مجلس۱۵    جون     ۲ ۲۰۲ء  فجر :روحانی حیات صحبت اہل اللہ پر موقوف ہے ! 

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:46) عاشقوں کی قوم پر دو مجلس ہوئی مختصر ہوئیں اب صحبت اہل اللہ کتاب ہے حضرت والا رحمہ اللہ کی ۔۔

02:15) اگر اہل محبت بھی بے وفا ہوتے تو مُرتدین کے مقابلہ میں یہ آیت ’’یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘نازل نہ ہوتی۔’’یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت فرمائیں گے اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کریں گے۔ دو من طاقت والے پہلوان کے مقابلہ میں ڈیڑھ من طاقت والا پہلوان نہیں لایا جاتا بلکہ ڈھائی من کا لایاجاتا ہے۔ لہٰذا انتہائی بے وفا قوم کے مقابلہ کے لیے انتہائی وفادار قوم اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی۔ اس آیت سے ثابت ہوا کہ اہل محبت کبھی مُرتد نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا اہل ارتداد کا مقابلہ اس آیت میں اہل وفا سے ہوا ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ قوم جس کی صفت ’’یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ‘‘ہے یہ اہل وفا ہے۔ اس قومیت کے عالم میں جتنے افراد ہوں گے وہ کبھی مُرتد نہیں ہوں گے، بے وفا نہیں ہوں گے، اللہ کا دروازہ نہیں چھوڑیں گے اور نبی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ جو مُرتد ہوئے وہ پہلے نبی ہی سے بھاگے۔ جس نے نبی کو چھوڑ دیا اس نے اللہ کو چھوڑ دیا۔ اسی طرح اہل محبت اپنے مرشد کو چھوڑ کر نہیں بھاگتے، مرشد سے بھاگنے والے بھی بے وفا ہوتے ہیں۔ جن کے دل میں اللہ کی محبت نہیں ہوتی ان کے دل میں اہل اللہ کی محبت بھی نہیں ہوتی اور جس کے دل میں اہل اللہ کی محبت نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت نہیں کرتے۔ اللہ کے پیاروں کے صدقہ میں اللہ کی محبت نصیب ہوتی ہے، جو نبی پر ایمان نہیں لائے کیا اللہ نے ان سے محبت کی؟ ابو جہل اور ابو لہب سے اللہ نے محبت کی؟ نبی پر ایمان نہ لانے سے اللہ کے غضب کے مورد ہوئے اور ان کی دنیا اور آخرت تباہ ہوگئی۔ اسی طرح جو نائبین رسول سے، اہل اللہ اور مشایخ سے محبت نہیں رکھتے اللہ کی محبت و عنایت سے محروم رہتے ہیں اور جو ان سے محبت کرتے ہیں ان کو اللہ کی محبت نصیب ہوجاتی ہے۔

04:53) جس کو اپنے استاد اور شیخ سے جتنا حُسنِ ظن ہوگا اُتنا فائدہ ہوگا۔۔

05:47) ایک بادشاہ نے مدرسہ بنوایا الخہ۔۔۔

08:31) چندے کے آداب کو بھی سیکھنا چاہیے۔۔۔

12:38) سب سے پہلے تو کسی مربی اور شیخِ کامل سے تعلق کامل ہونا چاہیے اور اس کی صحبت میں اس طرح رہے کہ کچھ دن تسلسل کے ساتھ اس کے ساتھ رہ لے۔ حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جیسے انڈا مسلسل اکیس دن جب مرغی کے پروں میں رہتا ہے تب اس میں جان آتی ہے۔ اگر کچھ دن مرغی کے پروں میں انڈا رکھ دو، پھر یا مرغی کو بھگا دو یا انڈا اُٹھا لو تو انڈے میں بچہ پیدا نہیں ہوگا۔ جس طرح انڈے میں جسمانی حیات کے لیے ایک مدت تک مرغی کے پَروں میں رہنا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ مردہ زردی حیات پاکر بچہ بن جائے اور پھر وہ چونچ سے چھلکے کی سیل توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح کم سے کم چالیس دن مسلسل کسی اللہ والے کی صحبت میں رہ لو مگر اس طرح کہ خانقاہ کی حدود سے پان کھانے کے لیے بھی نہ نکلو۔ چالیس دن بالکل اپنے کو خانقاہ میں محصور کرلو تو اللہ تعالیٰ پھر ایک روحانی حیات عطا فرماتے ہیں جس کو نسبت کہتے ہیں۔

19:53) تو مکمل از کمالِ کیستی تو مجمل از جمالِ کیستی اے مولانا اشرف علی ! تو کس کے کمال سے مکمل ہوا ؟ اور عشقِ الٰہیہ کا جمال تجھے کہاں سے حاصل ہوا ؟ حضرت وا لا نے بھی اس بیرسٹر کو فا رسی میں جواب دیا ؎ من مکمل از کمالِ حاجیم من مجمل از جمالِ حاجیم یہ سب حاجی امداد اللہ صاحب،میرے پیر و مرشد کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔

20:20) جو اکڑا اُ س کو علم ملا ہی نہیں۔۔۔

21:43) خودی جب تک رہی اس کو نہ ڈھونڈ پایا جب اس کو ڈھونڈ پایا خود عدم تھے تمہاری کیا حقیقت تھی میاں آہ یہ سب امداد کے لطف و کرم تھے

23:25) دعا کا مضمون جہاں رکا تھا اُس سے آگے بیان ہوا۔۔۔

29:27) جان دے دیں لیکن اللہ کو ناراض نہیں کریں۔۔