :محبت کی دو حالتیں  !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

00:34) درس مشکوۃ۔۔مفتی انوار الحق صاحب۔

03:30) اشعار فیضان محبت کتاب حضرت والا رحمہ اللہ کی مفتی انوار صاحب نے پڑھے۔۔ میر رکھا ہے کیا نظاروں میں میر آئو بھی گلعذاروں میں

05:28) میر آئو بھی گلعذاروں میں ہے کہاں چین بے قراروں میں اس مصرعے کی شرح حضرت شیخ نے فرمائی بے قرار کون ہوتا ہے جو آدھا پاگل ہوتا ہے جس کو بدعا لگی ہوتی ہے کیونکہ حدیث پاک کی بدعا ہے لعن اللہ الناظر الخہ اور لعنت کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری۔۔۔

06:48) ہے کہاں چین بے قراروں میں بے قرار کون لوگ ہیں جو عشق مجازی میں مبتلا رہتے ہیں پاگل کی طرح پھرتے ہیں عشاق مجازی ہر وقت ناپاک رہتے ہیں گندے گندے میسجز کرتے ہیں

09:38) مرد وہ ہے جو اپنا حق چھوڑ دے۔۔۔

13:33) جب ہم وقت لگا کر یا مدرسے سے پڑھ کر جاتے ہیں تو عمل کرتے ہیں یا نہیں فجر کی نماز ہے یا نہیں یہ کیا کہ ماحول سے بدل گئے ماحول اچھا تو خود بھی اچھے اور ماحول بدلا تو اللہ کو بھی چھوڑ دیا۔۔

17:23) اشعار:۔ اِک حسیں ہو تو دل اسے دے دوں بڑی مونچھ رکھنا صحیح نہیں ٹخنہ چھپانا دو حالتوں میں جائز نہیں۔۔

18:30) اشعار: اِک حسیں ہو تو دل اسے دے دوں سخت مشکل ہے ان ہزاروں میں میر آئو بھی گلعذاروں میں

18:58) خونِ ارماں سے قلب رنگیں کر میر رکھا ہے کیا نظاروں میں یعنی حرام خواہشات کو دبانا..خونِ آرماں سے دل کو رنگین کر یعنی گناہ نہ کرکے جو حسرتوں کا خون ہوگا تو اس دل میں اللہ تعالی آئیں گے۔۔

22:00) ایماندار تاجر کون ہے؟متقی تاجر مولی والا وہ قیامت کے دن ایماندار تاجروں میں شمار ہوگا۔۔جو انبیاء اور صدیقین کے ساتھ ہونگے۔۔

24:48) اشعار: خونِ ارماں سے قلب رنگیں کر میر رکھا ہے کیا نظاروں میں

25:38) اشعار: ایک پل کو سکوں نہیں ملتا دیکھ بلبل کو ان بہاروں میں

26:40) اشعار: اپنے قلب و نظر بچا لینا کون جیتا ہے ان سہاروں میں دل خدا پر فدا کرو اخترؔ کچھ نہیں عارضی بہاروں میں

29:05) تعلیم اور اشعار کے بعد بیان کا آغاز ہوا۔۔۔

29:54) زنا والے کو اور لڑکوں کے ساتھ بدفعلی والوں کو قیامت کے دن کیا عذاب ملے گا آج یہ بیان کرنا تھا لیکن اشعار میں جو مکتہ پڑھا تو اچانک دل میں آیا کہ اس آیت کو بیان کرلیا جائے تو ذہن میں آیا کہ دل میں جو بار بار آئے تواپنی نیت سے اُس کو بیان کردینا چاہیے۔۔

31:24) دین کی بات کو خوب مزے سے سننا چاہیے۔۔

31:35) منافقوں نے کلمہ پڑھا تھا آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور وحی کی بات سنتے تھے جہاد میں بھی جاتے تھے لیکن اتنا بڑا جسم دیا لیکن چھوٹا سا دل نہیں دیا تو برباد ہوگئے اسی طرح ہم لوگ دین میں جسم تو دیتے ہیں لیکن دل نہیں دیتے۔۔۔

