مجلس۱۴    جون     ۲ ۲۰۲ء  عصر  :خوش نصیب وہ ہیں جن سے اللہ راضی ہو   ! 

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

03:25) ہم تک دین کیسے پہنچا؟صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ذریعے۔۔۔

03:27) الہامات ربّانی:اسی طرح اگر آج ہمارے دل میں بھی اللہ کی بڑائی اُتر جائے جیسے حضرات ِصحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں میں اُتر گئی تھی تو ہمیں بھی اللہ کے لئے اپنی جانیں سستی نظر آئیں۔ لیکن آج ہم زبانوں سے تو کہتے ہیں اللہ اکبر! اللہ سب سے بڑا ہے مگر ہمارا عمل گواہی دیتا ہے کہ ہمارے دلوں میں ہماری دکانیں اللہ سے بڑی ہیں۔۔۔

05:10) پریشانی کا ایک ہی حل ہے بس اللہ تعالیٰ کو خوش کریں۔۔۔ایک نوجوان کا واقعہ۔۔۔

08:08) کیا ہمارا مال اللہ سے بڑا ہے،بیوی بچے اللہ سے بڑے ہیں کیونکہ ان چیزوں کا جب اللہ کے حکم سے مقابلہ ہوتا ہے تو ہم ان کی خاطر اللہ کے حکم کو توڑ دیتے ہیں۔مثلاً نمبر۱:دکان پر گاہک کھڑے ہیں اور اذان ہوچکی ہے، جماعت تیار ہے،اب حساب لگاتے ہیں کہ اگر مسجد جائوں گا تو اس وقت پانچ سو روپے کا نقصان ہوجائے گا لہٰذا جماعت چھوڑدی کہ بعد میں جب گاہکوں سے فارغ ہوجائوں گا تو تنہا نماز پڑھ لوں گا۔ تو ہم نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ ہمارے نزدیک مال خدا سے بڑا ہے۔

09:10) نمبر۲:ایسے ہی بیوی سے باتوں میں مزہ آرہا ہے،اتنے میں اذان ہوگئی ،نفس کہتا ہے کہ بیوی کے جو موتی جیسے دانت چمک رہے ہیں اس کو چھوڑ کر مسجد کیسے جائوں؟ اُس وقت یہ بھی خیال نہیں آتا کہ آج جو دانت موتی کی طرح چمک رہے ہیں، ایک دن قبر میں منہ سے باہر پڑے ہوں گے۔نمبر۳: بچہ نے ضد کی کہ تصویر والا کھلونا خریدوں گا، خیال آیا کہ اگر تصویر والا کھلونا اس کو دیا تو اللہ ناراض ہوجائے گا لیکن اگر نہ خریدا تو بچہ کا دل ٹوٹ جائے گا لہٰذا بچہ کا دل نہ توڑ سکے، اللہ کا حکم اور اللہ سے محبت کا رشتہ توڑ دیا اور عملاً بتا دیا کہ ہمارا بچہ خدا سے بڑا ہے۔

10:41) خوش نصیب وہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی صرف ہماری زبانوں پر ہے ،حلق سے نیچے نہیں اُتری، دل میں عظمت ِالٰہیہ کا رسوخ نہیں ہوا۔ اللہ کی عظمت جب دل میں اُتر جائے گی تو جان دینے کے لئے تیار ہوجائو گے۔ آج کہتے ہیں کہ صاحب! حرام مال چھوڑنا بڑا مشکل کام ہے۔ ایک دوست جو حرام آمدنی میں مبتلا تھے،ان سے میں نے کہا کہ بھئی! کب تک حرام کھائو گے، ایک دن مرنا ہے،اگر ایک ہزار روپے حرام کے کما رہے ہو تو حلال ملازمت پانچ سو کی کر لو،یہ پانچ سو حرام کے ایک ہزار سے بہتر ہے، تو کہتے ہیں کہ بات تو آپ کی ٹھیک ہے مگر مکھن کی ٹکیہ اور انڈے پراٹھے کے بغیر تو میرا لقمہ حلق سے ہی نہیں اُترتا۔آہ!سُوکھا لقمہ تو حلق سے نہیں اُترتا لیکن دوزخ کے انگارے اُتارنا ان کو آسان ہے!

