مجلس۲۰    جون     ۲ ۲۰۲ء عصر  :الہامات ِ ربانی سے تعلیم   !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

03:47) الہامات ربّانی:سرور ِعالمﷺ کی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تین نصیحتیں اس وجہ سے بزرگوں نے فرمایا کہ جب تک حرام روزی میں مبتلا ہے، دو رکعت پڑھ کر سجد ے میں سر رکھ دے اور گڑ گڑا گڑگڑا کر دعا مانگے کہ اے اللہ! مجھے حلال روزی عطا فرما،اور صرف گڑ گڑا نے ہی سے کام نہیں بنے گا بلکہ تلاش بھی کرتا رہے، ملازمت کی جگہوں پر کوشش کرتا رہے،اگر حرام آمدنی مثلاً ایک ہزار کی ہے اور حلال کی صرف پانچ سو کی مل رہی ہے تو فورا ًچھوڑ دو۔ اب سوال یہ ہے کہ آمدنی کم ہوجائے گی تو بچوں کے پیوند لگ جائیں گے،تو سنو!اگر تمہاری اولاد کے کپڑوں پر پیوند لگ جائیں گے تو تمہاری اولاد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ قیمتی نہیں ہے،اگر ان کے پیوند لگ سکتے ہیں تو تمہارے بچوں کے پیوند لگ گئے تو کیا ہوا؟

04:47) حضورﷺنے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے فرمایا : کہ اے عائشہ! اگر جنت میں میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو دنیا میں ایسے رہنا جیسے مسافر رہتا ہے،دل کو دنیا سے اچاٹ رکھنا اور مالداروں کے پاس کم اُٹھنا بیٹھنا( تجربہ ہے جو لوگ مالداروں کے پاس بیٹھتے ہیں ہمیشہ ناشکری میں مبتلا رہتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ اس کا بنگلہ پانچ سو گز کا ہے، میرے پاس صرف اسّی گز کا ہے تو دل میں شیطان شکایت ڈال دیتا ہے کہ اس کو اللہ نے اتنا دیا،مجھے کچھ نہیں دیا۔) اور تیسری نصیحت یہ فرمائی کہ کپڑے کو پرانا نہ سمجھنا جب تک پیوند نہ لگا لینا۔آپ کے بھانجے حضرت عروہt فرماتے ہیں کہ خالہ جان اس نصیحت پر اتنا عمل فرماتی تھیں کہ جب تک اپنے کپڑوں کو بوسیدہ کر کے ان پر پیوند نہ لگا لیتی تھیں تب تک نیا کپڑا نہیں بنواتی تھیں جبکہ سخاوت کا یہ حال تھا:لَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَصَدَّقَتْ بِسَبْعِيْنَ اَلْفَ دِرْهَمٍ وَّ اِنَّهَا لَتُرَقِّعُ جَانِبَ دِرْعَهَا کہ میں نے دیکھا کہ ایک مرتبہ ایک دن میں ستّر ہزار درہم ضرورت مندوں میں تقسیم کر دئیے اور خود اس دن بھی اپنے کپڑوں میں پیوند لگا رہی تھیں۔

08:18) حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس سنت پر اُس وقت عمل کرنا چاہیے جب شوہر گھر میں نہ ہو۔۔۔

09:24) اب بتائو! کس کا درجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے بلند ہے کہ جو پیوند لگانے میں بے عزتی محسوس کرتا ہے۔اگر آج ہم طے کر لیں کہ چاہے دم نکل جائے، چاہے فاقے ہوجائیں،چاہے کپڑوں پر پیوند لگیں لیکن ہم اللہ کو ناراض نہیں کریں گے تو ساری مشکلیں آسان ہو جائیں گی۔ آج ہمیں معمولی معمولی حکموں پر عمل کرنے میں مشکلیں نظر آتی ہیں، اپنی جانوں کو ہم ذرا بھی اللہ کی راہ میں تکلیف دینا نہیں چاہتے اور صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین تھے کہ کلیجہ میں تیر لگ رہا ہے مگر ہائے نہیں کہتے، کہہ رہے ہیں: کعبہ کے رب کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔ آج بھی مدینہ منورہ میں احد کے دامن میں ستّر شہیدوںکا لہو گواہی دے رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے پیارے ہیں کہ ان پر جان دینا آسان ہے اور جان ان کے سامنے بے قیمت ہے۔وہ خون کے قطرے بڑے قیمتی ہیں جو خدا کی راہ میں گریں،ایسے ہی وہ آنسو بڑے قیمتی ہیں جو اللہ کے لئے گریں، وہ پسینہ کے قطرے بڑے قیمتی ہیں جو خدا کی راہ میں گریں۔ اللہ کی قیمت سمجھ لو

10:52) اگر اللہ کو پانا ہے تو قربانیاں اور کچھ ایثار کرنا پڑے گا۔ کیا دنیا جیسی حقیر شے بے مشقت مل جاتی ہے؟

13:12) دنیا کمانے کے لئے بھی پسینہ گرانا پڑتا ہے تب دنیا ملتی ہے۔ دودھ والوں کو دیکھو کہ رات کو بارہ بجے اُٹھ جاتے ہیں، ہمیں تہجد پڑھنا مشکل ہے اور ان کو بارہ بجے دودھ کے لئے اُٹھنا کیوں آسان ہوگیا؟ اس لئے کہ پیسوں پر یقین ہے اور آخرت پر یقین نہیں۔ اگر یقین پیدا ہوجائے تو آخرت کے اعمال، تہجد، نماز، روزہ، گناہوں سے بچنا،نفس سے جہاد کرنا سب آسان ہوجائے۔