32:47) طلباء کرام کے لیے نصیحت۔۔

32:57) اگر یہ دل صحیح تو سب صحیح ہوگا۔۔ ((اَلَا وَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَا وَہِیَ الْقَلْبُ)) تحقیق جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ اچھا ہوتا ہے تو تمام جسم اچھا ہوتا ہے اور اگر وہ بگڑ جاتا ہے تو تمام جسم بگڑ جاتا ہے۔ اور یاد رکھو کہ وہ ٹکڑا دل ہے۔

34:18) ایک شاگرد نے دارالعلوم میں اپنے استاد کو بتایا کہ ہمارے علاقے میں ماں باپ کے سامنے بیوی کو دیکھنا جرم سمجھا جاتا ہے اور ہنس نہیں سکتے تو استاد نے فرمایا کہ یہ غلط ہے آپ اس رسم کو ختم کریں تو طالبعلم نے اس کے برعکس کیا بیوی ہنسی تو بہن نے کہا کہ تو بے غیرت ہے ماں باپ کے سامنے ہنستا ہے تو ڈنڈا لے کر بیوی کا سر پھاڑ دیا تو استاد نے فرمایا کہ یہاں سے چلے جاو شکل بھی نہیں دکھانا اور کہیں اور جاکر داخلہ لو۔

37:34) یہ چھوٹا دل۔۔ دل گلستاں تھا تو ہرشے سے ٹپکتی تھی بہار دل بیاباں ہوگیا، عالم بیاباں ہوگیا۔۔

39:13) ایک ملفوظ:۔

41:08) لاکھوں گناہوں کے باوجود نادم ہوکر رحمت کی اُمید رکھے ارشاد فرمایا کہ اپنے عمل پر نظر کر کے اگر اللہ سے رحمت کا اُمید وار ہوا تو یہ کیا اُمید ہوئی؟ یہ اُمید تو اُمید کہلانے کے قابل نہیں۔ یہ تو اپنے عمل سے اُمید ہوئی، اللہ سے کیا اُمید ہوئی! مزہ تو جب ہے کہ کالی کلوٹی، چیچک رُو عبدیت کے باوجود اُمید ہو کہ اللہ تعالیٰ نظرِ رحمت فرمائیں گے۔ دل میں احساس ِندامت و شکستگی ہو کہ ہائے!میرے پاس تو کچھ نہیں، خالی خولی ہوں لیکن دل اُمید سے لبریز ہو کہ ہم جیسے بھی ہوں، یہ تو دیکھو ہمارے اللہ میاں کیسے ہیں! ان کا آفتاب ِ کرم نجاست پر پڑتا ہے اور اس کو سبزہ و نور سے تبدیل کردیتا ہے، پس اپنے عمل سے صرف ِنظر کرکے اللہ میاں کی رحمت پر نظر رہنی چاہیے، اور دعا بھی کرے کہ اے اللہ! ہماری نیکیوں کو جو تیرے لئے کچھ مفید نہیں قبول فرمالیجیے اور ہمارے گناہوں کو جو تیرے لئے کچھ مضر نہیں معاف فرمادیجئے۔یہ دعا حدیث شریف میں آئی ہے: ((یَا مَنْ لَّا تَضُرُّہُ الذُّنُوْبُ وَلَا تَنْقُصُہُ الْمَغْفِرَۃُ ھَبْ لِیْ مَا لَا یَنْقُصُکَ وَاغْفِرْلِیْ مَا لَا یَضُرُّکَ ))

42:52) دیدار ِ الٰہی سے محرومی آخرت کی بڑی سزائوں میں سے ہوگی۔۔ كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ فرما یا کہ اے کافرو!ہم قیامت کے دن تمہیں اپنی صورت نہیں دِکھائیں گے،ہم تم کو اپنے حسن و جمال سے محروم کردیں گے ، اس سے یہ ظاہر کردیا کہ وہ حاکم بھی ہیں اور محبوب بھی۔ یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جس کو اپنے حسن پر ناز ہو،جس کو یہ معلوم ہو کہ میرے دیدار ِحسن سے محرومی بڑی عظیم محرومی ہے ۔ کافروں کو اپنے اس غم کا احساس اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ ہم ایمان والوں کو اپنا جمال دِکھائیں گے۔۔