13:20) اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی نظر میں دنیا کی حقیقت بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ اعلیٰ معیار کی زندگی اختیار کرنی چاہیے، معیار ِ زندگی بلند ہونا چاہیے،اور مالداروں کی دولت کو دیکھ کر رال ٹپکاتے ہیں، جیسے قارون کی دولت کو دیکھ کر بعض بے وقوفوں نے کہا تھا کہ یہ بڑا خوش نصیب آدمی ہے: ﴿قَالَ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا يٰلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ قَارُوْنُ لا اِنَّهٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ ؁﴾ (سورۃ القصص:آیۃ ۷۹) ترجمہ:کہنے لگے جو لوگ طالب تھے دنیا کی زندگی کے اے کاش!ہم کو ملے جیسا کچھ ملا ہے قارون کو ،بے شک اس کی بڑی قسمت ہے۔( بیان القرآن) کاش! ہم بھی اس جیسے ہوجاتے، لیکن جو اللہ والے تھے انہوں نے کہا کہ تم پر ہلاکت ہو: ﴿وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللہِ خَيْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًاج ﴾ (سورۃ القصص:آیۃ ۸۰) ترجمہ:اور بولے جن کو ملی تھی سمجھ اے خرابی تمہاری!اللہ کا دیا ثواب بہتر ہے ان کے واسطے جو یقین لائے اور کام کیا بھلا۔( بیان القرآن) مال و دولت خوش نصیبی کی علامت نہیں ہے، خوش نصیب وہ ہے جس سے اللہ راضی ہے۔ پھر وہی قارون جو پیغمبر حضر ت موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا، جب مع اپنے خزانوں کے زمین میں دھنسنے لگا، اس وقت تعریف کرنے والوں کی آنکھیں کھلیں،اور پناہ مانگنے لگے کہ واقعی اللہ کی رضا سب سے بڑی نعمت ہے، مال و دولت کچھ نہیں۔

18:06) حضورﷺ فرماتے ہیں کہ پوری دنیا ملعون ہے (یعنی اللہ کی رحمت سے دور ہے) اور جو کچھ دنیا و مافیہا، اس کے درمیان میں ہے وہ بھی اللہ کی رحمت سے دور ہے سوائے ذکر اللہ کے اور سوا اُن چیزوں کے جو ذکر سے متعلق ہیں،اور سوائے عالم اور طالب علم کے۔ اس کا مطلب کوئی یہ نہ سمجھے کہ مطلق مال و دولت ملعون ہے، ورنہ جس کے دل میں مال کی محبت ہے اس کو میری اس تقریر سے دین ہی سے نفرت ہوجائے گی،مال و دولت وہ ملعون ہے، جو اللہ سے غافل کر دے ورنہ جو غنا و ثروت تقویٰ میں حائل نہ ہو، وہ بُرا نہیں ہے۔

20:00) حضورﷺفرماتے ہیں: ((لَا بَاْسَ بِالْغِنٰى لِمَنِ اتَّقَى اللّٰهَ عَزَّ وَ جَلَّ ۔ رواہ احمد)) جو شخص غنا و دولت کو اللہ کی نافرمانی میں خرچ نہیں کرتا اور متقی ہے، اس کے لئے دنیا کچھ مضر نہیں۔ دنیا سانپ ہے، اگر سانپ ہاتھ میں لینا ہے تو منتر بھی سیکھ لو، صحابہyنے بادشاہت بھی کی لیکن ان کی بادشاہت ان کو اللہ سے غافل نہ کر سکی، دنیا کے سانپ کا نشہ ان پر نہ چڑھ سکا کیونکہ ان کے پاس اس کا منتر تھا، وہ منتر کیا تھا؟﴿يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْهِ الْقُلُوْبُ وَالْاَ بْصَارُ؁ ﴾ (سورۃ النور: آیۃ ۳۷) کیونکہ وہ اس دن سے ڈرتے تھےکہ جس دن دل اور آنکھیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی ۔