مجلس ۱۰ستمبر       ۲ ۲۰۲ءفجر:بدنظری حرام ہے    !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

03:04) معرفت الٰہیہ:حضرت والا ؒ بڑے محقق عارف تھے ،اور حد درجہ حق پر ست تھے ،حضرت کے یہاں پہلے ضابطہ تھا کہ جب کوئی نو وارد آئے تو بدون سوال کئے ہو ئے خود بتادے کہ میں فلاں ہوں ،فلاں جگہ سے آیا ہوں ،اورفلاں مقصد کے لئے حاضر ہوا ہوں ،لیکن جب حضرت والا کی نظر مبارک سے یہ حدیث گذری کہ بالداخل دھشۃ فتلقونہ بمرحبا (للدیلمی)نئے آنے والے کو اجنبیت کے سبب ایک قسم کی حیرت زدگی یعنی بدحواسی ہوتی ہے سو اس کو آئو بھگت کر لیا کرو۔تاکہ اس کی طبیعت کھل کر مانوس ہو جائے ،اورحواس بجا ہو جاویں اورہر قول و فعل کاموقع سمجھ کر نہ خود پریشان ہو نہ دوسرے کو پریشان کرے۔ حضرت والا نے تحریر فرمایا ہے کہ یہ حدیث میری نظر سے اس وقت گذری جبکہ میری عمر ۷۱ سال کو پہنچ چکی ،اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کی برکت سے مجھے توفیق عطا فرمائی کہ اب آنے والے سے میں خود اس کا مقام اورغرض آمد اور اس مقام میں جو مشغلہ تھا اس کو پوچھ لیا کرتاہوں ،اس سے ضروری حالت معلوم ہو جاتی ہے ۔اوروہ مانوس ہو جاتا ہے ۔ کیسی حق پرستی تھی کہ اپنا کچا چٹھا سب بیان فرما دیا ،اہل حق یہی شان ہوتی ہے کہ خلق سےنظر اٹھ جاتی ہے صرف رضا حق مقصود ہوتی ہے ۔

03:06) بدنظری حرام ہے۔۔۔ایک سنیار کا واقعہ۔۔۔

08:12) بے ریش لڑکوں سے تنہائی حرام ہے یہ لڑکیوں کے حکم میں ہیں۔۔۔

10:02) فاعل اور مفعول ایک دوسرے کی نظر میں ذلیل ہوجاتے ہیں۔۔۔

11:33) اللہ نے ہمیں باربار گناہ یاد کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا۔۔۔

12:20) حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رحمۃ اﷲ علیہ اپنے حجرۂ تصنیف میں جب تفسیر بیان القرآن تحریر فرمارہے تھے کہ مولانا شبیر علی صاحب نے ایک لڑکے کو کسی کام سے بھیجا۔ حضرت والا اُس لڑکے کو دیکھتے ہی حجرہ سے باہر آگئے اور اپنے بھتیجے مولانا شبیر علی صاحب سے فرمایا کہ خبردار میرے پاس تنہائی میں کسی لڑکے کو مت بھیجا کرو۔

14:18) آج جو عمل کرتے ہیں ان کو کہتے ہیں کہ کون سا نیا دین لائے ہو۔۔۔

14:57) دل میں لیلی ہے یا مولا ہے؟فیصلہ خود کرنا ہے۔۔۔

17:26) دُنیا جب بُری ہے جب اللہ کو ناراض کیا جائے۔۔۔دُنیا کے حسنہ۔۔۔

19:02) ویڈیو گیم اور فلموں کی تباکاریاں۔۔۔بیٹے نے باپ کو کیا کہا؟۔۔۔

22:29) اور ارشاد فرمایا کہ اب میرے اِس عمل سے ان لوگوں کو سبق مل جاوے گا جو مجھے بزرگ اور حکیم الامت اور کیا کیا سمجھتے ہیں۔ (یعنی جب میں اِس قدر احتیاط کرتا ہوں تو اُن کو کس قدر محتاط ہونا چاہئے۔)

25:53) دُعا کی پرچیاں۔۔۔

دورانیہ 26:48