50:21) محبت کی دوحالتیں:۔ ارشاد فرمایا کہ محبت کی دو حالتیں ہوتی ہیں، کبھی محبوب کو زبان سے یاد کرتا ہے، کبھی دل سے یاد کرتا ہے، ذکر ِلسانی اور ذکر ِقلبی،اور دونوں ہی ضروری ہیں: اَلَّذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰي جُنُوْبِھِمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اپنی فکر بواسطہ مخلوق کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے اسی لئے دیاہے کہ دنیا کی مخلوقات کا تصور کیا جاسکتا ہے لیکن اللہ کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔اصغر گونڈویh کا شعر ہے؎ میرے سوالِ وصل پہ پیہم سکوت ہے بکھرا دئیے ہیں کچھ مہہ و انجم جواب میں

51:59) کھڑے بیٹھے لیٹے اللہ کو یاد کرتے ہیں۔۔الذين يذكرون الله قياما وقعودا وعلى جنوبهم ويتفكرون

53:12) اللہ کے گھر خانہ کعبہ میں حسین لڑکوں اور لڑکیوں سے جان لڑا کر نظر کی حفاظت کرنی ہے اور مدینہ شریف میں اور زیادہ کرنی ہے۔۔

53:52) تین باتیں جو حافظے کو بڑھاتی ہیں۔۔۔

54:57) نکالو یاد حسینوں کی دل سے اے مجذوبؔ خدا کا گھر پئے عشقِ بتاں نہیں ہوتا بس اگر اللہ کو چاہتے ہو تو غیراللہ کو نکالو۔ لا الٰہ ہے مقدم کلمۂ توحید میں غیرِ حق جب جائے ہے تب دل میں حق آجائے ہے

56:20) بکھرا دئیے ہیں کچھ مہہ و انجم جواب میں سوال ِدیدار پر سکوت فرما کرچاند، سورج،اپنی نشانیوں کو بکھیر دیا کہ کچھ دن ان کو دیکھ کر تسلی کرلو، نیک عمل کرلو،گناہوں سے بچنے کی مشقت اُٹھا لو، پھر جنت میں ہماری ملاقات سے مشرف ہوگے۔ ارشاد فرمایا کہ حضرت خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ صاحبh نے خانقاہ تھانہ بھون کو، تھانہ بھون کے رِندوں کو، تھانہ بھون کے مستوں کو اور شرابِ محبتِ الٰہیہ کے عاشقوں کو اس طرح سے تعبیر کیا ہے؎ میں اب بادہ نوشوں میں جاکر رہوں گا میں جینے کا اب کچھ مزہ چاہتا ہوں یعنی اللہ والوں میں رہوں گا،مراد یہاں بادۂ معرفت ہے۔ گھارو میں فرمایا کہ یہ (احقر) پہلے صاحب پیچ و خم تھے اب صاحب ِجامِ جم ہیں۔ جو دل اللہ والا ہوجاتا ہے وہ جامِ جم سے بہتر ہے۔

59:05) تعلیمِ قرآن میں شان ِرحمت کی تلقین: اَلرَّحْمٰنُ..علَّمَ الْقُرْاٰنَ تعلیمِ قرآن میں رحمت کی شان ہونی چاہیے فتِ رحمٰن نازل فرماکر قیامت تک قرآن ِپاک کے تعلیم دینے والوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کردی کہ میں اَلرَّحْمٰنُ نازل کررہا ہوں، ننانوے میں سے اٹھانوے نام چھوڑ کر اَلرَّحْمٰنُ کیوں نازل کررہا ہوں؟ تاکہ بچوں کو جب پڑھائو شان ِرحمت غالب رکھنا،ہڈی مت توڑو، قصائیوں کی طرح مت پڑھائو۔ یہ تقریر میرے مرشد شاہ عبدالغنی پھولپوریh کی ہے کہ بچوں کے استاد اس قدر مارتے ہیں کہ پھر وہ بچہ خود بھی بھاگتا ہے، دسیوں کو بھگادیتا ہے کہ مدرسوں میں مت جانا، قصائی بیٹھے ہوئے ہیں۔