مجلس۱۸    جون     ۲ ۲۰۲ء  عصر    : الہامات ربانی سے تعلیم      !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

01:36) تقویٰ نام ہے کفُ النفس عن الھوی یعنی گناہوں کے خیا لات آئیں اور اُن پر عمل نہ کریں۔۔۔

01:37) الہامات ربّانی:ہمارے پاس سانپ تو ہے، منتر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اذان ہو رہی ہے اور سو رہے ہیں، اذان ہورہی ہے اور ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہیں،پانچ سو کی حلال کی نوکری مل رہی ہے اور ایک ہزار کی حرام کی مل رہی ہے تو ہم پانچ سو کی چھوڑ دیں گے، ایک ہزار کی حرام ملازمت کرکے اللہ کے قہر کو اپنے اوپر حلال کرلیں گے، حالانکہ حضورﷺفرماتے ہیں:کہ وہ جسم جنت میں نہ جائے گا جو حرام روزی سے پلا ہوگا۔ اور حضرت ابوہریرہtمسجد ِنبوی کے منبر کے پاس بھوک سے بے ہوش ہو کر گر گئے تھے:لوگ یہ سمجھ کر کہ ان پر جن چڑھ گیا ہے، ان کا گلا پائوں سے دبا رہے تھے جبکہ وہ فرماتے ہیں کہ میں بھوک سے بے ہوش ہو گیا تھا،اس کے باوجود بھی انہوں نے اپنا پیٹ حرام سے نہیں بھرا۔ہمیں تو فاقے بھی نہیں ہو رہے ہیں، دونوں وقت روٹی مل رہی ہے، پھر کیوں حرام کی روزی کی طرف جاتے ہو؟ اگر حرام روزی سے بچنے میں بکرے کا گوشت نہیں ملتا تو بڑے کا کھا لو،بڑے کا نہیں ملتا تو مرغی کا گوشت کھالو، اگر مرغی بھی نہیں ملتی تو چٹنی روٹی سے زندگی کو باقی رکھا جا سکتا ہے۔ دنیا کے دن ہیں، صبح و شام ہو رہے ہیں، گذر جائیں گے لیکن انڈے اور مکھن کے لئے اللہ کا قہر نہ مول لو ۔

05:46) کیا رسول اللہﷺکو اپنی اولاد سے محبت نہیں تھی؟انبیاء و اولیاء کو اپنی اولاد سے بہت محبت ہوتی ہے کیونکہ اللہ کے ذکر سے ان کا دل نرم ہوتا ہے، اس لئے ان کو اپنی اولاد سے بہت زیادہ محبت ہوتی ہے،اس کے باوجود نبی کریمﷺنے اپنی اولاد کے لئے کیا مانگا؟(مشکٰوۃ المصابیح : (قدیمی) ؛ کتاب الرقاق ؛ص ۴۴۰) اے اللہ! محمدﷺ کی آل کو بس اتنی روزی دے دیجئے کہ جس سے زندگی گذر سکے اور کسی کی محتاج نہ ہو،نہ اتنی کہ جس سے موٹے ہوجائیں۔ اگر دنیا کچھ اچھی چیز ہوتی تو رسول اللہﷺیہ مانگتے کہ اے اللہ!میری اولاد کو کار اور بنگلے اور مرغ کی بریانیاںو شامی کباب عطا فرما،لیکن نہیں۔ایک جہاد میں ایک صحابی کو اتنا مال ِغنیمت ملا کہ تھوڑی دیر میں انہوں نے اس کو فروخت کر کے بہت بڑا منافع کما لیاتو آپﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تجھے اس سے زیادہ منافع بخش بات نہ بتائوں؟عرض کیا وہ کیا ہے؟فرمایا دورکعت نماز نفل پڑھنا اس نفع سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔تمہارا بہت مال کما لینا اتنا قیمتی نہیں ہے جتنا یہ قیمتی ہے کہ تمہارا سر اور اس بارگاہ ِپاک کا دَر ہو۔ حدیث شریف میں ہےکہ جس وقت بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کا سر رحمٰن کے قدموں پر ہوتا ہے۔ نماز میں ہمارا دل اِدھر اُدھر رہتا ہے، اس کا تصور نہیں ہوتا کہ اس وقت ہمارا سر کہاں رکھا ہوا ہے؟ اگر ذرا سا یہ تصور کر لیں کہ اس وقت ہمارا سر اللہ کے قدموں پر ہے تو سجدے میں مزہ آجائے۔

08:33) حضر ت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ دوستوں !جب سردی میں ایک کافی جسم کو گرم کر دیتی ہے تو کیا حرام مال کا جسم پر اثر نہیں ہوگا؟۔۔۔۔

11:05) تو میں عرض کر رہا تھا کہ حرام آمدنی سے بچو ۔ایک آدمی حرام میں مبتلا ہو اور پھر بجائے ندامت کے اس کو جائز بھی سمجھتا ہو تو یہ بہت بڑی جرأت ہے، جیسے ایک عورت سے کسی عورت نے پوچھا کہ اے بی! تمہارے شوہر کی تنخواہ کتنی ہے؟ کہنے لگی کہ تنخواہ تو ڈیڑھ سو ہے لیکن ماشاء اللہ! بالائی آمدنی بہت زیادہ ہے۔ رشوت پر نعوذ باللہ!ماشاء اللہ کہہ رہی ہے،شراب پر اگر کوئی بسم اللہ پڑھ لے تو فقہاءفرماتے ہیں کہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز پر بسم اللہ پڑھنا اللہ کے ساتھ استہزاء ہے۔ اسی طرح سودی قرضے لے لے کر مکان بناتے ہیں اور پھر اس پر لکھتے ہیں ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ اس سے بہتر تھا کہ گناہ پر نادم ہی رہتے تو اُمید تھی کہ مغفرت ہو جاتی،ندامت میں جذب ِرحمت کی خاصیت ہے لیکن حرام پر فَضْلِ رَبِّيْ کہہ کر ایمان کو بھی ضائع کر رہے ہیں۔

14:02) گھروں پر بسم اللہ یا کوئی آیت لکھ دیتے ہیں اس میں بہت بے ادبی ہوتی ہے ۔۔۔ا س کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔۔۔

16:28) ہماری مشین اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے یہ کیسے چلے گی؟اللہ تعالیٰ کی یاد سے ،آپﷺ کے طریقوں پر عمل کرنے سے۔۔۔

17:11) بزرگوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ کوئی حرام آمدنی میں مبتلا ہے تو ایک دَم سے نہ چھوڑ ے کیونکہ ابھی تو گناہ ہی میں مبتلا ہے، اگر متبادل انتظامِ معاش کے بغیر ہی چھوڑدیا تو خوف ہے کہ کفر میں مبتلا ہوجائے گا،یعنی جب معاش کی تنگی سے پریشان ہوگا تو خوف ہے کہ کفر نہ بَک دے۔