مجلس ۲۲ ستمبر       ۲ ۲۰۲ء فجر :  حضرت مولانا محمد ایوب سورتی صاحب دامت برکاتہم                !

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

بعد عصر شیخ الحدیث حضرت مولانا ایوب سورتی صاحب دامت برکاتہم کا بیا ن ہو جو لند ن سے کراچی تشریف لائے ہیں اور حضرت کے ساتھ مولانا آصف صاحب بھی تشریف لائے ہیں جو حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کے خلیفہ ہیں شیخ الحدیث حضرت مولانا ایوب سورتی صاحب دامت برکاتہم کے بارے شیخ العرب والعجم حضرت والا مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو کہ مواعظ میں موجود ہیں:۔ ملاوی میں مولانا ایوب سورتی لندن سے میری محبت میں آئے تھے۔ صبح کی سیر کے وقت درختوں کے پاس موٹر گذری تو زمین پر اتنے پھول گرے تھے کہ زمین نظر نہیں آرہی تھی، گل پوش تھی تو میں نے مولانا ایوب کے لیے کہا کہ ؎ بہارو پھول برساؤ، مرا محبوب آیا ہے مولانا ایوب اور محبوب کو دیکھئے تو سمجھ لیجئے کہ یہ کیسے محبوب ہیں، جسم کے اعتبار سے نہیں روحانیت کے اعتبار سے محبوب ہیں۔

اہلِ دنیا جن اشعار کو مجازی فانی محبوبوں کے لیے استعمال کرتے ہیں وہی اشعار میں ﷲ والے دوستوں کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ محبت کے مادّہ کو غلط استعمال کرو تو محبوبانِ مجازی پر فدا ہونے لگتاہے اور صحیح استعمال کرو تو ﷲ پر اور ﷲ والوں پر فدا ہوتا ہے۔ ارشاداتِ دردِ دل۔۔ مولانا ایوب سے مجھے انتہائی مناسبت اور محبت ہے۔ ملاوی میں ایک درخت کے پھول بینگن کے رنگ کے ہوتے ہیں تو سڑک پر بہت سے پھول پڑے ہوئے تھے تو میں نے مولانا ایوب سورتی کے لیے کہا؎ بہارو! پھول برساؤ مراایوب آیا ہے تو مولانا ایوب کی دعوۃ الحق میں جو تعاون کرے گا اپنا مال دے گا تو اختر یہی سمجھے گا کہ اس کا مجھ پر مال خرچ ہوا ہے۔